|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

خیبرپختونخوا زکوٰۃ فنڈ میں بڑے پیمانے پر خردبرد کا انکشاف ہواہے،  زکوٰۃ کے فنڈز مستحق افراد کی بجائے سرکاری ملازمین میں تقسیم ہونے لگے جس میں گریڈ 17 کے دو افسران بھی شامل ہیں،  سال 2024-25کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق گریڈ ایک سے 17 تک کے ملازمین میں 53 لاکھ روپے سے زائد تقسیم کئے گئے ۔آڈیٹر نے زکوۃ فنڈز کے 8کروڑ روپے سے زائد کی رقم استعمال ہونے میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے ۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ زکوۃ فنڈز سے مستفید ہونے والوں میں  گریڈایک سے 17تک ملازمین شامل ہیں۔وفاق کے تین 317،خیبر پختونخوا کے 33،پنجاب کے 6،سندھ کے 5اور بلوچستان کے تین ملازمین بھی زکوۃ فنڈ سے رقم لینے والوں میں شامل ہیں ۔مجموعی طور پر چار سو انیس  ملازمین نے ترپن لاکھ سے زائد رقم زکوٰۃ فنڈ سے حاصل کی پندرہ ملازمین نے تیس تیس اور چار سو چار نے بارہ بارہ ہزار روپے وصول کئے ۔جن میں گریڈ سترہ اور سولہ کے دو دو اور گریڈ پندرہ کے تیرہ ملازمین شامل ہیں ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین گزارہ الاؤنس کے اہل نہیں تھے۔

آڈیٹر جنرل نے تمام رقم سرکاری ملازمین سے ریکور کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ زکوٰۃ کمیٹی ممبران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی سفارش کی ہے ،آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ڈسٹرکٹ اور لوکل زکوٰۃ کمیٹیوں میں غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمین کی شمولیت پائی گئی جو کہ زکوۃ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق گذارہ الاونس کی مد میں غیر مستحق افراد کو ایک کروڑ ستانوے لاکھ روپے دئے گئے ،شادی گرانٹ فنڈ کے چار کروڑ روپے بیس لاکھ روپے میں بے بے قاعدگی پائی گئی ۔آڈٹ رپورٹ میں ایک سو گیارہ سرکاری ملازمین کو الائونسز کی مد میں ایک کروڑ پچانوے لاکھ روپے دینے پر بھی پیرا دئے گئے ہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *