کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں معذور ہونے والے افرادکے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے ان سے خصوصی طور پر اظہار یکجہتی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے باہر معذور افراد کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی۔
صوبائی وزراء سردار اسلم بزنجو، میر سرفراز بگٹی، شیخ جعفر خان مندوخیل اور عبید اللہ بابت بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعلیٰ نے احتجاج میں شریک معذور افراد سے گفتگو کی اور موقع پر مالی معاونت بھی کی۔ وزیر اعلیٰ نے احتجاج میں شریک افراد کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی بحالی اور ان کو بہ وقار روزگار فراہم کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کریگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں جوں ہی ان کے احتجاج کا علم ہوا وہ ان سے ملنے چلے آئے ، جس پر احتجاج میں شریک معذور افراد نے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ وہ خصوصی طور پرڈیرہ بگٹی سے آئے ہوئے معذور افراد سے اظہار یکجہتی کرنے کے لئے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ہی لوگوں کو پیروں ، آنکھوں اور جسمانی طور پر معذور کرناکہا ں کی انسانیت ہے، ملک سے باہر بیٹھے چند نام نہاد لوگ آزادی کا نعرہ لگاکر اپنے لوگوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔
میں ان سے پوچھتا ہوں اپنے غریب کسان ، کھیٹی باڈی کرنے والے معصوم لوگوں کے راستوں پر بارودی سرنگ بچھا کر ان کو زندگی بھر کے لئے معذور کرناکہا ں کا انصاف ہے،باہر بیٹھیں نام نہاد لوگ آزادی کا نعرہ لگاکر اپنے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نامنیادآذادی پسند اپنے غریب لوگوں کے سروں کا سودا کرکے خو د باہر بیٹھے عیاشیاں کر رہے ہیں اور اپنے لوگوں کو جسمانی طور پر معذور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقومی ادارے خود دیکھ لیں عام لوگ جو کھیتی باڑی اور مال مویشی چراتے ہیں ان کے راستوں پر بارودی سرنگ بچھانا دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے ایسے لوگوں کو دہشت گرد کہنا چاہئے یا ناراض بلوچ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں معذور افراد کی بحالی اور انہیں باعزت روگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اپنے ذمہ داری ہر صورت پوری کریگی۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے ڈیرہ بگٹی سے آئی ہوئی بارودی سرنگ کے دھماکے میں معذور خاتون نے یہاں ان سے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ملاقاات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والی خاتون کو بلوچی رسم ورواج کے مطابق چادر پہنائی اور ان کی مالی مدد کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ،وزیرداخلہ سرفراز بگٹی ، صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو، میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ، ڈپٹی میئر یونس بلوچ اور دیگر نے بھی پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے ملاقات کرکے یکجہتی کا اظہارکیا۔
دریں اثناء ڈیرہ بگٹی ،سوئی، لہڑی اورکوہلو سے تعلق رکھنے والے دہشتگردی سے متاثرہ افراد نے کوئٹہ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں ہاتھوں، ٹانگوں اور آنکھوں سے محروم خواتین، بچوں اور دیگر متاثرہ افراد نے شرکت کی ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کہ کالعدم تنظیمیں راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا کر نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق پریس کلب کوئٹہ کے سامنے ہونیوالے مظاہرے میں70کے قریب متاثرہ افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں شریک افراد معذور افراد ویل چیئر،بیساکیوں اور مصنوعی ٹانگوں کے سہارے چل رہے تھے۔
انہوں نے کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کو بارودی سرنگ دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف نعروں سے مزئن پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں2005سے اب تک بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں اور اتنے ہی زندگی بھر کیلئے اپاہج اور معذور ہوچکے ہیں۔
وہ اپنے ہاتھوں،ٹانگوں، آنکھوں اور دیگر جسمانی اعضاء سے محروم ہوچکے ہیں اب زندگی کا پہیہ دوسرے کے سہارے پر چلارہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں نے ڈیرہ بگٹی،سوئی، سنگسیلہ ، کوہلو ،میوند ،لہڑی،چھتر اور دیگر نواحی علاقوں میں جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں ۔
بارودی سرنگوں کے خوف سے لوگ دوسرے گاؤں یا پھر شہر جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ بچے سکول اور خواتین پانی بھرنے کیلئے بھی نہیں جاسکتیں۔ درجنوں ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ کام پر جاتے ہوئے مرد، لکڑیاں چنتے ہوئے، پانی بھرتے ہوئے خواتین، مویشی چراتے ہوئے نوجوان یا پھر سکول جاتے ہوئے بچے بارودی سرنگ دھماکوں پر چڑھ کر شہید یا زخمی ہوچکے ہیں۔
مظاہرین نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ، ان کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرنے اور بارودی سرنگ کے متاثرہ افراد کو مناسب علاج اور مستقل روزگار کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔
مظاہرے میں ڈیرہ بگٹی کی دس سالہ ذلیخہ بھی ویل چیئر پر بیٹھ کر شریک تھیں جو تین سال قبل بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئیں۔ والد کے سایہ شفقت سے محروم ذلیخہ کا کہنا تھا کہ وہ جانو بیڑی سے گزرتے ہوئے ایک بارودی سرنگ پر چڑھ گئیں دھماکے سے دونوں ٹانگیں کٹ گئیں اب وہ سکول بھی خود نہیں جاسکتیں اور بھائی ویل چیئر پر انہیں سکول لے کر جاتا ہے۔
ذلیخہ کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں دہشتگردوں کی جانب سے بچھائی گئیں بارودی سرنگیں ان جیسے سینکڑوں لوگوں کو نہ صرف اپاہج بناچکی ہیں بلکہ کئی کی جانیں بھی لے چکی ہیں۔ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے علی شیر نے بھی بارودی سرنگ دھماکے میں اپنی دو ٹانگیں اور ایک ہاتھ گنوادیا۔ا ن کا کہنا تھا کہ 2008ء میں بارودی سرنگ دھماکے کے بعد وہ ایک عام آدمی کی بجائے ایک اپاہج کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
دس بچوں کا باپ علی شیر بیروزگاری سے بھی تنگ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متاثرہ افراد کو مستقل روزگار فراہم کرنا چاہیے ۔مظاہرے کی قیادت والے مزاری بگٹی نے بتایاکہ ان کے خاندان کے تین افراد دھماکے میں شہید جبکہ وہ خود اور اس کے بھائی زخمی ہوئے۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ افراد کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی ریلیف۔ متاثرہ افراد بھیڑ بکریاں بیچ کر پنجاب کے ہسپتالوں سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں علاج کی مناسب سہولیات بھی دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارودی سرنگ دھماکوں کے واقعات میں پہلے کی نسبت کمی آئی ہے لیکن اب بھی لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے خوف زدہ ہیں۔ لوگ کچے راستوں پر چلتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں بارودی سرنگ دھماکا نہ ہوجائیں۔
باہر بیٹھے لوگ اپنے ہی لوگوں کومعذوربناکر ان کی سروں کی قیمت لے رہے ہیں، نواب زہری
![]()
وقتِ اشاعت : December 14 – 2017