|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2021

اگر آپ نے کرکٹ کھیلی ہو یا خاص کر فرسٹ کلاس لیول تک کم از کم کرکٹ کھیلی ہو تو کچھ کھلاڑیوں کیلئے ایک لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ کھلاڑی ( ماٹھا )ہے اسکے معنی ہوتے ہیں کہ کھلاڑی کا کھیل کم از کم درجے سے بھی کم ہے ایسے کھلاڑی پر ٹیم یا خاص کر کپتان کبھی اعتماد نہیں کرتا لیکن کبھی کبھی ایسے ہی ماٹھے کھلاڑی کھیل کا پانسہ پلٹ دیتے ہیں ۔بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت میں کپتان کو اور چند ایک کھلاڑیوں کو چھوڑ کر بہت سے کھلاڑی ایسے ہی ماٹھے ہیں جب موجودہ اسمبلی وجود میں آئی تو اسکے دو اراکین کے بارے میں ابتداء میں میری رائے تھی کہ یہ دونوں ماٹھے کھلاڑی ہیں۔

دونوں کا تعلق بلوچستان کے پشتون علاقوں سے ہے دونوں بلوچستان کے حکمران اتحاد کا حصہ بھی ہیں ایک بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسٰی خیل ہیں اور دوسرے ژوب کے بت شکن مٹھا خان کاکڑ ۔جام کمال کی کابینہ کا حصہ ہیں جب ان دونوں کو پہلی بار اسمبلی میں دیکھا تو یہ رائے قائم کرلی کہ دونوں کھلاڑی ماٹھے ہیں لیکن گزرتے وقت کیساتھ نوجوان ڈپٹی اسپیکرسردار بابر موسیٰ خیل نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا کہ انکے بارے میں میری رائے غلط تھی ۔ابتداء میں وہ نئے تھے لیکن اب اپنی کریز پر سیٹ ہوچکے ہیں۔

بلکہ اپنی کارکردگی سے وہ قائد ایوان جام کمال کی گڈبک کا بھی حصہ ہیں۔ دوسرے کھلاڑی مٹھا خان کاکڑ گو کہ ایک عوامی انداز رکھنے والے شخص ہیں لیکن اردو بولنے میں ہچکچاتے ہیں یا تقریر سے جسکے نتیجے میں جب بھی اسمبلی کے فلور پر آتے ہیں تو اجلاس کو گل گلزار بنا دیتے ہیں۔ پتہ نہیں ان کی کونسی ادا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو بھا گئی ہے کہ وہ مٹھا خان کاکڑ کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔اتوار کے روز وزیر اعلٰی بلوچستان کی دعوت پر ان دونوں کے حلقہ انتخاب کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ مٹھا خان کاکڑ بھی عوام کا حق نمائندگی ادا کررہے ہیں ۔

اور وہ گزشتہ انتخابات میں ژوب کے تیس سال سے ناقابل شکست بگ شاٹ کو شکست دیکر بلوچستان اسمبلی کے ایوان تک پہنچے ہیں۔ مٹھا خان کاکڑ کی پشتو میں تقریر کرنے اور اردو سے گریز کی وجہ انکا بہت زیادہ سیاسی ہونا نہیں ہے میں نے کبھی ژوب اور شیرانی کا دورہ نہیں کیا، یہ دونوں حلقے ژوب اور شیرانی میری دلچسپی کا مرکز ضرور تھے کیونکہ ان دونوں حلقوں کی سڑکیں ،راستے ایک تو اسلام آباد کی طرف جاتے ہیں تو دوسری جانب خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں سے جڑتے ہیں، اس لئے ان علاقوں کے جو ہمارے چینل کے نمائندے ہوتے تھے ۔

جب کبھی کوئٹہ آتے ان سے معلومات کا تبادلہ ضرور ہوتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ کے پی کے میں جاری ہے اسکے ان علاقوں پر کیا اثرات ہونگے چاہے کوئی چیز رپورٹ کرتا یا نہ کرتا معلومات کا ذخیرہ رکھنے کی کوشش ضرور کرتا رہا تھا۔ اتوار کے روز جب ہم ژوب اور شیرانی کے دورے کیلئے ژوب پہنچے ہی تھے کہ اپنے دوست سید علی شاہ جو کہ ڈان نیوز بلوچستان کے بیورو چیف ہیں او ر بلوچستان بالخصوص ہمارے پشتون علاقوں پر بڑی دسترس رکھتے ہیں ان سے پہلا سوال پوچھا کہ اس علاقے کی کیا خاصیت ہے۔

