ملتان: بلوچ طلبا کی جانب سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کیسامنے لگے احتجاجی کیمپ کو بیس دن بیت گئے مگر حکام کی جانب سے آہنی خاموشی اور بے حسی طاری ہے۔طلبا ء نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے تاحال ہمارے مسئلے پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ہمارے ایشو پر ہمارے ساتھ بات کی گئی۔
انہوں نے میڈیا کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم تعلیمی و سیاسی تنظیموں اور ہرطبقہِ فکر کیافرادسے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات کوحکومت اور یونیورسٹی حکام تک پہنچانے میں ہماری مددکریں۔انہوں نے حکومت کی بے حسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی بے حسی دیدنی ہے جوخود کو جمہوری کہتی ہے لیکن جمہوری اصولوں سے یکسر ناواقف ہے۔
وہ ہماری اس جمہوری جدوجہد کو معاندانہ آنکھوں سے دیکھ رہی ہے جیسے ہم طالع آزما لوگ ہیں یا اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی حکومت پرقبضہ کرناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کے یہاں آنے اور ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے سے آپ کی حکومت کیا کمزور ہوگی ہرگزنہیں بلکہ مزیدمضبوط ہوگی کیونکہ جمہوری حکومت مکالمے پہ یقین کرتی ہے مگریہاں مکالمے پر پابندی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ مکالمہ تو کرے تو معاملہ بھی حل کی جانب جائے گا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے معاملے کوحل کرے اور یونیورسٹی کوپرانی پالیسی کی پابندبنائے واضح رہے طلبا کے مطالبات میں بلوچستان کے طلبا کیلئے سکالرشپ کی دوبارہ بحالی کیساتھ ڈی جی خان اور راجن پور کے طلبا کیلیے کوٹے پہ سکالرشپ کا اجرا کرنے کیساتھ یونیورسٹی کے ہرشعبے میں مخصوص نشستیں مختص کرنا شامل ہے۔
یادرہے طلبا گزشتہ بیس دنوں سے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں مگرحکام کی طرف سے تاحال ان سے کسی قسم کارابطہ نہیں کیاگیا جبکہ طلبا نے مطالبات منوانے تک احتجاج جاری رکھنے کاعندیہ دیا ہے۔