تربت: بی این پی عوامی تربت اورگوادر کے ضلعی عہدیداروں اورمرکزی کمیٹی کے ارکان اورسنیئرکارکنوں کا ایک مشترکہ اجلاس جمعہ کے روز تربت میں منعقد ہوا، اجلاس کے مہمان خصوصی بی این پی عوامی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری سعید فیض تھے جبکہ سینٹرل کمیٹی کے ارکان خلیل تگرانی اورامین قریش نے بھی خصوصی طورپر شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت ضلع کیچ کے صدرکامریڈ ظریف زدگ نے کی جبکہ ضلع گوادرسے صدرنبی بخش بابر اپنے کثیرتعدادپرمشتمل دوستوں کے ساتھ تربت پہنچ گئے،اجلاس میں کیچ کے کارکنان نے بھی کثیرتعدادمیں شرکت کی، اجلاس کاآغاز تلاوت قرآن پاک سے کیاگیاجس کی سعادت اللہ بخش جوہر نے حاصل کی، اجلاس میں شکیل شاد، نزیر آصف، راشدسلیمان، عبدالغفور کہدہ صدربی این پی عوامی پسنی، محمدعلی سنگھور، زاہدسلیمان، نبی بخش بابر، آصف محمدجان، ظریف زدگ، خلیل تگرانی، امین قریش اور مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری سعید فیض نے خطاب کیا اور سوال وجواب اورتنظیمی وسیاسی امورپر سیرحاصل بحث ہوئی۔
اورآئندہ کالائحہ عمل تشکیل دی گئی، اجلاس میں کہاگیاکہ تربت میں پے درپے ڈکیتی کی وارداتیں انتظامیہ اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی ناکامی کامنہ بولتاثبوت ہے اوراب تک ڈکیتیوں کے ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا قابل افسوس ہے اجلاس میں بتایاگیاکہ موجودہ حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے اورگوادرمیں کلانچی پاڑہ کے مکینوں کی بے دخلی کافیصلہ عوام دشمن ہے۔
جس کی بھرپور اندازمیں مخالفت کی جائے گی، اجلاس میں ساحلی علاقوں میں وفاقی اداروں کی تسلط کو قائم رکھنے کی سازش کوحقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے روکنے کامطالبہ کیاگیا اجلاس میں بتایاگیاکہ گوادر کے ایم این اے ا پنے وعدے سے مکرگیاہے الیکشن کے دوران ووٹ بٹورتے ہوئے انہوں نے غیرقانونی ٹرالرنگ کو ختم کروانے کا وعدہ کیا اب کہتے رہتے ہیں کہ یہ میرامسئلہ نہیں بلکہ جام کمال کی ذمہ داری ہے۔