|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2019

اسلام آباد : سینٹ میں اپوزیشن نے ساہیوال واقعہ کے حوالے سے حکومتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ واقعہ کے حوالے سے مشکوک حالات سے پردہ اٹھانا چاہیے ،جے آئی ٹی اور دو دو ایف آئی آرز کے ذریعے معاملہ کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے ،اصلاحات کا عمل خوش آئند ہے اس سے پہلے معاملہ کو دیکھنا ضروری ہے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہاہے۔

کہ وزیر اعظم واقعہ سے بخوبی آگاہ ہیں ،یقین دلاتے ہیں واقعہ کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی، واقعہ پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، جو ہوا غلط ہوا، معاملات کو درست سمت میں آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔پیر کو سینٹ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت اور اپوزیشن کا موقف سننے کے بعد سانحہ ساہیوال پر ارکان کو اظہار خیال کی اجازت دی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ وہ ساہیوال میں پیش آنے والے سانحہ پر تحریک التواء پیش کرنا چاہتے ہیں، اسے فوری طور پر زیر بحث لایا جائے۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس واقعہ پر جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بات کی جائے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ ہو چکا ہے۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سارا ایوان اس واقعہ پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہے۔

آج ہی اس معاملہ پر بات کی جائے کیونکہ یہ معاملہ فوری بحث کا متقاضی ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے اصرار کیا کہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں ہونے والے فیصلے کی پاسداری کی جائے اور اگر ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں ہونے والے فیصلوں کو نہیں ماننا تو پھر اس کا اجلاس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پورا ایوان ایک رائے دے رہا ہے، اس کا احترام کرنا چاہئے۔

جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ساہیوال میں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے بار بار غلط بیانی کی گئی۔ بتایا جائے کس ادارے کی اطلاع کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔ اس طرح کے واقعات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ پورا ملک اس واقعہ پر سراپا احتجاج ہے۔ چیئرمین سینیٹ سخت رولنگ دیں تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پورے ملک میں ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ راؤ انوار کو سزا نہیں دی گئی اس لئے یہ واقعہ پیش آیا۔ ماورائے عدالت قتل پورے ملک میں ہو رہے ہیں، کسی کو سزا نہیں ہو رہی، جے آئی ٹی بنانے کا کلچر ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جس نے اس واقعے کے خلاف دلائل دئیے ہیں انکی مذمت کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ پولیس والے جو ظلم کرتے ہیں یہ اس کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں انٹیلی جنس ادارے بے لگام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہاگیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پر کاروائی ہوئی.ان اہلکاروں کو عبرت ناک بنایاجائے۔ عثمان خان کاکڑ نے راجہ بشارت کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک مہینے کے اندر مجرموں کو سزا ملنی چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی کے افسروں کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ سینٹ سے ایسی رولنگ آئے کہ آئندہ کسی کو ایسا کرنے جرات نا ہوبلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ راؤ انوار آزاد گھوم رہا ہے، اس کو وی آئی پی حیثیت دی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں جگہ جگہ لاشیں گر رہی ہیں، کسی کو پرواہ نہیں، کہیں بھی کوئی قتل ہو وہ پاکستانی کا قتل ہے۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس معاملہ پر حکومت کچھ نہ کچھ کرے گی۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا جائے جس میں اس ایوان کے ارکان کو بھی آبزرور کے طور پر شامل کیا جائے۔ جتنی بھی جے آئی ٹیز آج تک بنی ہیں ان میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ سی ٹی ڈی پنجاب نے صوابی میں آ کر بھی ایک نوجوان کو اس کے گھر میں مارا۔

انہوں نے کہا کہ آج تک کس جے آئی ٹی کی رپورٹ آئی ہے، کیا نقیب اﷲ قتل کیس کی رپورٹ آئی ہے، ہم بے حس ہو گئے ہیں، پولیس عوام کے لئے خوف کی علامت بن گئی ہے۔

سینیٹر عتیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب گواہ ہیں کہ کراچی میں ہر صبح ایک لاش ملتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ نقیب اللہ اور راؤ انوار کا کیس بھی ہمیں یاد ہے۔انہوں نے کہاکہ راؤ انوار کو کس نے بچایا ہمیں نہیں بتایا۔

انہوں نے کہاکہ اگر اس وقت سوچ لیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔ سینیٹر عتیق نے کہاکہ چیئرمین صاحب اس واقع پہ آپ کو رولنگ دیں۔انہوں نے کہاکہ مجرمان کو پورے لاہور کے سامنے پھانسی دی جائے،ملک کو چلانے کے لیے اداروں کی ضرورت ہے لیکن ایک مچھلی پورے تلاب کو گندا کر دیتی ہے۔

ہمیں ہر صورت مجرمان کو سزا دینی ہو گی۔اجلاس کے دوران سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ اس واقعہ کے حوالے سے بہت سارے تضادات موجود ہیں، پولیس اور لوگوں کے بیانات میں بھی تضادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر راؤ انوار کو سزا دی جاتی تو اس طرح کے معاملات پیش نہ آتے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پر چلنے سے ہمارے معاملات درست ہو سکتے ہیں۔ ریاست کا کام لوگوں کو تحفظ دینا ہے، اس واقعہ کو مثال بنانا چاہئے اور جے آئی ٹی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ چیئرمین سینیٹ اس پر رولنگ جاری کریں۔

سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ ساہیوال واقعہ افسوسناک ہے اور پارلیمانی لیڈران کو مل بیٹھ کر اس حوالے سے حکمت عملی طے کرنی چاہئے۔ تقریریں نہیں بلکہ عملی تجاویز سامنے آنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، اس کے لئے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور رویئے اس ایوان سے تبدیل ہونے چاہئیں۔