|

وقتِ اشاعت :   August 14 – 2020

وزیراعظم عمران خان نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کا افتتاح کردیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بی آر ٹی پاکستان میں سب سے بہترین پراجیکٹ ہے۔ بی آر ٹی سے ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا۔ بی آر ٹی پشاور کا ٹریک 27 کلو میٹر طویل ہے۔ بی آر ٹی منصوبے پر میرے کچھ تحفظات تھے۔ پرویز خٹک کو بی آر ٹی منصوبے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ بی آر ٹی پر میرے تحفظات غلط تھے پرویز خٹک آپ ٹھیک تھے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے ٹکٹ کے 10 روپے ہر عام آدمی دے سکتا ہے۔

عام آدمی کے لیے یہ منصوبہ بہت بڑی نعمت ہے۔عمران خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے سسٹم سے بہتری آتی ہے۔ بی آر ٹی کی ہائبرڈ بسوں سے فضائی آلودگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم عمران خان کو بی آر ٹی سروس سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ بی آر ٹی پشاور کا ٹریک 27کلو میٹر طویل ہے۔ بی آر ٹی کے ٹریک پر220 ائیر کنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی۔ بی آرٹی بسیں ہفتہ بھرصبح 6سے رات 10 بجے تک چلیں گی۔پاکستان تحریک انصاف نے یہ منصوبہ ڈھائی سال بعد مکمل کیا ہے۔ ایک ماہ سے جاری بی آرٹی ٹیسٹ سروس کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق بی آر ٹی سروس سے جڑے چند ضمنی منصوبے افتتاح کے بعد آگے بڑھائے جائیں گے۔دو سال دس ماہ کے دوران منصوبہ متعدد تنازعات اور مسائل کا بھی شکار رہا۔ اکتوبر 2017 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے دور کے میگا پراجیکٹ پشاور بی آرٹی کا سنگ بنیاد رکھا اور چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔چھ ماہ ابھی گزرے بھی نہیں تھے کہ منصوبہ میں تنازعات اور نقائص سر اٹھانے لگے۔ بی آرٹی کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 49 ارب 34 کروڑ روپے لگایا گیا تھا جو بڑھ کر 70 ارب 72 کروڑ تک پہنچ گیا۔

ناقص منصوبہ بندی کے باعث ڈھائی سال تک منصوبے میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری رہا۔ منصوبے کی تکمیل کیلئے پرویز خٹک سے لیکر اب تک 7 دفعہ سر کاری ڈیڈ لائن دی گئی تھیں۔اس عرصے کے دوران بی آرٹی منصوبہ مختلف مالی اور انتظامی تنازعات کا بھی شکار رہا۔ ڈھائی سال تک منصوبے سے متعلق اربوں روپے کرپشن کی خبریں زیر گردش رہیں۔بہرحال یہ ایک خوش آئند عمل ہے کہ پشاور جیسے شہر میں عوام کو بہترین سفری سہولیات کیلئے بی آر ٹی کا منصوبہ بلآخر مکمل کردیا گیا جس سے عوام کی پریشانی میں کمی آئے گی مگر دوسری جانب کوئٹہ گرین بس سروس کے حوالے سے سابقہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اعلان کیا تھا۔

جس میں کوئٹہ کے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا تھا، آج چار سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا مگر افسوس کہ گرین بس سروس کی بنیاد تک نہیں رکھی گئی محض دعوے کی حد تک یہ منصوبہ اپنی جگہ موجود ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت اس منصوبہ کی تکمیل کیلئے کردار ادا کرتے مگر بدقسمتی سے اس اہم منصوبہ کو نظرانداز کیا گیا۔ بلوچستان کی محرومیوں کا ذکر تو کیاجاتا ہے ان کے ازالے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے حالانکہ بلوچستان میں جاری میگا منصوبوں سے وفاق کو اربوں روپے مل رہے ہیں۔

اس کے باوجود یہاں کے عوام تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ لہٰذا پی ٹی آئی تبدیلی کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کم ازکم عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجراء کو یقینی بنائے اور جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ بلوچستان کی محرومیوں کا کچھ تو ازالہ ہوسکے۔ پشاور بی آرٹی منصوبہ کی کامیابی پر وفاقی وصوبائی حکومت تحسین کے مستحق ہیں جس سے ایک پسماندہ صوبہ کے شہریوں کو سہولیات میسر آئینگی۔