|

وقتِ اشاعت :   February 25 – 2021

اوتھل: چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی پی ایچ آئی بلوچستان عزیز احمد جمالی نے کہاہے کہ مکران کوسٹل ہائی اور سی پیک روٹ پر مرک سینٹر بنائے جانے کا عمل آخری مراحل میں ہے بہت جلد کوسٹل ایریا میں مرک سنیٹر ز کا آغاز کردیا جائے گا ،ٹریفک حادثات میں زخمیوں کی جانیں بچانے میں مرک سینٹرز اہم کردار اداکررہے ہیں مرک سینٹر کے آغاز کے بعد اب تک 13ہزار زخمیوں کو ریسکیوکرچکے ہیں۔

بلوچستان میں دیگر دو پروجیکٹس ایم سی ایچ اور ٹیلی ہیلتھ سروسز کا آغاز بھی عنقریب کردیا جائے گا جس سے بلوچستان کے لوگوں کو صحت کی بہترسہولیات میسرہوسکیں گی بلوچستان کی تمام بنیادی مراکز صحت کی ادویات کا کوٹہ 25فیصد تک بڑھایا جائیگاان خیالات کااظہار انہوں نے پی پی ایچ آئی آفس اوتھل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوںنے کہاکہ بلوچستان کی تاریخ میںپہلی بار میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرریسکیو1122کے ذریعے لوگوں کو آن کال سروس مل رہی ہے۔

اسکا تمام ترسہرا پی پی ایچ آئی بلوچستان اور موجودہ حکومت کو جاتاہے بلوچستان میںمرک سینٹر کے قیام کے بعد روڈحادثات میں ہونے والی اموات میں نمایا ں کمی ہے کیونکہ مرک سینٹر میں تربیت یافتہ عملہ موجود ہے جو انسانی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے کوشاں ہے اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر گڈانی اور مکران کوسٹل ہائی پرلیاری سے لیکرگوادر تک ریسکیو1122کے سینٹرز بنائے جائیں گے تاکہ روڈ حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طورپر ابتدائی طبی امداد دی جاسکے۔

انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں مدر اینڈ چائلڈہیلتھ سروسز شروع کرنے جارہے ہیں اس میں تمام بنیادی مراکز صحت کے لیبررومز کو فعال کردیا گیاہے اور نئے تعمیرکرائے گئے ہیںپی پی ایچ آئی میں میری تعیناتی سے قبل 100کے قریب لیبررومز تھے لیکن دوڈھائی سال میں ہم نے 50مزید نئے لیبرروم قائم کئے ہیںیہاں پر زچہ وبچہ کی نارمل ڈلیوری ممکن ہوسکے گی۔

جبکہ حاملہ خواتین کے حمل کے دوران پیچیدہ آپریشن کوممکن بنانے کیلئے صوبائی حکومت کے تعاون سے بلوچستان کے علاقے خانوزئی میں رورل ہیلتھ سینٹر میں یہ سہولت فراہم کردی ہے اور اسکو مزید تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور رورل ہیلتھ سینٹر ز تک وسعت دی جائے گی یہ بلوچستان جیسے دوردارز پھیلے ہوئے علاقے میں بہت ضروری اور مفید ہے۔

اور بلوچستان حکومت سے صوبے کی 15رورل ہیلتھ سینٹرز (آر ایچ سیز) کو پی پی ایچ آئی کے حوالے کرنے کی استدعاکی ہے اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ بی ایچ یوز کا کیچمنٹ ایریا دوچار ہزار نفوس پر مشتمل ہوتاہے جبکہ آر ایچ سیز کا کیچمنٹ ایریا بیس پچیس ہزارنفوس سے زائدپر ہوتاہے تو اس سے زیادہ لوگوں کو صحت کی سہولیات مل سکتی ہیںانہوںنے کہاکہ بلوچستان میں ٹیلی ہیلتھ سروسز بھی شروع کی جارہی ہیں۔

اسکی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بلوچستان کے علاقے اور راستے بہت مشکل ہیں وہاں پر ڈاکٹرز یا ایکسپرٹ کا جانا مشکل ہوتاہے اور زبردستی انکی تقرری کرکے انکو بھیجنا بھی مشکل کام ہے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکا متبادل حل یہ نکالا ہے کہ اسلام آباد،کراچی اور کوئٹہ کے بڑے اور ماہرڈاکٹرزکو آن لائن کانسفرسنگ کی سہولت فراہم کردی ہے بی ایچ یواور آرایچ سی لیول تک اسطرح کے پانچ سینٹر ہم بلوچستان میںچلا رہے ہیں۔

انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مرک سینٹر پچاس سے ساٹھ فیصد اپنی پروگریس حاصل کرچکاہے لیکن اسکی فنڈنگ ہنوز سترہ فیصد تک کھڑی ہے تو یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنچ ہے اگر فنڈنگ کا عمل نہ بڑھایا گیاتومجبوراًہمیں اپنے کچھ سینٹرز بندبھی کرنے پڑسکتے ہیںاگر مرک سینٹر کی فنڈنگ کا مسئلہ حل ہوگیا تو تمام مرک سینٹر زکو دودوایمبولینس فراہم کی جائیں گی۔