|

وقتِ اشاعت :   March 17 – 2019

موسمیاتی تبدیلی کیا ہے اس کے اثرات انسان کی ذاتی، سماجی اور معاشی حاالات پر کیسے پڑتے ہیں اس کا مطالعہ ہم مختلف کتابوں سے اور مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ موسم اپنا تیور کس طرح بدلتا ہے لوگوں سے ان کی زندگی کس طرح چھین لیتی ہے ایسے ہی موضوعات پر دستاویزی فلم اور فلمی خاکے بنائے جا رہے ہیں۔ ہندی سینما نے گزشتہ سال ایک فلم ’’کڑوی ہوا‘‘ کے نام سے بنائی تھی۔ 

ہندوستان کے ایک ایسے گاؤں کی کہانی جو موسمیاتی تبدیلی کے زد میں آجاتا ہے خشک سالی سے زمینیں سوکھی پڑ جاتی ہیں خوراک کا حصول مشکل ہوجاتا ہے لوگ قرضہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ قرضہ چکتا کرنے میں جب ناکامی ہوتی ہے تو خودکشی کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔پوری کہانی ایک بوڑھے آدمی، اس کے خاندان اور گاؤں کے گرد گھومتی ہے فلم کے کلائمیکس میں ایک گاؤں خشک سالی کا رونا رو رہا ہے وہیں دوسرا گاؤں طوفانی بارشوں کے زد میں آکربڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھاتا ہے۔

فلم دیکھتے ہی مجھے بلوچستان میں حالیہ طوفانی بارشیں یاد آگئیں۔ بارشوں سے قبل لوگ خشک سالی کا رونا روررہے تھے۔ ذریعہ معاش ان کا تباہ ہو کر رہ گیا تھا ۔ مال مویشی مرنے لگے تھے بھوک نے چاروں اطراف اپنا جال پھیلانا شروع کیا تھا۔ غذائی قلت تھر کا منظر پیش کرنے لگا تھا بوند بوند پانی کو ترستا نوشکی اور دیگر علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ فریادی ہوئے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوئے بارشوں کے لیے دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔ ’’اے میرے مولا! ہم پر نہ سہی بے زبان جانوروں پر ہی رحم فرما‘‘۔ اچانک بارشیں شروع ہوگئیں۔ 

بارشیں ایسی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آیا۔ سیلاب کی زد میں آگئی آبادی اور زرعی زمینیں ۔ زرعی زمینیں بہہ گئیں مال مویشی ہلاک ہوگئے ۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے لوگوں کی کہانیاں سامنے آئیں۔ شش و پنج میں مبتلا ہوئے لوگ آخر ہو کیا رہا ہے کبھی خشک سالی تو کبھی طوفانی بدحالی۔نتیجہ زرعی زمینوں کی تباہ حالی۔ وجہ کیا ہو سکتا ہے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی۔ 

لوگ فریاد کرنے لگے کسی نے کہا کہ رب کی مرضی، اس کی مرضی کے آگے کس کی چلتی ہے۔ کسی نے اسے خدا کے عذاب سے تشبیہ دی۔ بارانی پانی سے جہاں زمینیں آباد ہوگئیں وہاں کے مکین رب کا شکر بجا لائے۔ کہیں نقصان ہوا تو صبر کا دامن تھاما۔حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔ امدادی کاموں کے حوالے سے فوٹو سیشنز ہوئے۔ علاقوں کے دورے کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے کو حرکت میں لانے کی بازگشت سنائی دی ۔ راشن کی تقسیم کا اعلان ہوا وغیرہ وغیرہ۔۔ مگر جو اعلان اسے پہلی فرصت میں کرنی چاہیے تھی اس سے حکومت قاصر رہی۔ وہ تھی زرعی ایمرجنسی کا اعلان۔ یہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

جس وقت نذر آباد تمپ میں سیلابی ریلہ داخل ہوا فجر کا وقت تھا۔ نذر آباد سو رہا تھا کہ طوفان اپنا کام کرچکا تھا۔ عبدالحمید کے گھر کو نہ صرف نقصان پہنچا بلکہ اس کی زرعی زمین سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئی۔ جو سرمایہ تھا سیلابی ریلے کی نذر ہوا۔۔ ’’ جس وقت سیلابی ریلا نذر آباد میں داخل ہوا، اس وقت ہم اپنے گھروں میں تھے سیلاب نے بندات پر دھاوا بول دیا جب بندات ٹوٹ گئے تو رخ زمینوں اور آبادی کی طرف کر گیا۔ 

