|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی ملاقات میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیرسینیٹر مولانا عبدالواسع ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، چیئرمین پی اے سی اصغرترین، اپوزیشن رکن اسمبلی سید ظفر آغااور رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی سمیت دیگر رہنماء شامل تھے جبکہ حکومتیوفد میں صوبائی وزراء حاجی علی مدد جتک ، میر برکت رند شامل تھی۔ملاقات کے دوران مدراس رجسٹریشن سمیت سیاسی امور پرتفصیلہ تبادلہ خیال کیا گیا

حکومتی وفد اور اپوزیشن کا آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفا ق کیا گیاصوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیںجہاں سے علماء اور حفاظ فارغ التحصیل ہوتے ہیں،تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس نے ہمیشہ مسلم امہ کو جوڑے رکھا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان تمام قوموں اور مختلف مذاہب کا گل دستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالواسع ایک زیرک اور قابل احترام سیاستدان ہے۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہاکہ مدارس کے حوالے سے حکومتی موقف سمجھنے کی ضرورت ہے،

حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس حکومتی نمائندوں کا آنا حکومتی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت بلوچستان اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے حکومتی وفد نے وزیراعلیٰ بلوچستان میررفراز بگٹی کی آمد تک احتجاج موخر کرنے کی تجویز پیش کی۔ حکومتی ذرائع نے مطابق حکومتی وفد نے بتایا کہ وزیراعلی بلوچستان صوبے سے باہر ہے،اپوزیشن کا پیغام پہنچادیاگیا ہے،

وزیراعلی بلوچستان جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی اور قائدین سے ملاقات کریں گے۔جمعیت علماء اسلام کے ذرائع نے بتایا کہ :قومی اسمبلی میں مدراس سے متعلق بل منظور ہوچکا ہیلیکن وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا

کہ بل پر غور کرینگے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ تمام صوبوں نے بل پر خاموشی اختیار کی سب سے پہلے بلوچستان حکومت نے عمل درآمد کیا ،بلوچستان حکومت 5مئی کو ہونے والے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں مدراس کا بل شامل کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *