|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2019

کوئٹہ:  وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ساحلی پٹی پر واقع زمینوں پر کسی کا قبضہ نہیں نیب اور صوبائی حکومت ماضی میں ہونیوالی زمینوں کی سیٹلمنٹ کی تحقیقات کررہی ہے ۔ بلوچستان میں سو سال پرانے جنگلات و جنگلی حیات کے قانون میں ترمیم لا رہے ہیں۔ 

حکومت نے شاہراؤں پر درخت لگانے کی بجائے سو سے دوسو ایکٹر رقبہ پر جنگلات اُگانے کا منصوبہ بنایامنصوبہ کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران بلوچستان میں 25 کروڑ درخت لگائے جائیں گے ۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں شجرکاری مہم کا افتتاح کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پلانٹ فار پاکستان ڈے پر بلوچستان میں 80ہزار پودے لگائے جارہے ہیں اور ہر گھر میں شجر مہم کے تحت رواں سال مختلف اضلاع میں 12 لاکھ پودے اور درخت لگائے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران صوبے بھر میں 25 کروڑ درخت اور پودے لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔دیر پا منصوبہ کے تحت بلوچستان کے وہ اضلاع جہاں شجرکاری کرنا مشکل ہے وہاں کم پانی سے اگنے والے درخت اور پودے لگائے جائیں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان میں جنگلات اور جنگی حیات کے تحفظ کیلئے بنائے گئے 100 سال پرانے ایکٹ میں ترمیم لانے کی منظوری دی ہے 2019ء کے ایکٹ میں جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے قانونی ترامیم لائی جارہی ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تین سال بعد موجودہ حکومت میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کونسل کا اجلاس ہوا ہے ۔ پاکستان میں ماحولیاتی صورتحال دنیا کے بہت سارے ممالک کی نسبت بہتر ہے کوئٹہ شہر میں ایسی کوئی انڈسٹری موجود نہیں جس کا براہ راست اثر ماحولیات پر پڑے تاہم شہر میں موجود بٹھوں کے قریب فلٹریشن پلانٹ لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں نکاسی آب اور نالیوں کے گندے پانی سے کی جانیوالی کاشت کاری کو تلف کردیا گیا ہے ۔

حالیہ بارشوں اور برفباری سے قحط سالی کی صورتحال میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شجر کاری مہم کے تحت طویل رقبہ پر محیط صوبے میں لگائے گئے ہر درخت پر نظر رکھنا ممکن نہیں موجودہ حکومت نے شجری کاری مہم کی ترتیب میں تبدیلی لاتے ہوئے ۔ سڑکوں کی بجائے سو سے دوسو ایکٹر رقبہ پر جنگلات اُگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ساحلی پٹی کی اراضیات پر قبضہ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع اراضیات اور لیز حکومت بلوچستان کا مینڈیٹ ہے جسے صوبائی حکومت بخوبی سرانجام دے رہی ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی ناجائز قابضین نہیں ہیں گڈانی ،ڈام، پسنی ، اورماڑہ گوادر اور جیونی کے علاقوں میں ریونیو بورڈ کی جانب سے ماضی میں کی جانیوالی سیٹلمنٹ کی نیب اوربلوچستان حکومت تحقیقات کررہی ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ صوبے میں زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبوں میں بہتری کیلئے حکومت بلوچستان محکمہ زراعت ،ایری گیشن، لائیوسٹاک جنگلات ورلڈ بینک ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور اسپار کومیں مختلف منصوبوں کے ایم آئی یوز پر دستخط ہوئے ہیں ۔

صوبائی حکومت نے حالیہ بارشوں کے دوران تمام اضلاع کے کمشنر اور محکمہ ایریگیشن کے عملہ کو ضائع ہونے والے پانی کی مقدار کا ڈیٹا بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ آئندہ پانی کے ضیاع کورو روکنے کیلئے وہاں ڈیمز اور بندات تعمیر کئے جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے شادی کو رڈیم میں ذخیرہ پانی کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اکاڑہ ڈیم کو توسیع کامنصوبہ زیر غور ہے ۔