کوئٹہ: بلوچستان کے قومی اسمبلی کے 16حلقوں میں سے 5نشستوں پر متحدہ مجلس عمل ، 3نشستوں پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے ، 2 نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف جبکہ آزاد امیدوار ، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کرلی ۔
پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو حلقہ این اے 263اور حلقہ این اے 265پر متحدہ مجلس عمل اور پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواران سے شکست ہوگئی ۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 257قلعہ سیف اللہ کم ژوب کم شیرانی سے متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالواسع نے کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ حلقہ این اے 258لورالائی کم موسیٰ خیل کم زیارت کم دکی کم ہرنائی سے بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد اسرار ترین نے کامیابی حاصل کی ہے۔
حلقہ این اے 259ڈیرہ بگٹی کم کوہلو کم بارکھان کم سبی کم لہڑی سے کامیاب ہونے والے امیدوار کے متعلق آخری اطلاعات تک صورتحال واضح نہیں ہوسکی تھی پہلے بلوچستان عوامی پارٹی کے حیر بیار خان ڈومکی پھر آزاد امیدوار طارق کھیتران اور آخر میں شاہ زین بگٹی کی کامیابی کی افواہیں زیر گردش رہی ، حلقہ این اے 260نصیرآباد کم کچھی کم جھل مگسی کے نتائج کا بھی ابھی انتظار ہے ۔
جبکہ حلقہ این اے 261جعفرآباد کم صحبت پور سے پاکستان تحریک انصاف کے میر خان محمد جمالی کے کامیاب ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہے ، حلقہ این اے 262پشین سے متحدہ مجلس عمل کے مولوی کمال الدین پشتونخوا میپ کے عیسیٰ خان روشان اور پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے ملک عبدالقیوم کاکڑ کو شکست دے کر بھاری مینڈیٹ سے کامیاب ہوگئے ہیں ۔
حلقہ این اے 263قلعہ عبداللہ میں متحدہ مجلس عمل کے مولوی صلاح الدین نے پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کردیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 264کوئٹہ Iسے متحدہ مجلس عمل کے مولانا عصمت اللہ نے 14ہزار 8سو 87ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ان کے قریب ترین بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک عبدالولی کاکڑ رہے جنہوں نے 10ہزار 71ووٹ لئے ، پاکستان تحریک انصاف کے سیف اللہ خان نے 10ہزار 53ووٹ لے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ پشتونخوا میپ کے ملک عبدالرحمن بازئی نے 8 ہزار 9سو 80ووٹ لیکر چوتھی پوزیشن حاصل کی ۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے لالا یوسف خلجی کو 6ہزار 9سو 89 ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے محمد رضا کو 5ہزار 8سو 90، بلوچستان عوامی پارٹی کے علی محمد ناصر کو 2ہزار 8 سو 82 ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیر افضل خان مندوخیل کو 2ہزار ایک سو 59ووٹ ملے ۔ حلقے میں کل کاسٹ کئے گئے ووٹوں کی تعداد 67ہزار 2 سو 91 رہی جن میں سے 2ہزار 5 سو 96ووٹ خارج کئے گئے ۔
کل ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 39.77فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ 265پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے حاجی لشکری رئیسانی اور پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو تحریک انصاف کے قاسم خان سوری سے شکست ہوگئی ، قاسم خان سوری نے 25 ہزار 9سو 73 ووٹ لے کر حلقہ این اے 265کوئٹہ IIپر کامیابی حاصل کی ان کے قریب ترین بلوچستان نیشنل پارٹی کے حاجی لشکری رئیسانی رہے جنہوں نے 20 ہزار 3سو 89ووٹ حاصل کئے ۔
محمود خان اچکزئی 11 ہزار 4 سو 87 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے ، متحدہ مجلس عمل کے حافظ حمداللہ صبور نے 10 ہزار ایک سو 24 ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی راحیلہ حمید درانی نے 9 ہزار 9سو 31، عوامی نیشنل پارٹی کے عمر فاروق نے 7 ہزار 2سو 97، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے روزی خان کاکڑ نے 5 ہزار 8سو 76، بلوچستان عوامی پارٹی کے نصیب اللہ اچکزئی نے4 ہزار 1 سو 79 ، مجلس وحدت مسلمین کے سید محمد رضا نے 5 ہزار 4، آزاد امیدوار سردار معصوم خان بڑیچ 2ہزار 5 سو 36 ، آزاد امیدوار غلام علی نوشاد نے 2ہزار 7سو 38 ، میر لیاقت لہڑی نے 2 ہزار 6سو 38، پاکستان رائے حق پارٹی کے ولی خان نے ایک ہزار 8سو 63ووٹ حاصل کئے ۔
حلقے میں کاسٹ کئے گئے کل ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار 7سو 31 رہی جن میں سے 4ہزار 3سو 22ووٹ مسترد کئے گئے ۔ ڈالے گئے ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 36.79فیصد رہا ۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 266 سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ نے 20ہزار 34 ووٹ لیکر کامیابی سمیٹ لی۔
ان کے قریب ترین امیدوار متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد رہے جسے 11ہزار 57ووٹ ملے ، تیسرے نمبر پر پشتونخوا میپ کے جمال خان ترہ کئی رہے جسے 9 ہزار ایک سو 29 ووٹ ملے۔
اس کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس احمد عمر احمد زئی کو 5ہزار ایک سو 20، پاکستان تحریک انصاف کے زین العابدین خلجی کو 5 ہزار 6 سو 22 ، پاکستان رائے حق پارٹی کے مولانا محمد رمضان مینگل کو ایک ہزار 52، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے میر ریاض احمد شاہوانی کو 5 ہزار 14 ، نیشنل پارٹی کے نواب محمد خان شاہوانی کو ایک ہزار 3 سو 25ووٹ ملے ۔
حلقے میں کل کاسٹ کئے گئے ووٹوں کی تعداد 61 ہزار 5 سو 41 ریکارڈ کی گئی جن میں سے 2ہزار 7سو 79ووٹ خارج کئے گئے جبکہ ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 34.30فیصد ریکارڈ کی گئی ۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 267مستونگ کم سکندرآباد کم قلات سے متحدہ مجلس عمل کے آغا سید محمود شاہ کی کامیابی کی اطلاعات ملی ہیں اس کے علاوہ این اے 268چاغی کم نوشکی کم خاران سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد ہاشم ، حلقہ این اے 269خضدار سے سردار اختر جان مینگل ، حلقہ این اے 270پنجگور کم واشک کم آواران سے میر نذیر احمد بلوچ کو مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں کامیابی کی اطلاعات مل رہی ہیں ۔
اس کے علاوہ حلقہ این سے 271کیچ سے بلوچستان نیشنل پارٹی ( عوامی ) کے سید احسان شاہ جبکہ حلقہ این اے 272لسبیلہ کم گوادر سے آزاد امیدوار محمد اسلم بھوتانی کامیاب ہوگئے ہیں ۔
دریں اثناء بلوچستان کے صوبائی اسمبلی کے 50میں سے 13نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی ،متحدہ مجلس عمل نے10،بلوچستان نیشنل پارٹی نے07،آزاد امیدواران نے 05،پاکستان تحریک انصاف نے04،عوامی نیشنل پارٹی 03،بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے 2،2جبکہ جمہوری وطن پارٹی ،پشتونخوامیپ نے ایک ،ایک نشست پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
حلقہ پی بی 45کیچ ون ،47کیچ تھری،48کیچ فور کے نتائج کاآخری اطلاعات تک اعلان نہیں ہوسکا۔غیر سرکاری وغیر حتمی نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 4لورالائی سے بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد خان کامیاب قرار پائے ہیں ۔
انہوں نے 131ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ہے ،ان کے مد مقابل متحدہ مجلس عمل کے مولوی فیض اللہ کو 11962،آزاد امیدوار شمس الدین ولد مرتضیٰ نے 8138،پشتونخوامیپ کے عبیداللہ جان بابت کو5064،عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالسلام کو2181،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربلند خان جوگیزئی کو 829،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے محمد ایوب ناصر کو 1951،پاکستان تحریک انصاف کے نصیب اللہ خان کو600،تحریک پاکستان جوانان کے محمود خان کو351،آزادامیدوار عطاء اللہ کو375،آزادامیدوار جعفر خان 241،عطاء محمد گل کو 10،بلوچستان نیشنل پارٹی کے گل محمد خان کو 15،محمد اکرم کو 105،جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے شفیع الدین کو26،جمعیت(س) کو 27،آزادامیدواران اصغرخان 13،ایمل خان 42،حبیب اللہ 78،سکندر خان جوگیزئی 9،پاکستان فریڈم موومنٹ کے شفیع اللہ کو84ووٹ ملے ہیں ،مذکورہ حلقے میں کاسٹ کئے گئے ۔
ووٹوں کی تعداد45686رہی جن میں سے 1926ووٹ مسترد کئے گئے جبکہ ٹرن آؤٹ53.4فیصد رہا۔،نورمحمددمڑ نے پی بی 6زیارت ،پی بی 7سبی کم لہڑی میں غیر حتمی نتائج کے مطابق کل ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد44218رہی جن میں سے 2400ووٹ خارج کئے گئے ۔
جبکہ ٹرن آؤٹ 36.45فیصد رہا مذکورہ حلقے سے بلوچستان عوامی پارٹی کے سردارسرفراز چاکر ڈومکی نے 17759ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی دوسرے نمبر پر آزادامیدوار بارو خان باروزئی نے 6199،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے قائم الدین نے 3538ووٹ ،جاموٹ قومی موومنٹ کے عبدالماجد ابڑو نے 3561،آزادامیدوار میر علی مردان خان ڈومکی نے 4891،میر محمد اصغرخان مری نے 1184، نیشنل پارٹی کے یار محمد نے 114،میر سردار خان رند نے 151،میر علی نواز خان نے 38، میر بجار خان نے 51، مظفر نے 52،محمد ملوک نے 196،پشتونخوامیپ کی فہمیدہ بی بی نے 337،غلام مجتبیٰ ابڑو نے 59،بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام رسول نے 595،عبدالماجد 51،عبدالغفار نے 74،صفیہ حفیظ نے ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے 202ووٹ حاصل کئے ۔
میر سکندر علی پی بی 11نصیرآباد ون ،حلقہ پی بی 12نصیرآباد 2کے ریٹرننگ آفیسر کے جاری کردہ فارم نمبر 47کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد خان نے 15353ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ آزادامیدوار غلام رسول نے 11192ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی متحدہ مجلس عمل کے نظام الدین لہڑی نے 5985ووٹ لیکر تیسری پوزیشن حاصل کی ۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سائرہ ایوب نے 1721،بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سید اکبر شاہ نے 901،بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد مراد نے 101،نیشنل پارٹی کے علی احسن نے 52،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے کشور احمد نے 172،آزاد امیدواران بشیراحمد نے 37،سکندر حیات نے 355،عباس علی عمرانی نے 18،عبدالرؤف نے 81،عبدالستار نے 24،مولابخش 31،تحریک لبیک پاکستان کے محمد قاسم نے 85ووٹ حاصل کئے حلقے میں کل کاسٹ کئے گئے ۔
ووٹوں کی تعداد36143رہی جن میں سے 4859مسترد کئے گئے ۔ٹرن آؤٹ کی شرح 38.85فیصد رہی ۔،جان محمد جمالی نے پی بی 14جعفرآباد II ،صحبت پو ر سے ملنے والی اطلا عات کے مطا بق بلوچستان کے حلقہ پی بی 15پر 12 امیدوار وں نے الیکشن لڑاحلقہ پی بی 15 میں پولنگ اسٹیشنوں کی کل تعداد 103 پر صبح 8بجے سے شام 6بجے تک ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل جاری رہا ۔
پولنگوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے اور پولیس ایف سی اور پاک فوج کے جوان تعینات تھے۔انتخابی حلقہ میں ووٹروں کی کل تعداد 90271تھی اور 103 پولنگوں میں 33878ووٹ ڈالے گئے جن میں 2686ووٹ گنتی سے خارج رہے۔
