|

وقتِ اشاعت :   April 11 – 2020

میں نے ایک ملاح سے پوچھا کہ سمندر کی گہرائی کتنی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ ”زر“ گواز نہ بیت“ یعنی سمندر کی گہری کو ناپنا ممکن نہیں۔ اور جب بھی نجی تعلیمی اداروں کی بات ہو تو گوادر میں زر سکول کا نام لیا جائے گا۔بقول ملاح کے جب زر کو ناپنا ممکن نہیں تو ایک ماہر تعلیم کے مطابق علم اور سمندر کی تہہ تک جانا بھی ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔

آج کے جدید دور میں ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے اچھے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر اپنے مستقبل کے ادھورے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکیں۔ حالیہ لاک ڈاؤن کے بعد جب ملک کے نجی تعلیمی ادارے سکولوں کے بندش کے باوجود والدین سے فیسوں کا مطالبہ کررہے تھے۔ تو عین اسی وقت گوادر میں موجود ایک نجی تعلیمی ادارہ ”زر پبلک سکول گوادر”کی جانب سے اعلامیہ جاری ہوئی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم والدین سے مارچ سے مئی تک فیس وصول نہیں کریں گے۔

اس کے بعد ”زر“ پبلک سکول گوادر کو ایک منفرد مقام حاصل ہوا۔ اور ہم نے زر پبلک سکول گوادر کے حوالے سے مذید کھوج لگانے کے لیے جستجو شروع کی تو اس حوالے سے سکول کی استانی مہر بلوچ نے ہماری بہتر انداز میں معاونت کی۔ میر عبدالغفور کلمتی ویلفئیر ٹرسٹ گوادر کے تعاون اور زیر انتظام زر پبلک سکول گوادر کی بنیاد 7 اگست 2017 کو رکھی گئی، اس وقت گوادر کے وسط میں واقع زر پبلک سکول گوادر میں 320 بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں، اور ان میں سے 200 بچوں کو سکول انتظامیہ کی جانب سے مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ یونیفارم، شوز اور کتابیں، نوٹ بک اور بستے مفت میں دئیے جارہے ہیں۔جبکہ ماہانہ فیس بھی دیگر نجی سکولوں سے کئی گنا کم صرف 500 روپیے ہے۔ سکول میں صرف پرائمری تک تعلیم دی جاتی ہے۔

اس وقت 16 استاتذہ زر سکول میں درس و تدریس کے نظام کو احسن طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اوسطاً تناسب 20 بچوں او بچیوں کے لئے ایک ٹیچر ہے۔جبکہ الف اعلان کے ایک رپورٹ کے مطابق ضلع گوادر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی اوسطاً تناسب 31/1 ہے۔ زر پبلک سکول کے پرنسپل نواز نصیر کا کہنا ہے کہ ہم نے اس تاثر کو ختم کردیا کہ غریب کے بچے نجی سکولوں میں پڑھ نہیں سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب بچوں کو تعلیم کے ساتھ وردی، کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات ہم مفت میں فراہم کررہے ہیں۔

نواز نصیر کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد دوسرے نجی تعلیمی اداروں کی طرح پیسہ کمانا نہیں بلکہ ہم غریب اور امیر کے بچوں کو یکساں تعلیم کے خواہاں ہیں۔ ہم بہت جلد پورے گوادر میں اپنے کیمپس قائم کریں گے۔ ہمارا مقصد ہے کہ گوادر میں غریب کے بچے بھی بہتر ماحول میں تربیت یافتہ استاتذہ کے زیر نگرانی میں کوالٹی ایجوکیشن حاصل کریں۔ نواز نصیر کا کہنا تھا کہ ہم ایک الگ سوچ اور وڑن کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ہم دوسروں سے الگ اس لیے ہیں کہ ہم کاپی پیسٹ کے بجائے الگ فارمیٹ سے تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

زر پبلک سکول کے ایک استانی مہر بلوچ کہتی ہیں کہ زر ایک وڑن کا نام ہے، رٹہ سسٹم کی بجائے ہم بچوں کو ان کے مزاج کے مطابق پڑھاتے ہیں۔ سکول کے ایک اور استانی ام کلثوم کے مطابق جب زر پبلک سکول کا نام آتا ہے تو لفظوں کا چناؤ مشکل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ زر پبلک سکول کی وجہ سے غریب ماؤں کے چہرے پر مسکرائٹیں بکھری ہوئی ہیں۔ مہر بلوچ کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے حوالے سے امیری اور غریبی کا فرق ختم ہوسکے۔ جب امیروں کے بچے پڑھ رہے ہیں وہاں غریبوں کے بچوں کو بھی پڑھنا کا موقع ملے اور یہ کام گوادر کی سطح پر زر پبلک سکول کررہی ہے جس کا سہرا سکول کے پرنسپل نواز نصیر اور میر عبدالغفور کلمتی ویلفئیر ٹرسٹ کو جاتا ہے۔

مہر بلوچ نے کہا کہ یہاں بچوں اوربچیوں کے ساتھ ساتھ استانیوں کو بھی بہتر ماحول کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات مل رہے ہیں۔ سکول کے ایک استانی انیلا نے کہا کہ ”زر“ دیگر نجی تعلیمی اداروں سے اس لیے مختلف ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کی قدر ہے۔ نواز نصیر کا کہنا ہے کہ غریب طلبا و طالبات کے ادھورے خواہشات کی تکمیل ہمارے سکول کا مقصد ہے۔

ہم غریبوں کو مفت میں تعلیم دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے سکول کے اصولوں کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ نواز نصیر مزید کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد اس وڑن کو گوادر کے علاوہ دیگر اضلاع تک لے جائیں مگر مالی مشکلات ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم ابنارمل بچوں اور بچیوں کے لیے بہترین اساتذہ کے زیر نگرانی میں الگ کلاسز کا آغاز کرسکیں۔