زمینوں کے اندر اور باہر جو کچھ تھا اپنے ساتھ لے کر گیا اور ہم حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے‘‘۔ عبدالحمید نے کہا۔ یہ کہانی صرف عبدالحمید کی نہیں عبدالحمید کے اردگرد بسنے والے دیگر زمیندار اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔عبدالحمید نے زرعی زمینوں پر پیاز کاشت کیا تھا۔ 

فصل پکنے ہی والی تھی کہ سیلاب سب کچھ اپنے ساتھ لے کر چلا گیا۔ فصلات کو پہنچنے والی نقصان کی لاگت وہ 4لاکھ سے زائد بتاتے ہیں یہی سال بھر کی معیشت کا مجموعہ۔ اب کیا کریں گے نقصانات کا ازالہ کیسے ہوگا؟؟ کہنے لگے ’’رب اپنے غیب سے کرے اور کیا کر سکتے ہیں‘‘۔ 

اپنی آواز حکام تک پہنچانے کے لیے انہوں نے اپنا احتجاج ایک مقامی چینل پر ریکارڑ تو کرایا مگر تاحال علاقے کی تباہ حالی کا جائزہ لینے کے لیے نہ ہی کوئی عوامی نمائندہ آیا اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ۔ ’’ عوامی نمائندگان کو کیوں کر دلچسپی ہو ان کی دلچسپی الیکشن کے وقت ہی رہتی ہے‘‘ نذرآباد تمپ ضلعی ہیڈکوارٹر تربت سے 100کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی حلقے سے حالیہ انتخابات میں لالا رشید دشتی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

طوفانی بارشوں اور سیلاب سے زیادہ متاثر وزیراعلیٰ بلوچستان کا علاقہ لسبیلہ رہا۔ میدانی علاقے زیر آب آگئے۔ پانی نے اپنا رخ آبادی اور زرعی زمینوں کی طرف کیا تو تباہی مچ گئی۔ کرشیخ لاکھڑا کا رہائشی محمد حسن شیخ اپنے مال مویشیوں کو سیلاب سے بچا پایا اور نہ ہی زرعی زمینوں کو۔ رات کو آنے والی سیلاب سے وہ فقط اپنے خاندان کو ہی بچا پایا۔ سیلابی ریلے میں اس کے 45کے قریب بھیڑ بکریاں بہہ گئیں ٹماٹر، گندم اور ارنڈی کی فصلیں بھی سیلاب کی زد میں آئیں۔ اب اس کے پاس بچا کچھ بھی نہیں ہے جہاں اس کی زرعی زمینیں ہوا کرتی تھیں اب وہ میدان بن چکا ہے۔ 

میں نے ان سے سوال کیا کہ اب کیا کر رہے ہیں تو کہنے لگے ’’ اور کر بھی کیا سکتے ہیں بس اللہ کے آسرے پہ بیٹھے ہیں وہی کچھ کرے‘‘ کوئی حکومتی نمائندہ آیا؟ تو کہنے لگے کہ ایک پٹواری آیا تھا پانچ کلو آٹا اور دال تقسیم کر رہا تھا۔ میں گیا ہی نہیں۔ اب ہم زیرو سے بھی نچلی زندگی گزار رہے ہیں حکومت بس اتنا سا کرے کہ زمینوں کو دوبارہ آباد کرنے میں ہماری مدد کرے۔

ممتاز شیخ علاقے کے سماجی کارکن ہیں مگر وہ حکومتی اقدامات سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے نہیں جاتے اور زرعی زمینوں کو بحال کرنے کے لیے حکومت وسائل خرچ نہیں کرتی اس وقت تک لوگوں میں ایک بے چینی کی فضا برقرار رہے گی۔

بلوچستان کی کثیر آبادی ذریعہ معاش کے لیے انحصار زرعی زمینوں اور غلہ بانی پہ کرتی ہے۔ یہاں کا مکین جب صبح اٹھتا ہے تو اس کے قدم خود بخود زرعی زمینوں کی طرف اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔جہاں لہلہاتے فصلوں کو دیکھ کر اس کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور دماغ پر سرور چھا جاتا ہے جبکہ نوجوان نسل بھیڑ بکریوں کو ہانکتا ہوا پہاڑوں کی طرف نکل پڑتا ہے۔ 

کسان اپنی زمینوں کو آباد اس امید پر کرتا ہے کہ یہ سال گزشتہ سے بہتری لائے گی ان کی زندگی میں خوشحالی آئے گی مگرکبھی مارکیٹ کی نرخوں میں کمی تو کبھی موسمیاتی تبدیلی ان کی امیدوں پر پانی پھیردیتی ہے۔ یہ المیہ ہے۔ ایک ایسے موقع پر جہاں کسان مزدور طبقہ پریشان حال ہے۔ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ان کے نقصانات کا ازالہ کرے اور زرعی پیکجز کا اعلان کرے۔