مجموعی طور پر ڈالے گئے ووٹوں کی شرح فیصد 45رہی۔صحبت پور میں الیکشن مہم کے دوران چار امیداورں میں سخت کانٹے دار مقابلہ دیکھا جارہا تھا لیکن غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج اس کے برعکس نکلے ۔بلوچسان عوامی پارٹی کے امیدوار سلیم احمد کھوسہ نے تمام امیدوروں کو بہت پیچھے چھوڑ ے ہوتے 17298ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائے جبکہ نیشنل پارٹی کے امیدوار محمددوران کھوسہ نے 8836 ووٹ لے کردوسرے نمبر پر رہے۔
اور اسی طرح 129129پاکستان تحریک انصاف کے نثار احمد نے 5956 ،پاکستان پیپلز پارٹی کے احمد نواز کھوسہ نے 14،متحدہ مجلس عمل پاکستان کے محمد صدیق بھنگر نے 120،پاکستان فلاح پارٹی کے میر حسن نے 132، بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدام حسین بلیدی نے 87اور آزاد امیدواروں میں سراج رحمان نے 376،سہراب خان کھوسہ نے 89،قادر بخش نے 45،رحیم بخش راجا نے35اور عبدالعزیز نے 10ووٹ حاصل کیئے۔
کامیاب ہونے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدار سلیم احمد کھوسہ کے حمایتیوں نے خوشی کا اظہار بڑے جوش وجزبہ سے کرتے ہوئے سلیم احمد کھوسہ کو پھولوں کے ہار پہنائے اور پھول کی پتیاں نچھاور کیں۔اور ڈھول کی تاپ پر بلوچی رقص کرتے ہوئے جھوتے رہے۔
دوسری جانب ہارنے والے امیدواروان دوران خان کھوسہ،نثار احمد کھوسہ،احمد نواز کھوسہ نے الیکشن میں جعلی شناختی کارڈ کے استعمال اور دھاندلی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹوں کا بائیو میٹرک کرانے کا مطالبہ کیا۔
طارق مگسی نے پی بی 16جھل مگسی ،حلقہ پی بی 37قلات سے بلوچستان عوامی پارٹی کے میر ضیاء لانگو نے 12ہزار 676ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی متحدہ مجلس عمل کے سردارزادہ میر سعید احمد نے 12654 ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردارزادہ محمدنعیم نے 9312، نیشنل پارٹی کے سید محمد اشرف شاہ نے 1965،آزادامیدوار عرفان کریم نے 2190،میر احمد خان مینگل نے 539،پی ٹی آئی کے میر سمیع اللہ نے 807ووٹ حاصل کئے حلقے میں کاسٹ کئے گئے ۔
کل ووٹوں کی تعداد 43355رہی جن میں سے 2816ووٹ خارج کئے گئے ۔ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 54.31فیصد رہی ،محمد صالح بھوتانی نے پی بی 49لسبیلہ ،جام کمال عالیانی نے پی بی 50لسبیلہ IIسے اپنے مد مقابل امیدواروں کو پچھاڑتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی ہے اور یوں بلوچستان عوامی پارٹی صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے ۔
بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی سٹیوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر متحدہ مجلس عمل ہے جس کے امیدواران حاجی محمد نے پی بی 1موسیٰ خیل ،بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 03 قلعہ سیف اللہ کم مسلم باغ سے غیر حتمی نتا ئج کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا نوراللہ نے 22410ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پشتونخوامیپ کے نواب ایازجوگیزئی 17133ووٹ لیکر دوسری ،جمعیت علمااسلام نظریاتی کے امیدوار ملک امان اللہ مہترزئی 11826ووٹ لیکر تیسرے نمبرپررہے ۔
اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے محمد نسیم 1341،پاکستان تحریک انصاف کیر وشان خان 1019، جمعیت (س) کے حمداللہ نے 45، بلوچستان نیشنل پارٹی کے خدائیداد کاکڑ38، آزاامیدوار رحمت اللہ 227،بلوچستان عوامی پارٹی کے نواب زادہ شیر شاہ جوگیزئی 371،نواب زادہ محمد اشرف جوگیزئی 250،آزادامیدواران 78، سردارمحمداکرم کاکڑ375ووٹ حاصل کئے ۔
حلقے میں کل کاسٹ کئے گئے ووٹوں کی تعداد55113رہی جن میں سے 3297ووٹ مسترد کئے گئے جبکہ ٹرن آؤٹ 54.72فیصد ریکارڈ کیاگیا ،عبدالواحد صدیقی نے پی بی 18پشین ون ،صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 18پشین سے متحدہ مجلس عمل کے اصغر علی ترین کامیاب ہوگئے ہیں ۔
