|

وقتِ اشاعت :   February 8 – 2019

کوئٹہ:  میڈیکل سپریٹنڈنٹ سول ہسپتال ڈاکٹر سلیم ابڑو اور پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا ہے کہ پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کے پوسٹ مارٹم کے دوران انکے جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر تشدد کے کوئی نشان نہیں ملے۔

متوفی کے دل ،دماغ اور جسم کے دیگر مختلف اعضاء کے نمونے لاہور فرانزک لیب بھجوادیے گئے ہیں رپورٹ آنے پر موت کی وجہ سامنے آجائے گی ۔ ابراہیم ارمان لونی کا پوسٹ مارٹم لورالائی سے آئے ہوئے ڈاکٹرز کے علاوہ ورثاء کی تجویز کئے ڈاکٹرز کی موجودگی میں کیا گیا ہے ۔

گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا کہ 2 فروری کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پیش آنے والے واقعہ میں ہلاک ہونے والے پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کی نعش پوسٹ مارٹم کیلئے 3 فروری کو سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئی تھی اور اسی دن پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے اپنے ٹیکنیکل عملہ کے ہمراہ نعش کا پوسٹ مارٹم کیا۔

اس دوران لورالائی سے آنیوالے ڈاکٹرز، وے ڈی اے ،پی ایم اے کے ڈاکٹرزجنہیں ورثاء نے تجویز کیا تھا وہ بھی وہاں موجود تھے ہم نے قانونی پابندی سے ہٹ کر انہیں پوسٹ مارٹم کے دوران ٹیکنیکل تجاویز دینے کیلئے بطور اسسٹنٹ کام کرنے کی اجازت دی تاکہ ایک جامعہ رپورٹ مرتب کی جائے اور کسی کیساتھ ناانصافی نہ ہو۔ 

انہوں نے کہا کہ دوران پوسٹ مارٹم متوفی کے جسم کا پاؤں سے سر تک معائنہ کے بعد جسم کے اندرونی ا عضاء، پیٹ ، سینہ، معدے، دل اور سر کے مختلف حصوں کا معائنہ اورطبی ماہرین کی موجودگی میں سٹی اسکین اور ایکسرے کئے گے۔ 

سٹی اسکین کی تصاویر، ایکسرے اور دیگر رپورٹس ہمارے پاس موجود ہیں جن پر پاکستان سمیت د نیا کے کسی بھی جدید میڈیکل لیب یا طبی ماہر سے رائے لی جاسکتی ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ قتل کی حتمی وجہ جاننے کیلئے دماغ دل،خون اور جسم کے کچھ اعضاء کے نمونے فرانزک لیب لاہور بھجوائے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنے میں 15 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ موت کی وجہ فرانزک رپورٹ آنے پر پتہ چلے گی متوفی کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جمع تھادماغ کے اس حصہ کو فرانزک لیب بھیج دیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مربتہ ایسا ہوا کہ کسی کا پوسٹ مارٹم 10 یا اس سے زائد ڈاکٹرز کی موجودگی میں کیا گیا ہوجسم کے بیرونی اور اندرونی حصوں کا معائنہ کرنے کے بعد 21 صفحوں پر مشتمل پوسٹ مارٹم رپورٹ مرتب کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ متوفی کے چہرے پر نیلاپن تھا جس کی وجہ سے انکے دل کو فرانزاک لیب بھیجا گیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ آیا ان کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے تو نہیں ہوئی ہے ۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو مختلف میڈیکل رپورٹ اور امیجز بھی دیکھائے گئے ۔