|

وقتِ اشاعت :   December 19 – 2017

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ خان زہری کی زیرصدارت گذشتہ روز زرغون روڈمیتھوڈیسٹ چرچ پر خود کش حملے کے بعد کی سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشت گردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مزید مؤثر اور نتیجہ خیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا کہ تمام عوامی جگہوں سکولوں، مساجد اور امام بارگاہوں پر حفاظتی اقدامات کو اس حد تک مؤثر بنایا جائیگا کہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی کارروائی کا موقع نہ مل سکے۔

اجلاس میں شہر کے داخلی مقامات پرچیک پوسٹوں کو مزید مضبوط اور فعال بنانے، سیکورٹی فورسز کے گشت میں اضافے اور دیگر امور کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔

کوئٹہ شہر کی سیکیورٹی کے اقدامات کاازسرنوجائزہ لیتے ہوئے انہیں مزید مؤثربنایاجائے گااورتمام متعلقہ ادارے مربوط لائحہ عمل کے تحت دہشت گردوں کے خلاف جاری کاروائیوں کو مزید تیز کریں گے۔

اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پولیس ، ایف سی اورسیکورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے سیکورٹی فورس کا مورال بلند کردیا جس سے ثابت ہوتا ہے کے ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائیاں کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں ایک بہت بڑے دہشت گردی کے واقعہ کو ناکام بنایا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے مختلف حصوں میں مزید ٹراما سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں زخمیوں کو بروقت طبی امداد دیا جاسکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار قابل اور بہادر ہیں جنہوں نے بروقت دہشت گردوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا اور ہمیں مزید اسی جرت سے بچے کچے دہشت گردوں کا مقابلہ کرناہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ روز کے واقعہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں جن میں بلخصوص پولیس ایف سی اور دیگر شامل ہیں کی بروقتکاروائی سے دہشگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آئینی ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کو تحفظ دیں ، عوام نے ہم سے جو امیدیں وابستہ کی ہیں کو ہر صورت پورا کریں گے،حکومت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہر ممکن تعاون کریں گی۔

وزیر علیٰ نے کہا کہ ہم ایک کنفلکٹ زون میں رہتے ہیں ہمیں ہر دم چوکس رہنا چاہئے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دہشت گردوں اوران کے سرپرستوں کے خلاف کاروائی میں بھرپورطاقت کا استعمال کی جائے ،تمام سیکیورٹی فورسز کے مابین اطلاعات کے تبادلے کے نظام کو مزید موثربنایاجائے ۔

اجلاس میں میتھوڈسٹ چرچ دھماکے میں جان بحق افراد کے لئے دعا کی گئی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر حامد اچکزئی، رحمت صالح بلوچ ، چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق، آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری، سیکرٹری داخلہ،ڈی آئی جی کوئٹہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، سیکورٹی ایجنسیوں کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

قبل ازیں آئی پولیس نے اجلاس کو دھماکے کے حوالے بریفینگ دی اور واقعہ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے بیتھل میموریل متھڈسٹ چرچ پر خودکش حملے میں جاں بحق و زخمیوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کردیا ۔

وزیراعلی بلوچستان نے پیر کے روز سول ہسپتال میں خودکش حملے میں زخمیوں کی عیادت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے دوحملہ آوروں کا ہلاک کردیا پولیس نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کو شاباش دیتاہوں ۔

انہوں نے یہ بات پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ اگر خدانخواستہ خودکش حملہ آور چرچ کے اس حال میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے جہاں پر اتوار کے روز مسیح برادری اپنی عبادت کرتے ہیں تو بہت جانی نقصان ہوتا ۔

انہوں نے کہاکہ میں اس پولیس والے کو بھی شاباش دیتاہوں کہ اس نے کافی دیر تک دہشتگردوں کو روکا رکھا اور مقابلہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کو روکنے والے نوجوان کیلئے صدارتی ایوارڈ کی سفارش کرونگا اور اللہ تعالی نے بلوچستان کو بڑی تباہی سے بچالیا ہے۔

پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا دس سے پندرہ منٹ مقابلہ کیا اور اس مقابلے کے بعد یہ بعد واضح ہوگیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کا مورل بہت بلند ہے ہم دہشتگردوں کے سامنے نہ پہلے جھکے ہیں اور نہ آئندہ جھکیں گے جب تک ایک دہشتگرد بھی زندہ ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کا جائے گا ۔

اس موقع پر نواب ثنااللہ زہری نے اعلان کیا کہ حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے جب کہ زخمیوں کو علاج و معالجے کی سہولت کے لیے 5،5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز بیتھل میموریل متھڈسٹ چرچ خودکش حملے میں 4خواتین سمیت 9افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ50سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں بچوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی گئی ہے بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہیں۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں میتھوڈسٹ چرچ پر حملے کے دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے جنگ دہشت گردوں نے شروع کی ہم ختم کریں گے مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں ہم نہ بزدل ہیں اور نہ ڈرنے والے ہیں دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا ۔

فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملادیا آج کی حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہے جبکہ ماضی میں حکومتوں نے مرغی کی طرح آنکھیں بند کرکے دہشت گردوں کو فری ہینڈ دیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ چرچ پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور کالعدم تنظیم داعش نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی اور داعش یہاں کی تنظیموں سے ملکر دہشت گردی کی وارداتیں کررہی ہیں ۔

جو دہشت گرد فورسز کے ہاتھوں مارا گیا ہے وہ شکل و صورت سے ازبک اور تاجک لگ رہا ہے انہوں نے کہا کہ چرچ پر حملے کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کا منہ توڑ جواب دیا اس سے فورسز کا مورال بلند ہوا دنیا میں کوئی خودکش حملہ آور نہیں روک سکتا ۔

تاہم ماضی کے مقابلے میں ہماری فورسز نے کل جو کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہے دہشت گردوں کو افغانستان سے سپورٹ مل رہی ہے اور یہاں دہشت گردوں کو سہولت کار مل جاتا ہے فورسز کے اعلیٰ افسران کے ٹارگٹ کلنگ کے باوجود پولیس اور دیگر فورسز نے جس طرح دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور فورسز کی کامیاب کارروائی کی بدولت دہشت گرد اپنے عزائم تک نہ پہنچ سکے ۔

انہوں نے کہاکہ ہماری انٹیلی جنس کی کوئی ناکامی نہیں ہے اور انٹیلی جنس نے یکم دسمبر کو 4 دہشت گردوں کے داخل ہونے کی اطلاع دی تھی 2 ہزار کلومیٹر بارڈر ہے اس کو کنٹرول کرنا بہت مشکل کام ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی دھمکیاں مل رہی ہیں ہم نہ بزدل ہیں اور نہ دہشت گردوں سے ڈھرنے والے ہیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ آج کی حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہے جبکہ ماضی میں حکومتوں نے دہشت گردوں کے سامنے خاموشی اختیار کر رکھی تھی جس کی وجہ سے ماضی میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے تھے دہشت گردوں نے جنگ شروع کی ہے ہم ختم کریں گے ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