تو انہوں نے کہا کہ شاہد جان جیسے آپ بلوچ کہتے ہیں مکران آپکا باشعور علاقہ ہے ایسے ہی ہم پشتونوں میں ژوب اور لورالائی کو اہم تصور کرتے ہیں ۔ژوب کے پچاس ہزار مندوخیل پشین کے ڈیڑھ لاکھ لوگوں پر بھی بھاری پڑتے ہیں جسکی دو بڑی وجوہات یہ ہیں کہ ژوب کے کچھ مندوخیل جہاں کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ملک کے بڑے نام ہیں تو افسر شاہی اور فوج سمیت بڑے قومی اداروں میں ژوب کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس گفتگو کے دوران ہم ژوب سے شیرانی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کیلئے پرواز کرچکے تھے فضائی منظر میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کو دیکھنے سے حیرت میں اضافہ ہوا کہ بلاوجہ ہم کہتے ہیں۔

بلوچستان میں کوئی کام نہیں ہوا، اتنا خوبصورت ویل پلان ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہونے کے باوجود لوگ کیوں کہتے ہیں کہ شیرانی پسماندہ علاقہ ہے ۔آج بھی وہاں کے لوگ اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ژوب ہی جاتے ہیں ہیلی کاپٹر سے اتر کر ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال کا کانوائے جب سرکٹ ہائوس پہنچا تو ڈپٹی کمشنر نے بریفنگ شروع کی ۔اس بریفنگ نے میرے دماغ میں الجھتی گتھیاں سلجھانا شروع کردی تھیں مسئلہ یہاں بھی وہی تھا جو دیگر چند علاقوں میں دیکھ چکا ہوں۔ علاقے کے منتخب لوگوں نے اپنے گھر اور اپنے مفادات اور اپنے حلقہ انتخاب اور اپنی ذاتی زمین کو ترجیح دی۔

اس سے چاہے اسکا فائدہ عوام کو ہو یا نہ ہو لیکن غریب بلوچستان کی عوام کا پیسہ پانچ کلو میٹر میں جھونک دیا گیا جہاں نہ آبادی ہے نہ پانی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں جب جام کمال کے والد جام یوسف وزیر اعلٰی تھے جمعیت علماء اسلام انکی اہم اتحادی تھی اور سیاسی مصلحت کے تحت اتحادیوں کے مطالبے پر جام یوسف مرحوم نے شیرانی کو علیحدہ ضلع بنایا تھا پھر پی پی پی کے دور حکومت میں جمعیت علماء اسلام نے اس ٹائون کی پلاننگ تو منظور کروالی نہ تو تحصیل بنوائی، نہ سب ڈویژن بنوائے نہ یہ دیکھا کہ عوام اس ٹائون سے پچاس سے ساٹھ کلومیٹر دور ہیں کوئی رابطہ سڑک نہیں۔

لیکن بس ٹائون کا پیکج منظور کروالیا کیونکہ اس پیکج میں سیمنٹ اور سریا تھا اور جہاں یہ چیزیں ہیں تو خزانے بھرے جاتے ہیں۔ سیاسی لوگوں کے غلط فیصلوں نے آج ایک خوبصورت ٹائون کو بھی غیر آباد رکھا ہے ۔ اس بریفنگ کے دوران مجھے شدت سے دو احساس ہوئے ،نمبر ایک ہمیں اپنی افسر شاہی کی تقرری کے امتحان اور انکی تربیت کے بارے میں سوچنا پڑیگا علاقے کا ڈپٹی کمشنر اس غیر آباد علاقے میں مزید سرمایہ خرچ کرنے کی بریفنگ دے رہا تھا، چند منٹوں میں مجھے یہ لگ رہا تھا کہ اب اس پیسے کو ضیاع ہونے سے کیسے بچایا جائے جو غلط پلاننگ سے کی وجہ سے ہوا ہے۔

لیکن ڈپٹی کمشنر صاحب بریفنگ میں بتا رہے تھے مزید چیزیں درکار ہیں اور اسکے لئے انکی چیک لسٹ یا مطالبات کی فہرست لمبی تھی بجائے اسکے کے وہ یہاں آکر اس علاقے کو فعال کرنے کیلئے دستیاب وسائل میں کچھ کمی بیشی کرکے کوئی مسئلے کا حل بتاتے لیکن ایسا کوئی پلان انکے پاس نظر نہیں آیا، بھلا ہو علاقے کے نمائندے سردار بابر موسٰی خیل کا جنہوں نے وزیر اعلٰی کو ایک سڑک کی تجویز دی جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر تک عوا م کی رسائی کو آسان بنائیگی اور پھر کچھ یہ علاقہ فعال ہوگا جسکی تائید مٹھا خان کاکڑ نے بھی کی۔ اسکے ساتھ وزیر اعلٰی کی دلچسپی یہ تھی کہ ژوب میر علی خیل روڈ جس کے فیز ون کا افتتاح انہوں نے اس بریفنگ کے بعد کرنا تھا ۔

