|

وقتِ اشاعت :   January 10 – 2021

واشنگٹن: کیپٹل ہل کی عمارت میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مستعفی نہ ہونے پر ڈیموکریٹس ان کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک لانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

 ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ مواخذے کی تحریک کی کارروائی کا آغاز پیر سے قبل شروع کردیا جائے گا، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اور یہ عمل 20 جنوری کو جوبائیڈن کی جانب سے صدارت سنبھالے جانے کے وقت تک مکمل نہیں ہوپائے گا۔

ہاؤس کی اسپیکر ننسی پیلوسی نے خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس، ڈونلڈ ٹرمپ کے مستعفی ہونے سے قبل کارروائی کا آغاز کرسکتے ہیں یا نائب صدر مائیک پینس 25 ویں ترمیم نافذ کرسکتے ہیں، جس کے ذریعے کابینہ صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پیلوسی کا کہنا تھا کہ ‘وہ منحرف اور خطرناک ہیں، انہیں ضرور جانا چاہیے’۔

خیال رہے کہ مواخذے کی تحریک کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے کیپٹل ہل میں احتجاج اور پُر تشدد مظاہروں کے بعد سامنے آیا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے تیار کی گئی مواخذے کی تحریک میں کیپٹل ہل کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ ‘اس تمام میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور اس کے اداروں کی سیکیورٹی کو شدید خطرے سے دوچار کیا، انہوں نے جمہوری نظام کی سالمیت، اقتدار کی پُرامن منتقلی میں مداخلت اور حکومت کی تعاون برانچ کو متاثر کیا’، یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن میں نومبر کے صدارتی انتخاب کے خلاف ریلی کا انعقاد کریں تاحال منحرف تھے، یہاں تک کہ انہوں نے جمعرات کو ایک جاری ویڈیو بیان میں وعدہ کیا کہ وہ جوبائیڈن انتظامیہ کو اقتدار منتقل کردیں گے۔

لیکن ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘یہ ابھی جنگ کی ابتدا ہے’، جس کے بعد ٹوئٹر نے ان کا اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کردیا اور ڈیموکریٹس کو ان کے خلاف تحریک لانے کے لیے اکسایا۔

ڈیموکریٹس کے سیکڑوں اور ریپبلکن کے ایک قانون ساز، الاسکا سے سینیٹر لیزا مورکووسکی، نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار کے آخری ہفتے میں مواخذے سے بچنے کے لیے مستعفی ہونے پر زور دیا تھا، تاہم وہ اپنے معاونین سے بھی بات چیت میں ناکام رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی اس خیال کا اظہار نہیں کیا کہ ان کے حامی کیپٹل ہل کی عمارت پر حملہ کریں، تاہم پُر امن احتجاج کی حمایت کی تھی، جہاں کانگریس میں الیکٹرول کالج میں جوبائیڈن کی کامیابی کے لیے کوششیں جاری تھیں۔

دوسری جانب، 20 جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے جوبائیڈن سے جب ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘کانگریس نے جو فیصلہ کیا ہے تو وہ انہیں کرنا چاہیے’۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بدھ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج میں تبدیلی اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے اس حملے کے دوران کیپیٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) کی عمارت میں موجود قانون دان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ڈیسکوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں کیپیٹل ہل کے اندر ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد میئر نے تشدد میں کمی کے لیے شام کے وقت واشنگٹن میں کرفیو نافذ کردیا۔

امریکی دارالحکومت میں ناخواش گوار مناظر دیکھ کر دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور حکومت نے مذمت کی تھی جبکہ فیس بک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سوشل میڈیا ایپس پر غیر معینہ مدت کے لیے بلاک کردیا تھا۔