اسلام آباد: پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کیلئے سکالرشپس اور مخصوص نشستوں کے خاتمے کے خلاف بلوچ طلباء کا احتجاج مزید شدید ہو گیا طلباء کا ملتان میں احتجاج جاری جبکہ گزشتہ روز اسلام آباد اور لاہور میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ملتان کے احتجاجی طلباء کیساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔
احتجاجی مظاہروں میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت مظاہرین تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کیلئے سکالر شپس اور مخصوص نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تفصیلات کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ کو پچیس دن مکمل ہوگئے ہیں مگرحکام کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی بلوچ طلباء کونسل کے رہنما وقاربلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ پچیس دن سے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
لیکن حکام اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور قلم کی دنیا سے وابستہ لوگ ہماری اس پرامن جدوجہد کو نظرانداز کررہے ہیں۔چیرمین وقاربلوچ نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر ہمارے لیے افسوس ناک ہے کہ ہماری قوم کے نوجوان اور سیاست دان ہماری اس احتجاجی تحریک سے چشم پوشی کررہے ہیں۔
انہوں نے قوم اورسیاست دانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہماری تحریک سے وابستہ رہیں اور ہماری آواز کو اعلی حکام تک پہنچانے کی کوشش کریں۔انہوں نے اس موقع پر بلوچستان اورپنجاب حکومت کی طرف سے سردمہری پراظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ یہ امر ہمارے لیے باعث تشویش ہے کہ جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے ہماری آواز کو حکومت سن نہیں پارہی اور نہ ہی ہمارے مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی طرف سے فیس وصولی کے پالیسی کو روکیں اور ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقوں کیلئے کوٹے پراسکالرشپ کااجراء کرنے کیساتھ ان کیلئے ہرشعبے میں کوٹے کی تخصیص ممکن بنایاجائے۔دریں ا ثنائبلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بلوچستان اور سابقہ فا ٹا کے طلباء کے اسکالرشپ کی بحالی کے لئے احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔
جس میں بڑی تعداد میں طلباء،مزدور اورسماجی کارکنوں سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجی کیمپ میں موجود شرکاء نے بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلباء کی سیٹوں کی بحالی کے لیے نعرہ بھی لگائے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہاؤ الدین یونیورسٹی ملتان کے طلباء پچھلے 24 روز سے جامعہ کے باہر کیمپ لگائے بیٹھے ہیں اور انکا یہ احتجاج یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلباء کے اسکالرشپ ختم کرنے کے فیصلہ کے خلاف ہے۔
ایک طرف ان طلباء کے اپنے علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات محدود ہیں یا اکثر علاقوں میں سرے سے ہوتی ہی نہیں ہیں اور اب شہری مراکز کا رخ کرنے پر مجبور ان طلباء سے اسکالرشپ بھی چھین لی گی ہے اس کا سب سے زیادہ اثر محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء پر ہوتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ عالمی وباء کرونا سے پہلے ہی طلباء کا تعلیم متاثر ہوا ہے۔
اب جامعہ ملتان کی جانب سے اسکالر شپ کا خاتمے سے بلوچستان کے طلباء اور زیادہ پریشان ہیں انہوں نے حکومت پنجاب اور بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان یونیورسٹی سمیت پنجاب میں زیر تعلیم تمام طلباء کی اسکالرشپ فوری بحال کی جائیں تاکہ بلوچستان کے طلباء اپنی تعلیم کو جاری رکھ سیکں۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ بلوچستان حکومت کے ڈیفالٹر ہونے کی وجہ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلباء کو اب سکالر شپ نہیں مل سکتی ہے۔ اسکالرشپ کاآغاز پی پی پی حکومت میں آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکچ کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔
جس کے مطابق بلوچستان کے طلباء پنجاب کے تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلے لے سکتے تھے اور اس کے علاوہ وظیفہ حاصل کرنے کے بھی اہل قرار پائے تھے۔ وظیفہ تو نہ مل سکا لیکن طلباء کے لئے یوں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے کچھ مواقع پیدا ہوئے مگر 2017 میں اوپن میرٹ پر ہونے والے داخلوں کے نام پر اسکالرشپ ختم کر دئے گئے اور 2 فیصد کوٹہ رکھا گیا جس سے بلوچستان سے دو دو اور فاٹا سے چار چار طلباء پنجاب کے تعلیمی اداروں کے ہر شعبہ میں پڑھنے جا سکتے تھے۔ حالیہ صورتِ حال یہ ہے کہ اس کوٹہ پر آنے والے طلباء کے لئے بھی اسکالرشپ ختم کر دئے گئے ہیں۔
بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلباء داخلے تو لے سکتے ہیں مگر انہیں کوئی اسکالرشپ نہیں دئے جائیں گے اور ٹیوشن فیس سے لے کر ہاسٹل کی فیسیں بھی اب طلباء کو خود برداشت کرنے ہونگے انتظامیہ کا موقف ہے کہ 2017 سے بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بلوچستان کے طلباء کے اسکالرشپ کی مد میں جو رقوم پنجاب کی جامعات کو بھیجنا تھیں، ان رقوم کو ادا کرنے سے حکومت قاصر رہی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2017 سے اب تک پھر بھی جیسے تیسے طلباء کے لئے جامعہ نے اسکالرشپ کا انتظام کیا مگر اب حالیہ ایچ ای سی بجٹ میں کٹوتیوں کے بعد ان اسکالرشپس کا بوجھ اٹھانا جامعہ کے لئے ممکن نہیں ہے۔