اس کے فیز ٹو کی تکمیل سے ژوب اور شیرانی کے عوام کو خیبر پختونخواہ اور اسلام آباد تک جوڑنے میں مزید آسانی ہو سکتی ہے کیونکہ جب تک آپ عوام کے رابطے سڑکوں کے ذریعے آسان نہیں بنائینگے ا س وقت تک ترقی کا پہیہ نہیں گھوم سکتا اور اس علا قے میں پانی کی فراہمی کیسے آسان ہوکیونکہ جو غلطیاں ماضی میں ہوئی ہیں انہیں اب درست کرکے پیسے کے ضیاع کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس لئے اس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس بنانے کی ضرورت ہے اور اسکا ادراک وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال کو ہے۔

شیرانی کے بعد ژوب پہنچے تو فورٹ سنڈیمن کا قلعہ میری توجہ کا مرکز تھا جسکو دوبارہ بحال کرنے کا کام جاری ہے، اسکے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال نے کچھ نئے بلاکس کی تعمیر کا سنگ بنیاد اور ایک ادارے بی آر ایس پی کے تعاون سے تیار کئے گئے ٹراما سینٹر کی نئی عمارت کا افتتاح کیا اور عملے کی فراہمی کیلئے کاغذی کارروائی کے بارے میں پوچھ گچھ کی جسکے بعد ہم فورٹ سنڈیمن کے قلعے کا دورہ مکمل کرکے اسکے دامن میں جلسہ گاہ تک پہنچے ۔اس عوامی اجتماع سے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت بی اے پی کے وزراء نے خطاب کیا۔

ان تمام تقاریر میں میرے لئے سب سے اہم تقریر سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی تھی۔ روایتی پشتون پگڑی پہنے اسلام آباد کے ایوان بالا میں بلوچستان کی آواز کہلانے والا متوسط طبقے کا پڑھا لکھا یہ شخص جب ڈائس پر آیا تو اس نے اپنی تقریر پشتو میں شروع کی اور ابتداء میں ہی حاضرین مجلس کو یہ بتایا کہ ژوب انکا آبائی علاقہ ہے وہ اس سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ جملے ادا کرتے ہوئے انکی آنکھوں کی چمک دیکھنے کے لائق تھا۔ اس تقریر میں انہوں نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ژوب کی ترقی کیلئے جو اقدامات موجودہ حکومت نے کئے ہیں۔

تیس سال تک اس علاقے کی نمائندگی کرنے والوں نے نہیں کئے تھے اس لئے آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپکو مٹھا خان کاکڑ جیسا نمائندہ اور جام کمال جیسا وزیر اعلٰی ملا ہے جسکے لئے بلوچستان کا ہر علاقہ اتنا ہی اہم ہے جتنا انکا اپنا علاقہ لسبیلہ ہے ،وہ دو روز قبل اگر نوشکی اور خاران میں تھے تو آج ژوب اور شیرانی میں ہیں جسکے بعد انہوں نے اپنے روایتی حریف قوم پرستوں اور مذہب پرستوں پر بھی بھر پور تنقید کرتے ہوئے ریاست کی اہمیت اور بیانئے پر مفصل بات کی ۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی تقریر کے دوران مجھے دو ہزار چھ کا وہ وقت یاد آنے لگا۔

جب انہوں نے باقاعدہ سیاست میں آنے کا اعلان کوئٹہ میں کیا تھا جسکے بعد ایک طویل سفر اور جدوجہد کے بعد آج وہ ایوان بالا کے رکن ہیں، میری چھٹی حس کہتی ہے کہ ژوب سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا نیا سیاسی میدان ہوسکتا ہے جہاں سے وہ مزید پیش قدمی کرینگے اب بھی انکا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا اب ژوب کے فورٹ سنڈیمن کے قلعے پر کس سیاسی جماعت کا جھنڈا مستقبل میں لہرائے گا اسکا فیصلہ ژوب کے عوام نے آئندہ انتخابات میں کرنا ہے ۔