|

وقتِ اشاعت :   December 30 – 2021

حکومت نے منی بجٹ لانے کی تیاری کرلی ہے اب اس میں یہ دعوے سامنے آرہے ہیں کہ عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالاجائے گا اور نئے ٹیکسز اس میںنہیںہونگے ۔گوکہ ریلیف دینے کا جو مسئلہ ہے وہ ابھی بھی دعوؤں کے طورپر سامنے آرہاہے کیونکہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران ملک میں مہنگائی نے تاریخی ریکارڈ توڑے ہیں جس میں اہم عنصر ناقص معاشی پالیسی ہے اور متعدد بار وزیر خزانہ کی تبدیلی اس کا ثبوت ہے کسی ایک فرد کو منصب پر رہ کر مکمل ذمہ داری سے کام نہیں لیا گیا یا پھر وہ اس کے اہل کے نہیں تھے۔

جنہیں تبدیل کرنا پڑا کیونکہ جب معیشت بہتر ہورہی ہو تو تبدیلی کی ضرورت نہیںرہتی کیونکہ یہ معمولی منصب اور محکمہ نہیں ہے بلکہ ملک کو چلانے کا پورا نظام محکمہ خزانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کس طرح سے معاشی پالیسی کو ترتیب دینا ہے ریلیف کس حد تک دی جاسکتی ہے ، ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کافارمولہ بھی وزارت خزانہ طے کرتا ہے یعنی وہ تمام تر معاملات جوملکی معیشت سے جڑے ہوتے ہیں ان کی مرکزیت وزارت خزانہ کے گرد گھومتی ہے۔ بیرونی قرض لینے کے حوالے سے معاہدے کے شرائط سے لے کر سود اور ریلیف تک کے بڑے معاملات بھی وزارت خزانہ طے کرتی ہے۔ اب منی بجٹ جو پیش کیاجارہا ہے اس کی مرکزیت بھی محکمہ خزانے کے گرد ہی ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ منی بجٹ سے برآمد ہوگا کیا، عوام اس کی منتظر ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں منی بجٹ سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ لانے کی وجوہات سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے کھل کر گفتگو کی۔وزیراعظم نے اس دوران سابقہ حکومتوں کو بھی آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہا کہ سابق حکمرانوں نے عالمی اداروں سے قرض لے کر ہمیں غلام قوم بنادیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کے قرض اور سود واپس کرنے کے لیے انہی سے قرض لینے پڑتے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے منی بجٹ جلد پیش کیے جانے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا اور کئی ممالک کے کورونا وبا کی وجہ سے قرض بڑھے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور 6 ماہ میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں نیچے لے کر آئے ہیں البتہ ملک سے باہر سے آنے والی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ منی بجٹ میں عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے

منی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگارہے اور اس میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر بھی ٹیکس نہیں لگے گا۔دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ لانے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے احتجاج کا بھی فیصلہ کیا ہے۔بہرحال حکومت اوراپوزیشن کے درمیان سیاسی جنگ جاری ہے مگر عوامی مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ماضی کی حکومتوں کو کھوستے کھوستے ساڑھے تین سال گزرگئے مگر موجودہ حکومت نے کیا ایسی کیا تبدیلی لائی جسے بطور مثال پیش کیا جاسکے یہی بڑا سوال ہے عوام اس وقت صرف اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے کیونکہ موجودہ بحرانات سے براہ راست عوام بری طرح متاثر ہورہی ہے اور غریب یہی امید وآس رکھے ہوئے ہیں کہ شاید ان کے مسائل حل ہوجائیں اور اس میں مرکزی کردار حکومت ہی ادا کرسکتی ہے۔