|

وقتِ اشاعت :   February 16 – 2021

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ختم،وزیراعظم کا سینیٹ انتخابات کے لیے دی گئی ٹکٹوں پر نظرثانی کا فیصلہ۔ ذرائع کے مطابق سندھ سے سیف اللہ ابڑو اور فیصل واوڈا کی ٹکٹیں واپس ہونے کا امکان ہے خیبرپختونخوا سے نجیہ اللہ خٹک اور فیصل سلیم سے بھی ٹکٹیں واپس لی جاسکتی ہیں۔

پارٹی رہنماؤں نے سیف اللہ ابڑو پر تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ ابڑو نیب زدہ ہیں جبکہ فیصل واڈانااہلی سے بچنے کیلئے سینیٹر بننا چاہتے ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فیصل سلیم پر جعلی سگریٹس بیچنے کا الزام ہے جبکہ نجیہ اللہ خٹک کی پارٹی کے لیے کوئی خدمات ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے ٹکٹوں میں تبدیلی کا عندیہ دیدیا دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ٹکٹ میرٹ پر دیں گے۔

پارٹی کارکنان کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں کسی پیراشوٹر کو سینیٹر نہیں بنائیں گے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چاروں افراد پر الزامات کی خود تحقیقات کروں گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔دریں اثناء بلوچستان سے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ ٹکٹ کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ نے بلوچستان کی جنرل نشست سے عبدالقادر کو ٹکٹ جاری کیا تھا لیکن مقامی قیادت پھر یہ ٹکٹ ظہورآغا کو دیا گیا لیکن ظہور آغا کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ہی معطل نکلی ظہور آغا کی بنی گالہ میں دھرنے پر شوکاز کے ساتھ بنیادی رکنیت معطل کی گئی تھی سید ظہورآغا نے اس معاملے پر مقف دینے سے گریز کیا ہے۔

اور سینیٹ انتخابات کیلئیکاغذات نامزدگی جمع کرادیئے دوسری جانب ٹکٹ واپس لیے جانے پر عبدالقادر نے سینیٹ الیکشن کیلئے آزاد حیثیت میں کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔کے احتجاج کے بعد ٹکٹ واپس لے لیا تھا۔