|

وقتِ اشاعت :   October 19 – 2019

خبر کیا ہے؟ صحافتی دانشوروں نے اس کی بے شمار تعریفیں کی ہیں پھر بھی حتمی نتیجے پر پہنچ نہیں پائے اورنہ ہی خبر کا احاطہ کر پائے۔ ایک تعریف جو مشہور ہے ”کتا آدمی کو کاٹ لے خبر نہیں بنتی لیکن اگر آدمی کتے کو کاٹ لے تو وہ خبر ہوتی ہے“۔ اب بھلا آدمی کتے کو کیوں کاٹے۔ اس خبر کی تلاش میں نہ جانے کتنے صحافیوں نے سر کھپائے ایسی خبریں انہیں دستیاب نہیں ہوتیں۔ جس نے یہ مشہور مقولہ بیان کیا تھا وہ خبر کا مدعا بیان کرنے کے لیے کافی تھا خبر وہ ہو جو چونکا دے اس میں انوکھا اور نیا پن ہو۔

بلوچستان کی شاہراہوں پر آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں حادثات میں قیمتی جانیں جاتی ہیں۔ سنگل کالمی خبرفقط حادثے کو کور کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے کسی کی جان چلی جائے اب روز کا معمول ہے،پھر بھلا اسے کون اہمیت دے، کوئی حادثہ پیش آئے،بلوچستان میں عام آدمی کی جان کی کیا قیمت اور حکومتِ وقت اس تکلیف کو بھلا کیوں کر محسوس کرے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہی کی مثال لے لیں کہ دہشتگردی کے واقعے کے بعد وہ کس طرح لواحقین کے پاس گئیں،انہیں گلے لگائیں اور رو پڑیں۔

پتہ ہے کیوں، کیوں کہ وہاں انسانی جانوں کی قدر ہوتی ہے۔ وہاں کے حکمران یہ بخوبی جانتے ہیں کہ جتنا ان کی جان قیمتی ہے اسی قدر ایک عام آدمی کی۔ اب اگر میرے اندر یہ سوچ جاگ رہی ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر یہاں کا حاکم وہی ردعمل پیش کرے تو میں خوابوں کی دنیا میں آباد ہوں، ورنہ اس کا عملی اطلاق یہاں محال نظر آتا ہے۔

سڑک حادثات سے متعلق آج کے اخبارات میں جو خبر پہلے صفحے پر جگہ پائی وہ سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے کمشنرمکران ڈویژن کی ہے۔ خبر بہت بڑی ہے۔ خبر ملنے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ امید در آئی ہے کہ شاید یہ خبر حکومتی توجہ سڑک حادثات کی جانب مبذول کرائے اور حکومت کوئی بڑا اعلان کر پائے۔ مگر بلوچستان کا بیچارہ بجٹ جس کا زیادہ حصہ سیکورٹی کھا جاتا ہے، سڑکوں کو کشادہ کرنے کا بوجھ کہاں سے برداشت کرے۔ صبر اور شکر کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان جو کئی دہائیوں سے سڑک حادثات کا شکار چلا آر ہا ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ان حادثات و واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے تشویش کا عالم یہ ہے کہ اب تو عام آدمی شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ سوچ میں پڑ جائیں گے کہ دو سالوں کے اندر سڑکوں کے ساتھ ایسا کونسا سانحہ ہو گیا کہ جو انسانی جانوں کو نگلنے لگا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اب لوگوں کا معاشی نظام مکمل طور پر انہی سڑکوں سے جڑ چکا ہے۔

شاہراہیں اب ایک منٹ کے لیے بھی خاموش نہیں رہتیں۔ مال بردار گاڑیوں میں اضافہ اور سڑکوں کی تنگی نے حالات اس نہج پر پہنچا دئیے ہیں کہ گاڑیوں میں تصادم کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔ دو دہائیوں سے معاشی اور سماجی استحصال کا شکار بلوچستان معاشی طور پر صفر پر آچکا تھا۔ روزگار کے ذرائع ناپید ہو چکے تھے۔ زراعت اور غلہ بانی کا شعبہ جو کسی زمانے میں بلوچستان کی معیشت کوسہارا فراہم کرتا چلا آرہا تھا، زمینی حالات و واقعات اور خشک سالی نے انہیں بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا۔ معاش کے ذرائع جب ختم ہوتے ہیں تو لوگ نئے ذرائع ڈھونڈنا شروع کر تے ہیں۔

