|

وقتِ اشاعت :   December 23 – 2020

افغان انتخابات کی نگرانی کرنے والے رضاکار جنہوں نےا نتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے آزادانہ تنظیم قائم کر رکھی تھی ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے، پولیس اور ان کے ساتھی کے مطابق قاتلوں نے انہیں گھات لگا کر قتل کیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محمد یوسف رشید پر حملہ بدھ کے روز کابل کے جنوبی مضافاتی علاقے میں اس وقت ہوا جب وہ اپنی کار میں سوار ہو کر کام پر جارہے تھے۔

ان کا قتل حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان کی نمایاں شخصیات پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی طرز پر ہوا جس میں اکثر کو صبح کے مصروف ٹریفک کے اوقات میں نشانہ بنایا گیا۔

ان کے ساتھی عبدالوہاب نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ حملے کے نتیجے میں یوسف رشید زخمی ہوگئے تھے اور ہسپتال پہنچ کر انہوں نے دم توڑ دیا جبکہ ان کا ڈرائیور بھی زخمی ہے، کابل پولیس کے ترجمان فریڈاز فرامرز نے بھی حملے کی تصدیق کی۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق کابل میں ہی ہونے والے ایک علیحدہ حملے میں پولس کی گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے ایک پولیس افسر ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات جاری ہونے کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے سے پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں نمایاں شخصیات بشمول سیاستدانوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو نشاہ بنایا گیا۔

یوسف رشید کے قتل سے ایک روز قبل ہی کابل کے مضافات میں ایک جیل کے لیے کام کرنے والی 2 خواتین ڈاکٹروں سمیت 5 افراد کو گاڑی میں بم نصب کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

اس سے 2 روز قبل ایک نمایاں افغان صحافی کو غزنی شہر کے مشرق میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

رحمت اللہ نیک زاد 2 ماہ میں مارے جانے والے چوتھے صحافی جبکہ رواں برس قتل کیے گئے ساتویں میڈیا ورکر تھے، وہ 2007 سے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ پریس کے لیے کام کر رہے تھے اور اس سے قبل وہ الجزیرہ براڈکاسٹ نیٹ ورک کے ساتھ بھی کام کرچکے تھے۔

داعش گروپ نے کابل میں حالیہ حملوں میں سے چند کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

قبل ازیں 15 دسمبر کو کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں دارالحکومت کے ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی ہلاک ہوگئے تھے۔