کوئٹہ: انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی بعض وفاقی وزراء کے ہمراہ آئندہ 48گھنٹوں میں کوئٹہ پہنچ رہے ہیں۔
جہاں وہ مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی گروپ کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گے ۔
اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے مشاورت کرنے کے ساتھ ساتھ حکمت عملی طے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے اپنی تمام تر توانائی بروئے کار لائیں اور ان لیگ بلوچستان کے پارلیمانی گروپ سے بھی ملاقات کریں جو ناراض لیگی ارکان اسمبلی ہیں ان کے تحفظات اور شکایات کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر بعض لیگی وفاقی وزراء بھی کوئٹہ آرہے ہیں توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ 48گھنٹے میں وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزراء کوئٹہ پہنچ جائیں گے ۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ آمد کے بعد وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صوبائی مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے سربراہان پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل خان بزنجو سے بھی ملاقاتیں کریں گے ۔
اسکے علاوہ وہ مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اور ن لیگ کے مشترکہ پارلیمانی گروپ سے بھی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت کریں گے اور اسے ناکام بنانے کیلئے حکمت عملی طے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں ۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی قیادت بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کو ہر صورت میں ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہے اور اسکی یہ کوشش ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے جو ارکان اسمبلی ناراض ہیں انہیں منایا جائے اور انکی شکایات کو دور کیا جائے ۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی قیادت ان ناراض لیگی ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کررہی ہے ۔ جبکہ وزیراعظم پاکستان کی آمد سے قبل تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ کوئٹہ پہنچ چکے ہیں ۔
جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ نواب زہری کے علاوہ مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیں اسکے علاوہ وہ ن لیگ کے ناراض ارکان سے بھی رابطے کررہے ہیں ۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 9جنوری سے قبل بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے ہفتہ کے روز مصروف دن گذارا ان سے وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنر(ر) عبدالقادر بلوچ نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر سنیٹر نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر سیفران لیفٹننٹ جنرل(ر)عبدالقادر بلوچ نے انہیں اپنی اور وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہحکومت جمہوری اداروں کو جمہوری انداز میں چلانے کی خواہاں ہے ۔
جمہوریت کی بقاء اور ملک کی موجودہ صورتحال کے مطابق ہمیں آپس کے اتحاد و اتفاق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی ایسے غیر جمہوریاا قدام سے گریز کیا جائے جس سے جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کا خدشہ ہو۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سے بعدازاں صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے بھی ملاقات کی اس موقع پر وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ بھی موجود تھے۔
ملاقات کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے صوبائی وزراء سردار اسلم بزنجو، نواب محمد خان شاہوانی، رحمت صالح بلوچ، اور رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی شامل تھیںُ جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماو صوبائی وزیر نواب ایاز خان جوگیزئی نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ۔
اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیاگیا کہ کہ کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ذاتی مفاد کو جمہوری عمل پر ترجیح دیں گے ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ جمہوریت کی بقاء اور استحکام کیلئے ہر سازش کو ناکام بنانے میں اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