|

وقتِ اشاعت :   November 27 – 2021

بلوچستان کے بیشتر سیاسی نمائندے جو کراچی ڈیفنس یا کوئٹہ میں اپنے بنگلوں میں رہتے ہیں، انکے ڈائننگ روم کی آرائش و سجاوٹ میں سب سے زیادہ توجہ shelf Wineپر دی جاتی ہے، وہ اس کمرے کی ہر چیز باہر پھینک سکتے ہیں جیسے الماری، صوفہ،ٹی وی، فریج وغیرہ لیکن اس وائن شیلف کے ساتھ ایسا برتاؤ ہرگز برداشت نہیں کر سکتے، اور ہر ممبر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا انکے وائن شیلف کی برابری نہ کر پائے۔مانو یہ وائن شیلف ان بنگلوں کا دوسرا جھومر ہے۔وہ اس شیلف میں بہترین برانڈز کے رنگ برنگی بوتلیں سجاتے ہیں اور جام چھلکاتے ہیں بلکہ محفل میں چراغاں کرتے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن کے مطالبات میں شہر میں قائم لائسنس یافتہ شراب خانوں کی بندش بھی شامل ہے۔ اب مجھے بتاؤ ایسے میں کون سا اسمبلی ممبر سب سے پہلے اپنے ڈائننگ روم سے وائن شیلف کا یہ جھومر باہر پھینکے گا! اور اگر جس نے بھی یہ غلطی کی تو وہ یقیناً کھڑکی سے لڑھک جائے گا۔میری نظر میں تسبیح پڑھنے والوں سے زیادہ مولانا کی اس تحریک کو وہ لوگ اور زیادہ مضبوط کرینگے جو شراب کو اپنی طاقت بنائیں کمزوری نہیں۔
اس دھرنے کا دوسرا ڈیمانڈ سمندر سے ٹرالروں کو بھگاؤ، اس ڈیمانڈ کو لیکر میں کافی سوچتا رہا کہ اس شہر کے فرزند کو فشریز کا قلمدان بھی سونپا گیا تھا مگر وہ ٹرالروں کو قابو نہ کرسکا۔

دھرنے کے چوتھے دن 18 نومبر کو النجیب ٹرانسپورٹ سے بھائی کی دوائیاں منگوائی تھیں، وہاں سے فش ہاربر دفتر میں بھی چکر لگایا اور دھرنے کا بھی جائزہ لیا۔ اس روز اس دھرنے میں دو وارڈ کے لوگ بھی شامل نہیں تھے۔ مجھے ایک چیز بہت حیران کر گئی وہ لوگ بھی دھرنا کمیٹی کو چندہ دے رہے تھے جو اپنے گھر کے صندوق سے پیسے ادھار مانگتے ہیں۔

اس دھرنے میں مولانا کے آس پاس مجھے کوئی مزدور یا ڈرائیور نظر نہیں آیا البتہ زیادہ تر اسکے قریب وہ لوگ دکھے جو اپنی لانچوں سے بیچ سمندر میںٹرالروں کو ایرانی ڈیزل سپلائی کرتے ہیں، مجھے یہ سن کر بہت دکھ پہنچا کہ ان لوگوں نے دھرنا کمیٹی کو راشن بھی دیا ہے۔
گاندھی جی نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے سے پہلے اپنی جنتا سے یہ کہا تھا کہ آؤ بیچ چوراہے پر سب اپنے راشن کارڈ جلا دو، انگریزوں کا آٹا، دانہ اگر تیرے شکم میں گیا تو تمہارے حوصلے پست ہو جائیں گے اور سب نے اپنے راشن کارڈ جلا دئیے۔
مجھے اس دھرنے کی خاص بات یہ لگی اس اسٹیج پر ڈرامہ آرٹسٹوں نے بھی اپنا فن پیش کیا، مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے دھرنے کے اس پنڈال سے پچاس گز پیچھے جب تاج محل سینما میں پاکستانی ڈرامہ آرٹسٹوں نے تھیٹر شو پیش کیا تھا، اس شو میں گوادر کے معروف ڈرامہ آرٹسٹ حکیم فراز نے بھی کام کیا، اس وقت اس تھیٹر شو کی جماعت اسلامی نے بھرپور مخالفت کی تھی۔

اس دھرنے کے مطالبات منظور ہوتے ہیں یا نہیں، یہ بات اتنی اہمیت نہیں رکھتی، اس دھرنے نے نوجوانوں کو بیدار کر دیا یہ بہت بڑی بات ہے۔ان مطالبات میں آئینی اور قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں جو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔اس لیے ان مطالبات کی اب سڑکوں پر نمائش کرنے کی بجائے انہیں اعلیٰ عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے۔حکومت سندھ اگر ٹرالروں کے غیرقانونی جال کراچی فش ہاربر سے ضبط کر لے تو کسی کی کیا مجال کہ وہ بلوچستان کے سمندری حدود میں داخل ہو سکے۔

خلیج، امریکہ اور یورپی ممالک میں جس طرح ڈرگز پر پابندی ہے حکومت پاکستان ان قوانین کی بھرپور پاسداری کرے۔ مولانا منشیات کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کرتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ مکران کو ایک سازش کے تحت ہیروئن، تریاق، کرسٹل، شیشہ اور دیگر زہریلے ڈرگز کے سیلاب میں جھونک دیا گیا ہے جہاں انسانی ڈھانچوں کی شکل میں کمزور لاغر لاشیں چلتی پھرتی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں روزگار سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانا بے حد ضروری ہے، مکران منشیات کی آگ میں پوری طرح جھلس چکا ہے، منشیات کا لائسنس تو کسی بھی حکومت نے جاری نہیں کیا تو پھر پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے اڈے کیوں چلتے ہیں؟روز مکران کی ماؤں کی آنکھوں میں دکھ کا لاوا پھٹتا ہے وہ درد اداروں کو نظر کیوں نہیں آتا؟