انہوں نے کل ڈالے گئے 32744ووٹوں میں سے 14ہزار378ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سردار مصطفی ترین 10ہزار 707ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ہیں ،اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سید شاہ نواز کھرل نے 1382ووٹ لیکر تیسری جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے خیرمحمد خان ترین 700ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پررہے ہیں ۔
آزادامیدوار سمیع اللہ 279،جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے ٹھیکیدار حیات اللہ 171، حیات اللہ 149،پاکستان راہ حق پارٹی کے سید نصیب اللہ 116،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے خان سعد اللہ خان ترین 68،بلوچستان نیشنل پارٹی کی زینت شاہوانی 36، آزادامیدوار بشیر خان 29،دولت شاہ 19ووٹ حاصل کرسکے ہیں ،مذکورہ حلقے سے 1089ووٹ مسترد ہوگئے ہیں جبکہ ڈالے گئے ووٹوں کی شرح41.73فیصد ہے ۔
اسی طرح غیر حتمی نتائج کے مطابق پشین کے ہی حلقہ پی بی 20سے سید فضل آغا 17851ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ہیں انہوں نے کل ڈالے گئے 35991ووٹوں میں سے 17ہزار سے زائد ووٹ لئے ،مذکورہ حلقے سے 1197ووٹ مسترد کئے گئے ہیں بلکہ ٹرن آؤٹ 42.99فیصد رہی ہے۔
پشتونخوامیپ کے سید لیاقت علی آغا 11074ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سید عبدالباری آغا3225ووٹ ،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیدجمال عبدالناصر1394،پاکستان تحریک انصاف کے امان اللہ625،بلوچستان عوامی پارٹی کے سید رحیم آغا 507،پاکستان راہ حق پارٹی کے سید محمدرمضان 241،بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکیلہ نوید قاضی 49،آزادامیدوار خالد شاہ 80،سیدعبدالسلام 79،آزاد امیدوار شمس اللہ کو 26ووٹ ملے ہیں ۔
محمدنواز کاکڑ نے پی بی 22گلستان ،ملک سکندر خان پی بی 25کوئٹہ II ،وڈیرہ عبدالخالق نے پی بی 38خضدار ون ،میر یونس عزیز لہڑی نے پی بی 39خضدار II،زاہد علی نے پی بی 41واشک ،سے مد مقابل امیدواران کو شکست دیکر کامیابی سمیٹ لی ہے ۔
کوئٹہ کے حلقہ پی بی29سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو12603ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ان کے قریب ترین امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے عبدالباری بڑیچ رہے جنہوں نے 6657ووٹ لئے تیسرے نمبر پر بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید احمد ہاشمی رہے جنہوں نے 4927ووٹ حاصل کئے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے حضرت عمر3704ووٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے ۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی راحیلہ حمیددرانی 1458،جمعیت علماء پاکستان نورانی کے احمدرضا15 ،آزادامیدواران اختر محمد21،اسد اللہ جان 133،جاوید اقبال 14،خان دولت خان بادیزئی 22،ڈنہ خان 17،سعد عبدالغفور 41،عبدالرزاق 1101،قومی وطن پارٹی کے عبدالوحید 129،عطاء محمد 6،عوامی نیشنل پارٹی کے علاؤالدین کاکڑ315،پاک سرزمین پارٹی کے فیروز خان 84،آزادامیدوار حاجی فوجان 197،فرح اشرف 25ووٹ حاصل کرسکیں ۔
حلقے میں کل ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد41362رہی جس میں 1201ووٹ مسترد کئے گئے ،ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 37.84فیصد رہی ۔
،احمد نواز نے پی بی 30کوئٹہ 7، ملک نصیر احمد نے پی بی کوئٹہ 9،سردار اختر جان مینگل نے پی بی 40خضدار تین ،ثناء اللہ بلوچ نے پی بی 42خاران ،پی بی 51 گوادر سے حمل کلمتی ،عوامی نیشنل پارٹی کے اصغرخان اچکزئی نے پی بی 23قلعہ عبداللہ ،غیر حتمی نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے پی بی21قلعہ عبداللہ سے 9813ووٹ لیکر پہلی ،متحدہ مجلس عمل کے حاجی حبیب اللہ کاکوزئی نے 6912ووٹ لیکر دوسری ،پشتونخوامیپ کے عبدالقہار ودان نے 6413ووٹ کے ساتھ تیسری ،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے بسم اللہ خان کاکڑ نے 5307ووٹ کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی ،حلقے میں ڈالے گئے ۔
ووٹوں کی تعداد 31ہزار 50ہے جن میں سے 1218ووٹ گنتی سے خارج کئے گئے مذکورہ حلقے پر ٹرن آؤٹ 45.30فیصد رہی ۔جبکہ ملک نعیم خان بازئی نے پی بی 24کوئٹہ ون سے کامیابی حاصل کی ہے ،پی بی 46کیچ IIبلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )کے سید احسان شاہ نے 17026ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ہیں ۔
ان کے قریب ترین نیشنل پارٹی کے غلام رسول نے 6841ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے عبدالغفور نے 2374،متحدہ مجلس عمل کے خالد ولید نے 1324ووٹ حاصل کئے ہیں ،حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں کی تعداد 27930ہے جن میں سے 1285ووٹ مسترد کئے گئے ہیں ،مذکورہ حلقے میں ٹرن آؤٹ 43.42فیصد ریکارڈ کیاگیاہے ۔
بلوچستان کے حلقہ پی بی 43پنجگور کے غیر حتمی نتائج کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد اللہ نے 15058ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے زاہد حسین 4799ووٹ لیکر دوسرے ،نیشنل پارٹی کے رحمت علی 3654ووٹ لیکر تیسرے اورمتحدہ مجلس عمل کے محمدیاسین 3508ووٹ لیکرچوتھے نمبر پر رہے ۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے اسد اللہ بلوچ نے 80،آزادامیدواران خدائے رحیم 29،شکیل احمد27،شہباز طارق539،میر حبیب الرحمن 8کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے فاروق زمان128،بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد عمر 1285ووٹ حاصل کئے ،حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹروں کی تعداد 29ہزار 348رہی جن میں 974ووٹ مسترد کئے گئے جبکہ ٹرن آؤٹ 40.85فیصد رہا۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے احمد علی کہزاد نے پی بی 26کوئٹہ ٹو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے حلقہ پی بی 27کے ریٹرننگ آفیسر کے جاری کردہ غیر حتمی نتائج کے گوشوارے کے مطابق ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ 7685ووٹ لیکر کامیاب قرارپائے ہیں ۔
جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سید بسم اللہ آغا5109ووٹ لیکر دوسرے ،مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے 4149ووٹ لیکر تیسرے ،بلوچستان عوامی پارٹی کے ولی محمد نورزئی 4491ووٹ ،،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ذاکر حسین کاسی 3631ووٹ لیکر چوتھے ۔
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سحر گل خلجی 3447ووٹ لیکر پانچویں نمبر پر آزادامیدوار نورالدین کاکڑ2717،،ان کے علاوہ آزاد امیدوار سالار خان کاکڑ116،سید رضا 232،سید عبداللہ شاہ 88، سید محمد 21، عبدالباری 28،عبدالرحمن 24،پاکستان مسلم لیگ کے احمد اللہ خان 13،پاکستان سرزمین پارٹی کے حضرت علی 43،آزاد امیدواران ارشد اقبال 95،اسلم خان 116، الطاف حسین 5،برات خان ایک ،بسم اللہ خان 171،بشیر احمد12،جمیل احمد248،حکم خان 13،حمزہ خان 373، حمیدالہدیٰ 25،قاری مہراللہ 1095،ندا محمد 13،ہمایوں رشید الکوزئی 950ووٹ حاصل کئے ہیں ۔
حلقے میں کل 43401ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 1552ووٹ مسترد کئے گئے جبکہ ٹرن آؤٹ 38.35فیصد رہا۔ ،پاکستان تحریک انصاف کے نصیب اللہ نے پی بی 9کوہلو ،سرداریارمحمدرند نے پی بی 17کچھی ،حلقہ پی بی 28کوئٹہ Vسے پاکستان تحریک انصاف کے محمد مبین خلجی 7364ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ۔
جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے طاہر محمود خان 5760ووٹ لیکر دوسرے ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمداسماعیل گجر 4298ووٹ لیکر دوسرے اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے غلام فاروق خان 4ہزار ووٹ لیکر چوتھے نمبر پررہے ۔
اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے ڈاکٹرعطاء الرحمن نے 2278،علی افتخار نے 44، پاکستان راہ حق کے کلیم اللہ نے 386،عام لوگ پارٹی کے محمد آصف نے 35،آزادامیدواران محمدرحیم نے 22،محمدسلیم 5،محمدعباس میر6،برابری پارٹی پاکستان کے محمدعالم کاسی 22،پاکستان مسلم لیگ کے منیراحمد نے 23،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے آغا فیصل شاہ نے 32،آزاد امیدوار احسان الحق نے 3،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین نے اقبال حسین شاہ 116،آزادامیدواران اقبال حسین قریشی 129،انور نسیم کاسی 605،بہروز حسین بلوچ 510،تاج محمد6،جاوید اقبال 47،حبیب اللہ 8،حضرت خان 43،روزی خان 21،سجاداحمد103،شکیل احمد3،شمشاد مغل 14،شہزاد خان 214،صلاح الدین خلجی 91،طاہر یعقوب 5،عبدالباقی 30،اللہ اکبر تحریک کے عبدالصمد خان 610،جمہوری وطن پارٹی کے شاہ ولی 8،عوامی نیشنل پارٹی کے سید نور یاسین 150،پاک سرزمین پارٹی کے سید ثناء اللہ نے 26ووٹ اور نیشنل پیس کونسل پارٹی کے راجیش کمار نے 63ووٹ حاصل کئے ۔
حلقے میں 31ہزار 883ووٹرز نے حق رائے دہی کااستعمال کیا جن میں سے 973ووٹ مسترد کئے گئے ۔ٹرن آؤٹ کی شرح 36.18فیصد ریکارڈ کی گئی ۔
ریٹرننگ آفیسر حلقہ پی بی 13کے جاری کردہ فارم نمبر47کے مطابق غیر سرکاری نتائج کے تحت جعفرآباد سے پاکستان تحریک انصاف کے عمر خان جمالی 18922ووٹ لیکر جیت چکے ہیں جبکہ آزاد امیدوار راحت جمالی 17ہزار 845ووٹوں کے ساتھ دوسرے ،پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی زرینہ گل 2863،متحدہ مجلس عمل کے عبدالمجید 1982،بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام حیدر 254،پاکستان فلاح پارٹی کے خان محمد220، جاموٹ قومی موومنٹ کے حبیب اللہ 100،آزاد امیدوار علی حیدر 96،جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے عطاء اللہ 64،آزاد امیدوار عبدالعزیز کھوسہ 21،آزاد امیدوار اظہار حسین 11ووٹ لے سکے ہیں ۔
حلقہ پی بی 13میں کاسٹ کئے گئے کل ووٹوں کی تعداد42613ہے جن میں سے مسترد کئے گئے ووٹوں کی تعداد3449ہے جبکہ ٹرن آؤٹ41.31فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔جمہوری وطن پارٹی کے نواب زادہ گہرام بگٹی نے پی بی 10، کوئٹہ کے حلقہ پی بی 31سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے نے 4274ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ان کے قریب ترین بلوچستان نیشنل پارٹی کے حاجی میر لشکری رئیسانی رہے ۔
جنہوں نے 3852ووٹ لئے ،بلوچستان عوامی پارٹی کے میر محمد عثمان پرکانی 3450ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے ،حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں کی تعداد 16394رہی جن میں سے 875ووٹ مسترد کئے گئے ۔ٹرن آؤٹ32.82فیصد رہا۔ضلع چاغی پی بی 34 آزاد امیدوار میر محمد عارف محمد حسنی نے 24593ووٹ لیکر کامیاب ہوگیا ۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق ضلع چاغی پی بی 34پر الفتح پینل کے آزاد امیدوار میر محمد عارف محمد حسنی نے 24593ووٹ لیکر کامیاب ہوگیاجبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سخی امان اللہ خان نوتیزئی 19184ووٹ لیکر ہار گئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک امان اللہ نوتیزئی نے 1323ووٹ لیکر تیسری پوزیشن حاصل کر لی ۔
ضلع بر میں مجموعی طور پر 55% فیصد ٹرن آوٹ رہی ،میر نعمت اللہ زہری نے شہید سکندر پی بی 36، میٹھا خان کاکڑ پی بی 2ژوب ،مسعود علی خان پی بی 5دکی اور عبدالرحمن کھیتران نے پی بی 8بارکھان پر کامیابی حاصل کی جبکہ حلقہ پی بی 45کیچ ون ،47کیچ تھری،48کیچ فور کے نتائج کاآخری اطلاعات تک اعلان نہیں ہوسکا۔