|

وقتِ اشاعت :   March 30 – 2021

انتیس مارچ کی صبح اپنی صاحبزادی کو اسکول چھوڑ کر آتے ہوئے ریڈ زون کو دیکھا اور سوچنے لگا کہ کیا مارچ کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا اصل امتحان شروع ہوگیا ہے۔ کوئٹہ کے اس ریڈ زون کے گرد کنٹینر لگنے کا منظر اس سے قبل میری نظروں سے نہیں گزرا ہے، یہ منظر کیوں نظر آرہا ہے کیونکہ بلوچستان کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں پچیس فیصد اضافے کے مطالبے کو لیکر میدان میں اترے ہیں اور انہوں نے آج وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور موجودہ حکومت کے دور میں بڑے احتجاج دیکھے لیکن کسی احتجاج کیلئے حکومت کو اتنا الرٹ نہیں دیکھا جتنا اب دیکھ رہا ہوں۔

کیونکہ اب کار سرکار ٹھپ ہوگا، سیکریٹریٹ کے بڑے بابو چھوٹے افسران کو آنکھوں کے اشارے سے کہہ رہے ہونگے لگے رہو منا بھائی لیکن زبان سے کچھ اور کہینگے ۔زبان اور آنکھوں کے اس اشارے کے کھیل کے دوران بلوچستان حکومت کے ترجمان چھٹیوں پر ہیں اور محکمہ اطلاعات تاحال موجودہ دور سے ہم آہنگ ہی نہیں اور وزارت اطلاعات تو ہر دور کی طرح یہاں کھڈے لائن محکمہ ہی کہلاتا ہے اسلئے گزشتہ رات ایک بار پھر میری ریاست لسبیلہ کے والی جام کمال کو مجبوراً خود میدان میں اترنا پڑا اور احتجاجی ملازمین کو مخاطب کئے بغیر اپنی پالیسی کی وضاحت کردی ۔

ٹویٹر پر فعال رہنے والے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کسی کو مخاطب کئے بغیر عوام کو بتایا کہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کیسے بہتر ہوسکتی ہے، مستقل ملازمتوں کی فراہمی اور پھر اس میں ملازمین پر بہتر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے نے نظام کو تباہ کردیا ہے ہمیں ملازمتوں کی فراہمی کے طریقہ کار پر از سر نو غور کرنا چاہئے، تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح تنخواہیں بڑھائی گئیں ،مستقل ملازمتیں دینے کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ دو سے تین سال بعد بلوچستان پھر ان ہی حالات کا سامنا کریگا۔

جیسے حالات ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل تھے جب حکومت کو ملازمین کی تنخواہوں کیلئے اوور ڈرافٹ لینا پڑتا تھا ۔وزیر اعلٰی بلوچستان نے ٹویٹر پر دو چیزیں واضح کردیں ہیں کہ سرکاری ملازمت کا موجود ہ طریقہ کار درست نہیں ہے، اسے درست کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اسے درست کیا جائے تو کنٹریکٹ پر مزید پچاس ہزار لوگوں کو روزگار دیا جاسکتا ہے ۔جام کمال اس صوبے کے وہ وزیر اعلیٰ ہیں جو نظام میں موجود خامیوں پر اکثر کھل کر بولتے ہیں، بلوچستان میں کرپشن میں سیاستدانوں کے ملوث ہونے کے طعنے پر ٹویٹر پر کل کھل کر بولے اور اس ٹویٹ کا لب لباب یہ تھا کہ کرپشن میں صرف سیاستدان نہیں سرکاری ملازم بھی لتھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں بیوروکریسی کے ٹاپ سے باٹم تک سب کا لکھ کر پوچھا کہ کیا صوبے میں ہونے والی کرپشن کی ذمے داری صرف سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے، کیا یہ سرکاری ملازمین اسکا حصہ نہیں ہیں ۔وزیر اعلٰی بلوچستان کے اس موقف سے کسی کو اختلاف ہو یا نہ ہو میں سو فیصد متفق ہوں جو باتیں انہوں نے کیں اس میں کچھ غلط نہیں ہے لیکن وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال سے کچھ گزارشات سے قبل مجھے یہ اعتراف کرنے دیں کہ چاہے مرکز کی کوئی حکومت ہو یا بلوچستان کی ماضی کی کوئی حکومت اسے اتنا فری ہینڈ ملتے میں نے نہیں دیکھا جتنا اس وقت وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال کو حاصل ہے۔

