|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2019

کوئٹہ :  وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیا م کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ، سکیورٹی کا مسئلہ کسی ایک برداری یا طبقے کا نہیں بلکہ صوبے بھر میں دہشتگردی کے واقعات رو نما ہوئے ہیں ،مغربی بائی پاس پر موجود چند عناصر جذباتی ہیں لیکن سڑک کو بلاک کر نا مناسب نہیں ، دھرنے والے لوگ حکومت کی نیک نیتی کو مد نظر رکھتے ہوئے دھرنا ختم کریں اگر میرے دور میں کسی قسم کی لاپرواہی کا جان بوجھ کر کوتاہی برتی گئی ہے تو اسکی ذمہ داری لوں گا، بلوچستان کے تمام بڑے شہروں میں سیف اینڈ سمارٹ سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بوائز اسکاؤئٹ ایسوسی ایشن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے اس میں ہر برداری کے لوگ شہید ہوئے ہیں ،دھماکے کے فورا بعد صوبائی وزراء میر ضیاء لانگو اور میر نصیب اللہ مری تمام ہسپتالوں ، اور کیمپ میں گئے جبکہ انہوں نے نماز جنازہ میں بھی شرکت ہے ۔

حکومت اپنی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو یقین دہانی کروانے کی کوشش کر رہی ہے ،میں خود بھی آج فاتحہ خوانی کر نے گیا اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ہے لیکن احتجاجی کیمپ میں موجودچند عناصر جذباتی ہیں بائی پاس بندکرنا مناسب نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ بہت بڑا نقصان ہوا ہے لیکن حکومت امن و امان قائم کر نے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے حکومت کی نیک نیتی کو دیکھتے ہوئے دھرنا ختم کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچستان اور کوئٹہ کے سارے معاملات کو ٹھیک کرنا ہے سکیورٹی ہم سب کیلئے مسئلہ ہے کسی ایک خاص برادری کا نہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہربرداری آزادی سے گھومے اور وہ خود یہی بھی چاہتے ہیں ، صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ ایک بند حصار نہیں بلکہ آزادی سے رہنا چاہتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ کی بہتری پولیس کا نظام ٹھیک کرنے ،سسٹم اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے اورسیف سٹی منصوبے کی تکمیل وکامیابی سے ممکن ہے ، ہمیں ایسے میکنزم بنانے پڑیں گے جس سے قانون کا نفاذ بہتر بنا سکیں اور شہر کی سکیورٹی بہتر کریں ، اگرحکومت،پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پور ی نہیں کریں گے توسسٹم بہتر نہیں ہوسکتا، ہم سسٹم بہتر بنا رہے ہیں آہستہ آہستہ دہشتگردی کوختم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں ،چمن،کوئٹہ ، سنجاوی میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے جو کسی نہ کسی صورت میں صوبے میں رونما ہوتے رہتے ہیں ہم نے انکاتدارک کرنا ہے ، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ہم اگر حکومت ذمہ داری میں غفلت برتے یا جان کر کچھ کرے تو میں اس کی ذمہ داری لوں گا،انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی 7سال سے تاخیر کا شکار رہا ہے ہم نے تین ماہ میں اسکی شروعات کی اسوقت سیف سٹی کی کیبل ڈالی جارہی ہے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بن رہا ہے منصوبے پر کام جاری ہے سیف سٹی کو سمارٹ سٹی بنائیں گے ،سیف سٹی نا صرف امن وامان بلکہ شہر کی بہتری کے لئے بھی استعما ل کریں گے ، بلوچستان کے جتنے بڑے شہر ہیں ۔

وہاں سیف اینڈ سمارٹ سٹی لائیں گے یہ منصوبہ 100فیصد چیزیں بہتر نہیں کرتا لیکن جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا اور بہتری آئیگی ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مذہبی دہشتگردی ہو رہی ہے پولیس دہشتگردی کے واقعات کی تحقیقات اور روک تھام کے ساتھ ساتھ حملوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردارتک پہچانے کے لئے کردار ادا کررہی ہے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ملک اور صوبے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خلا ہے جسے پر کرنے کے لئے ہماری نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، بلوچستان کے نوجوانوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے اور وہ اس خلا کو پوراکرنے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے لئے عملی زندگی میں صحیح شعبہ کا انتخاب کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے طلباء اور طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزراء سردار محمد صالح بھوتانی، میر نصیب اللہ مری، نور محمد دمڑ، میر سلیم کھوسو، میر محمد خان لہڑی، پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند،دنیش کمار اور اکبر آسکانی بھی تقریب میں موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سی پیک کی بدولت صنعتی اور تجارتی ترقی کے انقلابی دور کا آغاز ہونے جارہا ہے جس میں ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کی بہت بڑی ضرورت ہوگی جبکہ گوادر بندرگاہ اور میری ٹائمز جیسے بڑے شعبے بھی پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے حصول تعلیم اور معلومات کو بہت آسان کردیاہے، نوجوان لیپ ٹاپ کو اپنی تعلیم اور شعبہ کے انتخاب کے لئے استعمال کریں، زندگی کے ہر شعبہ میں سپیشلائزیشن آگئی ہے اور اب عام تعلیم کی اتنی اہمیت نہیں رہی ،ہمارے نوجوانوں کو بھی اسی جانب جانا ہوگا، نوجوان اپنی بنیاد کو بہتر بنائیں اور اس بات کا اندازہ لگائیں کہ آئندہ پانچ سالوں میں کس شعبے کی کیا ضروریات ہوں گی، نوجوان اپنے وقت کا بہتر استعمال کریں اور اسے ضائع نہ کریں ۔

کیونکہ پڑھنے لکھنے کی عمر گذرنے کے بعد مزید سیکھنے کا موقع نہیں ملتا، انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ میں روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں جبکہ نجی شعبہ روزگار کے لئے وسعت اختیار کررہا ہے، نوجوان محنت کریں گے تو انہیں نجی شعبہ میں بہتر روزگار ملے گا اور معاشی تحفظ حاصل ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ چند سالوں میں بلوچستان سینٹرل ایشیا اور چین تک تجارت کا روٹ بننے جارہا ہے جس میں کوئٹہ کا بہت بڑا کردار ہوگا، اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، یہاں ہر قسم کا موسم ، ساحل، پہاڑ اور صحرا موجود ہیں ، ہماری آبادی بھی کم ہے جو خوش قسمتی کی علامت ہے، ترقی کے یہ تمام دروازے ہمارے نوجوانوں کے لئے کھلے ہیں اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح ان مواقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سوشل انوسٹمنٹ سیل قائم کیا ہے، سوش انوسٹمنٹ فنڈ کے ذریعہ ضلع کی سطح پر خواتین اور مردوں کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لئے مالی معاونت دی جائے گی اور لوگوں کو بزنس دے کر معاشی طور پر خودکفیل بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک نے اسی طرز پر اپنے لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کیا ہے، قبل ازیں پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء نے لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