|

وقتِ اشاعت :   September 15 – 2020

گوادر: وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اسد عمر نے کہا ہے کہ سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبہ میں جنوبی بلوچستان و مکران ڈویژن کو خصوصی طور پر اہمیت حاصل ہے حکومت نہ صرف گوادر کی ترقی بلکہ وہاں کے عوام،مچھیروں کے مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنے جا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے گوادر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور اعلیٰ حکام بھی انکے ہمراہ تھے، وفد نے گوادر کا دورہ کیا اور سی پیک منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر انھوں نے گوادر پورٹ اور بزنس سینٹر کا بھی دورہ کیا۔گوادر ایرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ وہ اعلی سطحی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایات پر جنوبی بلوچستان کا دورہ کررہے ہیں ماضی میں جنوبی بلوچستان کی تعمیر وترقی کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے اور سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبہ میں جنوبی بلوچستان و مکران ڈویژن کو خصوصی طور پر اہمیت حاصل ہے۔

حکومت نہ صرف گوادر کی ترقی بلکہ وہاں کے عوام،مچھیروں کے مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنے جا رہی ہے اور گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کے علاوہ گوادر میں بجلی،پانی جیسے اہم بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی انہوں نے کہا کہ گوادر کے بغیر سی پیک کا تصور نامکمل ہے اس موقع پر مہمانوں کو ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے سوہینرز تقسیم کئے گئے۔

دریں اثناء وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا بنیادی سیاسی فلسفہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر کے زمینی حقائق کو جاننا اور راہ راست مسائلِ معلوم کر کے ان کا مستقل اور دیرپا حل نکالنا ہے، جنوبی بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے وفاقی حکومت ایک اسپیشل پیکج بنا رہی ہے جس میں سی پی کے علاوہ کئی اہم منصوبے شامل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزراء کے ہمراہ تربت میں مختصر دورہ کے موقع ایف سی ساؤتھ کے ہیڈ کوارٹر میں عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور ڈپٹی سیکرٹری منصوبہ بندی مطہر رانا کے علاوہ صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان ظہور احمد بلیدی، ایم پی اے سید احسان شاہ، ایم پی اے لالہ رشید دشتی، مشیر فشریز حاجی اکبر آسکانی اور ایم پی اے ماہ جبین شیران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس دران آئی جی ایف سی ساؤتھ میجر جنرل سرفراز علی کے علاوہ کمشنر مکران طارق قمر، وزیر اعلی بلوچستان کے کوآرڈی نیٹر عبدالرؤف رند، ڈپٹی کمشنر کیچ میجر محمد الیاس کبزئی کے علاوہ فوجی حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وڑن اور احکامات کی روشنی میں جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے دورے پر تربت شہر میں آہے ہیں تاکہ لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر یہاں کے مسائل کی نشاندہی کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر ہم بلوچستان کے مسائل اور زمینی حقائق کا کبھی بھی مکمل علم نہیں ہوسکتا اور وہ یہاں اس لئے آہے ہیں تاکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ کہ بیشک بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس کے مسائل بے پناہ ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر رہی ہے تاکہ یہاں کے مسائل مقامی طور پر حل ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ایک سادہ فلسفہ ہے۔

اور انہیں اس فلسفے پر یقین ہے کہ وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جس میں کمزور طبقے پسماندہ ہوں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ ہے اور ان پسماندہ علاقوں میں سب سے زیادہ جنوبی بلوچستان کے اضلاع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت ملکر دو حصوں پر مشتمل ایک پیکیج پر کام کررہے ہیں تا کہ بلوچستان کے ان پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جاسکے۔وفاقی حکومت نے جنوبی بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی پیکج تشکیل دیا ہے۔

جن میں سڑکیں، تعلیمی ادارے، پانی کے منصوبے، ڈیم اور بندات کے علاوہ بجلی اور سولر سسٹم شامل ہیں،خصوصی پیکج میں روزگار کے بے پناہ ذرائع شامل کیے گئے ہیں کیوں کہ بے روزگاری کی وجہ سے پسماندگی اور انتہا پسندی پیدا ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیچ ایران راہداری کا مسلہ اگر کرونا کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے تو بہت جلد اس کو کھول دیا جائے تاکہ لوگوں کو آمدورفت میں جو مشکلات درپیش ہیں ان کو دور کیا جاسکے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت گوادر، بوستان کوئٹہ اور حب میں اکنامک انڈسٹریل زون بنارہی ہے تاکہ بلوچستان کی ترقی کو مذید تیز کیا جاسکے۔

بلوچستان کو سی پیک میں زیادہ سے فوائد دینے کے لیے پاکستان کی پرائیوٹ کمپنیاں اور چائنا کی ایک کمپنی کاٹن پاور کے لیے کام کرنے جارہی ہے، مکران میں زراعت کو اس سے فروغ ملے گا اور میرانی ڈیم کے کمانڈ ایریا میں پیدا ہونے والی قیمتی کاٹن کا ملک کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ساتھ جوان پروگرام بھی بلوچستان میں شروع کررہے ہیں۔

اس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، وزیر اعظم کی طرف سے نوجوانوں کو فوقیت دینے کے لیے نوجوانوں کے مسائل پر فوکس کیا جارہا ہے اس مقصد کے لیے ہر علاقے میں اسپورٹس سرگرمیوں کے لیے گراؤنڈ بنانے کا منصوبہ ہے وفاقی اسپیشل پیکج میں مکران میں اسپورٹس گراؤنڈ کے منصوبے بھی شامل کرائیں گے۔۔اس سے قبل معروف شخصیت میڈم رحیمہ جلال، میر حمل بلوچ، حاجی برکت رند، حافظ صلاح الدین سلفی، کے سی ایس کے کنوینر التاز سخی، مند کے معروف شخصیت حاجی محمد نور، ٹھیکیدار زبیر، کاروباری شخصیت مقبول عالم نوری، اسپورٹ مین شاہ دوست دشتی اور دیگر نے مختلف تجاویز پیش کیئے۔

اس موقع پر تحریک انصاف جنوب مغربی بلوچستان کے صدر وارث دشتی، معتبر شیرجان، یاسر بہرام رند، کہدہ مولابخش، کہدہ اقبال دشتی، حاجی رستم، تاج دوست رند سمیت دیگر شخصیات موجود تھے۔