|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2018

واشنگٹن :  ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو 1.1 بلین ڈالر سکیورتی امداد حافظ سعید جیسے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر ناورت نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے متعلق کئی بار اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم پاکستان نے کوئی کارروائی نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کی نظربندی پر پاکستان کو دس ملین ڈالر دیئے گئے تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔

جس پر ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشیدہ حالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ نہ صرف حقانی نیٹ ورک اور طالبان بلکہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشتگرد گروپوں کے معاملے پر بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر بھی ہمارے تحفظات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے ملک کے خلاف کچھ اقدامات پر غور کیا ہے ۔

دریں اثناء پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی امداد معطلی دہشت گردی کے خلاف عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی، پاکستان کبھی بھی پیسے کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے لڑا ہے، سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے رہیں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقا ت عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ترجمان نے اس معاملے پرا پنارد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے ملنے والی سکیورٹی امداد کو روکے جانے کا پاک امریکہ سکیورٹی تعاون اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر یقینی اثر ہوگا۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی پیسے کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے لڑا ہے۔

سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے رہیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا۔

‘خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روکی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو یہ بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ہماری نیت پر شک کیا جانا مایوس کن ہے اور یہ امن اور استحکام کے لیے ہمارے متحدہ مقصد کے لیے نقصان دہ ہے۔پاکستان اپنی مخلصانہ کوششوں کو پاکستان کے پہترین مفاد اور امن کے لیے جاری رکھے گا۔


میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی کہا کہ امریکی اقدامات کے خلاف پاکستانی جواب ملک کی عوام کی توقعات کے عین مطابق ہو گا۔دریں اثناء پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑی جس پر 15 سال میں 120 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی۔

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک امریکہ تعاون کابراہ راستہ فائدہ امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کو پہنچا اور یہ بین الاقوامی برادری کے وسیع تر مفاد میں تھی، افغانستان میں داعش جیسے نئے اور مہلک گروہوں کا ابھرنا بین الاقوامی تعاون بڑھانے کا تقاضا کرتا ہے ، پائیدار امن کی غرض سے اقدامات کو باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ ساتھ تحمل اورتسلسل کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ہم سیکیورٹی تعاون کے معاملے پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے مزید تفصیلات کے منتظر ہیں ۔

ترجمان نے کہا کہ مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے امریکی فیصلے کا اثر وقت کے ساتھ زیادہ واضح انداز میں سامنے آنے کا امکان ہے تاہم اس امر کو سراہا جانا چاہئے کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑی ہے جس پر 120 ارب ڈالر سے زائد رقم 15 سال کے دوران خرچ ہوئی ۔ ہم اپنے شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور خطے کی وسیع تر استحکام کیلئے یہ عمل جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک امریکہ تعاون سے امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کو براہ راست فائدہ پہنچا اور یہ بین الاقوامی برادری کے وسیع تر مفاد میں تھی۔

اس سے القاعدہ کے خاتمے اور ان دیگر گروہوں سے لڑنے میں مدد ملی جومشکل سرحدی علاقے اور حکومتی عملداری کے بغیر علاقوں کا فائدہ اٹھا رہے تھے اور امن کیلئے مشترکہ خطرہ تھے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشتگردی کے بڑے آپریشنز کے ایک سلسلہ کے ذریعے ان تمام علاقوں کو کلیئر کرایا جس کے نتیجہ میں منظم دہشتگردوں کی موجودگی کاخاتمہ ہوا اور پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امن کیلئے ہماری کوششوں کا افغانستان کی جانب سے ویسا ہی جواب ملنے کا انتظار ہے ۔

ان میں سرحد پر افغان سائیڈ پربغیر حکومتی عملداری کے علاقے،دو طرفہ بارڈر مینجمنٹ، افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ، پوست کی کاشت کی روک تھام ، منشیات کی سمگلنگ اور افغانوں کی قیادت میں سیاسی مفاہمت جیسے امور شامل ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پائیدار امن کی غرض سے اقدامات کو باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ ساتھ تحمل اورتسلسل کی ضرورت ہے ۔ افغانستان میں داعش جیسے نئے اور مہلک گروہوں کا ابھرنا بین الاقوامی تعاون بڑھانے کا تقاضا کرتا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یکطرفہ بیانات اور گول پوسٹس کی منتقلی مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے عمل میں نقصان دہ ہیں ۔