|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ :  انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد طاہر بلوچستان نے کہا کہ جدید پولیسنگ اور پبلک سروس کو یقینی بنانے کیلئے ہمیں اپنے تفتیش کے نظام کو مستحکم بنانا ہوگا خود احتسابی اور انفرادی کردار سے بھی معاشرے میں جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔

شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اوران کے مسائل کا بلا تاخیر ازالہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقدس فریضے کی ادائیگی میں سپروائزری افسران کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس بلوچستان کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے ڈپٹی کمانڈنٹ سرفراز احمد فلکی کی سربراہی میں صوبہ سند ھ کے زیر تربیت ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ آف پولیس سے ملاقات کے دوران کہی۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز آغا محمد یوسف ، ڈی آئی جی فنانس سہیل احمد شیخ ،اے آئی جی آپریشنز نوید عالم ، کورس کمانڈر محمدجواد اسحاق،اے آئی جی آئی ٹی فاضل شاہ ،اے آئی جی جنرل عابد خان ، اے آئی جی لیگل شفیق الرحمن شاہوانی ، اے آئی جی سیکورٹی ڈویڑن ڈاکٹر سمیع ملک سمیت دیگرافسران بھی شریک تھے۔

آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ نوجوان افسران جدید پولیسنگ، پیشہ وارانہ اور خدمت خلق کے جذبے کو اپنا شعار بنا تے ہوئے پولیس اور عوام کے درمیان روابط کو بہتر سے بہتر بنائیں اورخود کو افسر سمجھنے کی بجائے اچھا سننے اور سیکھنے والے بنیں، فیلڈ ڈیوٹی میں حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں کام آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوران تربیت لگن اور محنت سے کام کریں مستقبل آئی ٹی بیسڈ پولیسنگ کا ہے،

نئے رحجانات اور مہارتوں کو سیکھنے پر خصوصی توجہ دیں محنتی، دیانتدار اور خدمت خلق کے جذبے سے سر شار ہی پولیس سروس میں کامیاب ہیں چنانچہ سپر وائزری افسران عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے ایک عام شہری کے مدد گار بنیں۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے لیڈی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی افسران اپنے کام سے دوسری خواتین کے لیے رول ماڈل ثابت ہوسکتی ہیں اور خواتین شہریوں کو درپیش مسائل کے ازالے کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان پولیس میں اصلاحات کا کام جاری ہے۔

بلوچستان میں بی ایریا سے اے ایریا میں ضم ہونے والے سابق لیویز اہلکاروں کو بہترین سطح پرجدید تربیت کا کام یکم جنوری 2026سے شروع ہو چکاہے تین ماہ پر مشتمل ٹریننگ کے دوران ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر کر نے کے لئے کا م جاری ہے۔

اشتہاری مجرموں کی گرفتاری کیلئے خصوصی مہم شروع کے دوران ا شتہاری گرفتار کرنے پر تمام رینجز کو مبارکباد دیتے ہوئے ا ن امر پر اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تما م رینجز ڈی آئی جیز اور ضلعی ایس ایس پیز موثر نظم و ضبط کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ عزم اور مربوط اور بہتر کارکردگی دکھائی جو کہ قابل سائش ہیں انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی کار کردگی دکھانے والے اضلاع کچھی ڈھائی لاکھ روپے ، حب کو دو لاکھ روپے ، کوئٹہ کو ڈیڑ ھ لاکھ روپے ، سبی کو ایک لاکھ روپے جبکہ کوہلو اور زیارت کو بتدریج سو فیصد کا رکردگی کے حوالے سے کوہلو کو 75ہزار اور زیارت کو 75ہزا ر دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کوہلو اور زیارت اضلاع کی اشتہاری مجرمان کی سو فیصد گرفتاری پر ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے اور دیگر اضلاع کو ان تقلید کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

آئی جی پولیس ، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشن کی کاوشوں کو سہراتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں صوبے کے تمام پولیس افسران نے مہم کے دوران انتھک محنت کر کے نظم و ضبط اور دیانت اعلی معیار کو برقرار رکھا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ عوام اور پولیس کے مابین اعتماد کے رشتے کو مضبوط رکھنے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد ڈی آئی جیز اور ایس ایس پی کی صدارت میں جاری ہے جس میں عوام کی براہ راست شنوائی اور داد رسی کی جاتی ہیں

انہوں نے بتایا کہ جدید اور بہترین پولیسنگ کے لیے عام ادمی کی ایریا پولیس آفیسر تک رسائی آسان اور ممکن ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ پولیس کے نظام اور عوام کے تحفظ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق رکھنے کے لئے انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہیں جن میں کریکٹر سرٹیفکیٹ ، ای لائسنس کے لیے موبائل یونٹ کا نظام موجود ہے

جس سے شہریوں کو مختلف دفتروں کے چکر لگانے کی بجائے ان کی مشکلات کم ہونی چائیں اور سیف سٹی کے تحت تنصیب جدید کیمروں سے ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے علاوہ جرم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکتی ہے سیریئس کرائم انوسٹیگیشن ونگ کے شعبے کے قیام سے پیچیدہ کیسوں کے حل میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں انہوں نے کہا کہ خود احتسابی نظام کے تحت کالی بھیڑوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے

جبکہ اچھی کارکر دگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کو نقدمات اورتعریفی اسناد سے نوازا جا رہا ہے پولیس کی تعداد دیگر صوبوں سے سب سے زیادہ بلوچستان پولیس کی ہے۔شہداء کے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری باقاعدہ پولیس ویلفیئر کے شعبے کے ذریعے کی جا رہی ہے جبکہ شہدا اور پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولت پولیس گرائمر اسکول کے ذریعے دی جارہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *