|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ: سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ یہ بحث نہیں کہ الیکشن ہار گیا یا ہرایا گیا ،

پارلیمنٹ میں ہوں یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ اس سرزمین کی قومی ذمہ داریوںسے بری الزمہ نہیں ، اسمبلی کی عمارت کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنے کے حکومتی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے،

قومی حقوق کا سودا ، آئین کی پامالی ، وسائل کی لوٹ مار، جبر و ناانصافیوںکیخلاف سیاسی اور آئینی مزاحمت کرتا رہونگا،بات انہوں نے گزشتہ روزسراوان ہائوس میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ یہ بحث نہیں کہ میں الیکشن ہار گیا یا ہرایا گیا پارلیمنٹ میں ہوں یا نہیں لیکن یہ طے ہے

کہ اس سرزمین کی ذمہ داریوںسے بری الزمہ نہیںاس لیے2013ء کی اسمبلی سے پاس ہونے والا ڈی ایچ اے ایکٹ ہو یا2018ء کی اسمبلی میں ہونیوالی ریکوڈک کی نیلام، 2024ء کی اسمبلی سے پاس ہونے والامائنز اینڈ منزلز ایکٹ ہو یا حال ہی میں بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو گرانے کا حکومتی اقدام ، قومی حقوق کا سودا ، آئین کی پامالی ، وسائل کی لوٹ مار، جبر و ناانصافیوں کیخلاف سیاسی اور آئینی مزاحمت کررہا ہوں،

انہوں نے کہاکہ اس وقت جب بلوچستان میں معاشی بدانتظامی، یونیورسٹیوں میں طلباء کیلئے سہولیات ،اساتذہ کو ادا کرنے کیلئے تنخواہیں نہیں ، نوجوان بے روزگار ہیں، ایسے میں اسمبلی کی عمارت کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا صوبے میں جاری لوٹ مار کے سلسلے کی کڑی ہے جس کیخلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے،

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں عوامی نمائندگی نیلام ہوئی ہے ،اب اس سرزمین کے لوگوں نے سیاسی مزاحمت کے ذریعے مادر وطن کا سودا کرنے والوں کا راستہ روک کر آئندہ نسلوں کے وقار، عزت خوشحالی اور ترقی کیلئے پرامن شعوری سیاسی سمت کا تعین کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *