|

وقتِ اشاعت :   December 23 – 2017

اسلام آباد : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہم برائے فروخت نہیں، امریکہ سے پیسوں کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے ، ہم نے بہت کر لیا، امریکہ اور اس کے اتحادی اب افغانستان میں کارروائی کریں۔

افغانستان میں طالبان کے ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے، ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں ۔ کوئی خطرہ نہیں کشمیر کی جدوجہد آزادی میں تیزی آئی ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی سے دہشتگردوں کی سہولت کاری میں کمی ہو گی۔

پاکستان کے حالات اچھے ہوں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان عسکری ساز و سامان امریکہ سے خریدتا ہے۔ 9/11کے بعد پاکستان اور امریکہ کا تعاون رہا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر افغانستان کی جنگ مسلط کی گئی۔ پاکستان ہمیشہ افغانستان سے تعاون کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جو کام کیا وہ کسی نے نہیں کیا۔ ہم نے اپنے علاقوں سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں ۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان جیسی جنگ کس نے لڑی۔ پاکستان نے امریکہ سے بھرپور تعاون کیا۔

پاکستان نے بہت کر لیا۔ اب امریکہ اور اتحادیوں کی باری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپکستان کے بگیر امریکہ القاعدہ کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ افغانستان سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے۔ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کو مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔

اتحادی فوج کو افغانستان میں طالبان کے ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے۔ افغان فورسز صحیح کام کرے تو پاکستان سے جا کر کون وہاں دہشتگردی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کابل حملے میں سہولت کاری کیسے ہو سکتی ہے۔ سرحد سے ہزاروں میل دور کابل میں پاکستان سے کوئی کیسے حملہ کر سکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ملنیو الے پیسے کولیشن سپورٹ فنڈ کے تھے ہمیں امریکہ کے پیسوں کی ضرورت نہیں ۔ اعتماد کی ضرورت ہے ۔ امریکہ اور دیگر ممالک دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کریں ۔ 

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان کے حالات اچھے ہوں گے۔ افغان پناہ گزینوں کیو اپسی سے دہشتگردی کی سہولت کاری ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے۔ ہم صرف ٹکنیکی معاونت کرتے ہیں۔ 

2017ء میں بھارت نے سب سے زیادہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی بھارت مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی ہے۔ 

آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ امریکہ اس کا انحراف کر چکا ہے۔ اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان پر عمل ہو گا۔