|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2020

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے بورڈکا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار اور بورڈ کے دیگر اراکین اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ سیکریٹری محنت وافرادی قوت سائرہ عطا ء نے اجلاس کے ایجنڈا میں شامل نکات پر بریفنگ دی، اجلاس میں بی ٹیوٹا کو بھرپور طور پر فعال او رمفید بنانے سے اتفاق کرتے ہوئے اتھارٹی کے ایکٹ میں ضروری ترامیم کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس کے دوران بلوچستان میں جاری اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام پر عملدرآمدکی پیشرفت اور متعلقہ امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اس تین سالہ پروگرام کا تخمینہ 1200ملین روپے ہے، اس پروگرام کے تحت وزیراعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں کوئٹہ، پشین، پنجگور، سبی، آواران اور کوہلو اضلاع میں چھ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز قائم کئے جائیں گے، اجلاس میں بی ٹیوٹا کے تحت فنی تربیتی مراکز اور ان کے تربیتی پروگراموں کے معیار، سلیبس اور عالمی معیار کی سرٹیفکیشن سے متعلق امور اور مختلف تجاویز کا جائزہ بھی لیا گیا اور تعلیم، محنت اور دیگر محکموں کے تربیتی اداروں کے کورسز میں یکسانیت پیدا کرنے اور ان اداروں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بی ٹیوٹا کے سپرد کرنے سے اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں تکنیکی تعلیم کی خصوصی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تربیتی پروگراموں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا جبکہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام جو کہ پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے اسے بہتر بنانے اور ڈپلومہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح یہاں سے فارغ التحصیل افراد کو دنیا بھر میں قبول کیا جاسکے گا جبکہ سی پیک اور دیگر اہم ترقیاتی اور صنعتی منصوبوں کے لئے مقامی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ممکن ہوسکے گی اور دیگر ممالک میں بھی ہمارے ہنرمند نوجوان روزگار حاصل کرسکیں گے۔

اجلاس میں طے پایا کہ ڈپلومہ کو بتدریج ڈگری کی سطح تک ترقی دینے کے اقدامات بھی کئے جائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے تربیتی پروگراموں کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ جو کہ 1962ء کے آرڈیننس کے مطابق قائم ہے اس کے اثاثہ جات اور انسانی وسائل بی ٹیوٹا کو منتقل کئے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران متعلقہ ایکٹ میں ضروری ترامیم کے جائزہ کے لئے کمیٹی بھی قائم کی گئی اور مختلف ورکنگ گروپس اور کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں بی ٹیوٹا کو تمام تربیتی مراکز کو پالیسی گائیڈ لائن دینے اور مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں اتھارٹی کے ایم ڈی کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی جبکہ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ورکنگ گروپس میں چیمبر آف کامرس اور ٹریڈ یونینوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔

قبل ازیں بورڈ کے گذشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلاسود قرضوں کی فراہمی کے ذریعہ روزگار اور چھوٹے کاروبار کی سہولت کی فراہمی، غربت اور بیروزگاری کے خاتمے اور سود سے پاک معاشرے کا قیام چاہتی ہے جس سے چھوٹی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا جس میں وزیراعلیٰ سماجی اقتصادی انیشیٹیو کے جاری اور خاص طور سے مالی سال 2020-21ء کے لئے مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے نئے مالی سال کے سماجی ومعاشی ترقی کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی،صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار اور سیکریٹری محنت وافرادی قوت سائرہ عطاء بھی اجلاس میں شریک تھے۔

سیکریٹری خزانہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کووڈ۔19کے دوران وزیراعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں 550ملین روپے کی لاگت سے ایمرجنسی لون اسکیم متعارف کرائی گئی جس پر اخوت فاؤنڈیشن کے اشتراک سے عملدرآمد جاری ہے، اس اسکیم کے تحت اب تک 14765افراد کو بلاسود قرضے فراہم کئے گئے ہیں اور تاحال اس پروگرام پر 295ملین روپے خرچ ہوئے، اخوت فاؤنڈیشن کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ پروگرام ہر قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت سے پاک ہے جس سے اس پروگرام کی افادیت اور اس پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا، پروگرام کے تحت دیئے گئے۔

قرضوں کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جس کی شرح 95فیصد ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2020-21ء کے دوران وزیراعلیٰ بلاسود قرضہ اسکیم کے لئے بھی 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ روپے تک کا قرضہ فراہم کیا جائے گا جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کرسکیں گے، سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق بیروزگاری کے خاتمے کے لئے خودانحصاری پر مبنی روزگار اسکیم کے آغاز کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اجلاس کو صوبائی صحت انشورنس اسکیم کے تحت ہیلتھ کارڈ کے اجراء سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ اس اسکیم کا مقصد عوام کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی اور شعبہ صحت کو مستحکم بنانا ہے جس کے لئے ایک ہزار ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکیم کے تحت پہلے مرحلے میں صوبائی حکومت کے تین لاکھ ملازمین کو صحت کارڈ جاری کئے جائیں گے۔

اور اس اسکیم کو بتدریج عام عوام تک لے جایا جائے گا، اجلاس کو ضلعی سطح پر نجی شعبہ میں ہسپتالوں کے قیام کے لئے قرضہ کی فراہمی کے منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد شعبہ صحت میں نجی شعبہ کی معاونت سے عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرناہے، اجلاس کو بچیوں کی شرح تعلیم میں اضافہ کے لئے اسکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کو ماہانہ پانچ سو روپے وظیفہ کی فراہمی کی اسکیم کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

جس کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، اجلاس کو وزیراعلیٰ انوویشن چیلنج فنڈ برائے آئی ٹی پروفیشنلز اور زرعی کاروبار کے لئے مالی معاونت کی فراہمی کے پروگراموں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں معاشی وسماجی ترقی کے مجوزہ پروگراموں کی افادیت سے اتفاق کرتے ہوئے اصولی طورپر ان کی منظوری دی گئی تاہم محکمہ خزانہ کو ان اسکیموں کی جامع اسٹڈی کرنے اور ان پر تھرڈ پارٹی کے ذریعہ عملدرآمد کی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں ہنرپروگرام کے فروغ کے لئے اضلاع کی سطح پر ٹریننگ مراکز کے قیام کے ساتھ ساتھ ہائی اسکولوں میں بھی فنی تربیت کا شعبہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