|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2020

ڈیرہ مرادجمالی: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے ڈیرہ مرادجمالی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم اپنا احتجاج سڑکوں میں کرنے کے بجائے اسمبلیوں کے اندر مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے عوام کا لوٹا ہوا پیسہ دینے پڑے گا بلوچستان حکومت مضبوط ہے بلوچستان حکومت کو غیر مستحکم کرنے والے پہلے 14اراکین تو پیدا کرکے دکھائے دس گیارہ اراکین بلوچستان حکومت غیر مستحکم کرنے کے بجائے۔

بلوچستان میں شروع ہونے والے ترقی کے دور میں شامل ہو جائیں انہوں نے کہاکہ ڈیرہ مرادجمالی شہر الاٹمنٹ کو سفید ہاتھی بننے سے پہلے کالا ہاتھی بنا کر عوام کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ایک روزہ دورے پرسوموار کے روز نصیرآباد پہنچے۔وزیراعلی کا صوبائی مشیرمحنت افرادی قوت حاجی محمد خان لہڑی اور صوبائی پارلیمانی سیکریٹری بی ڈی اے میر سکندرخان عمرانی،کمشنر نصیرآباد عابد سلیم قریشی۔

اوردیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے استقبال کیا۔اس موقع پرممبران قومی اسمبلی نوابزادہ میر خالد خان مگسی،نوابزادہ میر عامر خان مگسی، رکن صوبائی اسمبلی وسابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میرجان محمد جمالی، صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم خان کھوسہ، صوبائی وزیر زراعت انجینئرزمرک خان اچکزئی،صوبائی مشیر اقلیتی اموردھنیش کمار،ڈپٹی کمشنرحافظ محمد قاسم کاکڑ،سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجودتھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے تحصیل چھتر تا ڈیرہ مرادجمالی، فیض آبادبراستہ غفورآباد تا این 65ڈیرہ مرادجمالی شاہراہ کے کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ایکسین بی اینڈ آر روڈ ز بشیراحمد ناصرنے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے فٹسال اسٹیڈیم، دارالامان، وومن ہاسٹل،پاپولیشن آفس، رہائشی کالونی کا سنگ بنیاد اورافتتاح کیا۔ایکسین بی اینڈ آر (بلڈنگز)عبدالرحمان کاکڑ نے وزیراعلیٰ کو تعمیراتی کام کے متعلق تفصیل سے بریفنگ دی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان کے اعزاز میں صوبائی مشیرمحنت افرادی قوت حاجی محمد خان لہڑی اور صوبائی پارلیمانی سیکریٹری بی ڈی اے میر سکندرخان عمرانی کی جانب سے ڈیرہ مرادجمالی اور غفورآباد میں علیحدہ علیحدہ تقریبات منعقد کی گئیں۔وزیراعلیٰ جام کمال خان جب عوامی اجتماعات میں پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

تقا ریب میں وزیراعلی کو صوبائی مشیرمحنت افرادقوت حاجی محمد خان لہڑی اور صوبائی پارلیمانی سیکریٹری بی ڈی اے میر سکندرخان عمرانی نے انہیں خوش آمدید کہا اور سپاسنامے پیش کئے۔ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے انفرادی ترقیاتی اسکیمات متعارف کروائیں۔ اربوں روپے خرچ کئے گئے مگر ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام کے خون پسینے کی کمائی کو یوں ہی ضائع کیا گیا۔

اگر سابقہ حکومتیں صوبے کی بہتری کے لئے صحیح اقدامات کرتیں تو آج عوام ان کی لاپرواہی کا خمیازہ نہ بھگت رہی ہوتی ہم ڈرائنگ روم کی حکمرانی کرنا پسند نہیں کرتے ہم عملی طور پر اقدامات کر رہے ہیں ہمارے اقدامات زمینی حقائق پیش کرتے ہیں۔حکمرانی صرف پیسہ خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہی اصل حکمرانی ہے۔انہوں نے کہاکہ نصیر آباد اور سبی ڈویژن میں دس ارب روپے کی لاگت سے نئی سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

بلیک ٹاپ روڈ ایک سڑک نہیں بلکہ ان علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہیں ان سڑکوں کی تعمیر سے مختلف دیہاتوں کو شہروں سے جوڑا جارہا ہے۔نصیر آباد ڈویژن میں روڈ کی ہر اسکیم 60 سے 150 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے انہوں نے کہاکہ عنقریب بلوچستان کی تمام میونسپل کمیٹیوں کوکارپوریشن کا درجہ دیا جائے گا تاکہ لوگوں کے نچلی سطح تک مسائل حل ہو سکیں۔

چھتر تا ڈیرہ مراد جمالی روڈ کو مزید توسیع دی جائے گی تاکہ دور دراز علاقوں کو شہروں سے جوڑا جا سکے۔نصیر آباد کے دو سو ساٹھ کینسر کے مریضوں کا مفت علاج معالجہ کر وایا جا رہا ہے۔بلوچستان میں انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے غریب افراد کا مفت علاج کیا جا رہا ہے.نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بجٹ میں اسپورٹس کمپلیکس پورے صوبے میں تعمیر کیے جائیں گے تاکہ یوتھ کے مسائل حل ہو سکیں۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کرے،سڑکوں پر بیٹھنا بیجا ہو گا۔نصیرآباد میں پہلی مرتبہ دارلامان قائمکیا جا رہا ہے جو یہاں کی عوام کا دیرینہ مطالبہ تھاانہوں نے کہاکہ صوبے بھر کے تمام انٹر کالجز کو ڈگری کالج کا درجہ دیا جا رہا ہے بلوچستان بھر میں میڈیکل کی سیٹوں میں اضافہ کر کے 350 سیٹیں کر دی گئی ہیں اور ڈیرہ مراد جمالی میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صوبے بھر میں یکساں طور پر ترقیاتی عمل جاری رکھا ہوا ہے ہماری تمام تر اسکیمات اجتماعی نوعیت کی ہیں ہم وہ اقدامات کر رہے ہیں جس سے بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔ترقیاتی اسکیمات میں خرچ ہونے والی رقم عوام کی امانت ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جا رہی ہے۔ہماری حکومت میں کام کی نوعیت پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔

غیر معیاری کام اس حکومت میں ہرگز قابل قبول نہیں ہونگے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور کسانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو ٹریکٹرزاوربلڈوزر کی فراہمی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