چاہے مرکز ہو یا بلوچستان کوئی انہیں ہٹانے تو کیا تنگ کرنے کا بھی نہیں سوچ سکتا جو ایسا کرے گا یا کرنے کی ٹھانے گا تو وہ ایک مس کال کی مار ہے۔ مرکز پر آج بات کرنے کا وقت نہیں ہے اسلئے بلوچستان کی حد تک رہتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان سے چند گزارشات ہیں۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد جو پیسہ بلوچستان منتقل ہوا اسکی آزادانہ اور شفاف انکوائری کروائیں کہ کتنا پیسہ زمین پر خرچ ہوا اور کتنا کرپشن کی نظر ہوا۔ اس میں ملوث سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کو بلوچستان کی عوام کے سامنے نشان عبرت بنائیں ۔

دوسری گزارش ریکوڈک، سی پیک سمیت میگا پراجیکٹس میں کس نے کونسی کوتاہیاں کیں ، انہیں عوام کے سامنے لائیں اور ان منصوبوں میں کرپشن میں ملوث تمام عناصر کو احتساب کے کٹہرے میں لائیں چاہے وہ سرکاری ملازم ہوں یا سیاستدان ،اس میں کسی تفریق یا رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ تیسری گزارش یہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے منتخب اور محترم ایوان کو اسکے کام قانون سازی کیلئے استعمال میں لائیں نہ کہ تقاریر اور تحریک استحقاق تک یا ڈبیٹ کلب بنا کر رکھیں اور اسکے ساتھ غیر فعال بلدیاتی نظام کو فعال کریں۔

روڈ نالی کا کام بلدیاتی نمائندوں کے سپرد کردیں اور ایم پی اے فنڈ کو ختم کرکے آئندہ ڈھائی سالوں کے بجٹ کو بلوچستان کے میگا پراجیکٹس پر خرچ کریں۔ ابھی مارچ کا مہینہ چل رہا ہے گزشتہ ایک ہفتے سے آپ مختلف اجلاسوں کی صدارت کررہے ہیں جن میں آئندہ وفاقی بجٹ اور صوبائی بجٹ زیر غور ہے، اس بار تہیہ کرلیں بلوچستان کا پہلا کینسر ہسپتال اور کارڈیک ہسپتال آپ کے دور اقتدار میں مکمل ہوگا۔ بلوچستان کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ایک بہترین اسکول ،ایک بہترین کالج ،ایک بہترین ہسپتال قائم ہوگا ۔تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی ماسٹر پلاننگ کیساتھ اتنا ترقیاتی کام ضرور تکمیل کو پہنچے جتنا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت میں ڈھائی سال میں مکمل کیا تھا۔ اس بار کسی رکن اسمبلی یا وزیر مشیر کو فنڈ کے نام پر ایک روپیہ نہ دیں اور چرواہے کے بلوچستان کو بدل دیں ۔

اگر ان میں دو بڑی گزارشات ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد آنے والے فنڈز کی تحقیقات کی تکمیل اور ریکوڈک سی پیک سمیت میگا پراجیکٹس میں نالائقی کا مظاہرہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک ہی پہنچا دیں تو میرا ایمان ہے کہ سیاست اور افسر شاہی دھل کر صاف ہوجائیگی اور آئندہ کوئی بلوچستان کے فنڈز اور فیصلوں کو ذاتی جاگیر نہیں سمجھے گا۔ اب نہ تو سینیٹ کے انتخاب ہونے ہیں اور نہ کسی میں اتنی سکت ہے کہ وہ پی ڈی ایم کا حشر دیکھنے کے بعد آپ کو زرغون روڈ سے نکالنے کی پلاننگ کرے گا ۔اسلئے جام صاحب ہمت کریں اگلے ڈھائی سال کے اندر اپنے خوابوں کو تعبیر دیں اور چرواہے کے بلوچستان کو بدل دیں، ہمت مرداں مدد خدا ۔