اپنی کمزورمعاشی حالات کو سہارا دینے کے لیے لوگوں نے ایرانی تیل کا کاروبار شروع کیا۔ تیل کا یہ کاروبار بلوچستان کی تنگ سڑکوں پر کیا جانے لگا۔ لوگوں نے اپنی جو جمع پونجی ایرانی مال بردار اور تیل بردار گاڑیوں کی خریداری پر لگا بیٹھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا کہ بلوچستان کی شاہراہوں کو صرف انہی گاڑیوں کے لیے مختص کیا جائے تو یہ ان کے لیے تنگ گلی بن جائیں۔

تیل کے کاروبار نے گو کہ لوگوں کو عارضی طور پر معاشی جنجال سے آزاد کیا ہے مگر معیشت کے اس کھیل میں لوگ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ سڑک حادثات کی صورت میں دے رہے ہیں۔ جینا ہے یا مرنا ہے بس اسی کاروبار سے جڑے رہنا ہے کیونکہ یہاں روزگار کے دیگر ذرائع نا پید ہیں۔ تیل کے اس کاروبار میں صرف گاڑی مالکان فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ایک پورا سرکل ہے جس میں ڈرائیور، مزدور، ڈیلر، سپلائیر اور نہ جانے کون کون شامل ہیں۔ایک وہ جن کا سرمایہ اس کاروبار میں لگا ہوا ہے اور اس کاروبار کو دوام دینے کے لیے براہ راست شریک ہے۔

،دوسرا طبقہ وہ ہے جو براہ راست نہیں باالواسطہ طور پر اس سے وابستہ ہے۔ جن میں علاقے کے سرداروں سے لے کر سیکورٹی اہلکاروں تک شامل ہیں،تیل کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم سے وہ حلقہ بھی مستفید ہوتا ہے جو ایوانوں کی ہوا کھاتے ہیں۔ مگر اس کاروبار میں جان سے جاتا عام آدمی ڈرائیور اور اس کا ساتھی ہوتا ہے۔

جن راستوں سے تیل کی سپلائی کا کام تیزی سے ہو رہاہے ان پر آتشزدگی کے واقعات بھی تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں،حادثے کی صورت میں لوگ اس ہولناک آگ سے اپنے آپ کو بچا نہیں پاتے جسے چنگاری فراہم کرنے کا کام زیادہ تر پروبکس گاڑیوں کے اندر لدی ڈیزل اور پٹرول کرتے ہیں۔ کمشنر مکران ڈویژن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی گاڑی ایسے ہی تیل بردار گاڑی سے ٹکرا گئی ٹکراؤ کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

کمشنر قلات ڈویژن اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔واقعے کے بعد سماجی حلقے بھاری بھرکم توقع لیے بیٹھے ہیں کہ شاید یہ واقعہ حکومت کوجھنجھوڑنے پر مجبور کرے۔ لیکن بلوچستان حکومت وفاق کی طرف دیکھتی ہے،جبکہ وفاق کی نگاہیں بلوچستان کے معدنی خزانوں پر ہیں، رہی بات سڑکوں کی وہ تو رحم کی اپیلیں کر رہی ہیں۔ بس شکر اس بات کا کرنا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کو کابینہ کی تنخواہوں کے لیے اسلام آباد کا رخ نہیں کرنا پڑتا ورنہ دو دہائی قبل وزیراعلیٰ کو تنخواہوں کے حصول کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد کا چکر لگانا پڑتا تھا۔

حادثات میں کس طرح کمی آئے، لوگوں کا معاش کس طرح بہتر ہو، سڑکوں کو دو رویہ کس طرح کیا جائے اس پر حکومت بلوچستان کو سوچنا چاہیے۔ بلوچستان میں تیل کا کاروبار جو غیر قانونی ہو کر قانونی شکل اختیار کر چکا ہے، تو ایسا کیوں نہیں کیا جاتا کہ اسے باقاعدہ قانونی شکل دی جائے تاکہ وہ ٹیکس جوعرف عام میں بھتہ کہلاتا ہے انفرادی جیبوں میں جانے کے بجائے حکومتی خزانے میں چلی جائے اور پھروہ رقم سڑکوں کو دو رویہ کرنے پر خرچ ہو۔ میرا تو یہی ماننا ہے آپ کیا کہیں گے۔