|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2022

افغانستان میں استحکام کا مسئلہ ابھی تک برقرار ہے کہ دنیا مستقبل کے افغانستان کو کس طرح دیکھنا چاہتی ہے یہ بہت بڑا سوال ہے جو حل طلب ہے کیونکہ اب تک امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے افغانستان کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے سیاسی ومعاشی مسئلے پر مکمل طور پر افغانستان کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے

حالانکہ دس سال سے زائد عرصے تک امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کے تمام تر معاملات چلاتے رہے تھے، انتخابات میں کس کو کیا عہدہ ملنا چاہئے، انتظامی معاملات کس طرح سے چلانے ہیں گویا تمام ترافغان شہریوں کی زندگی کافیصلہ امریکہ اور اس کے اتحادی کرتے آئے ہیں ۔یکدم سے امریکہ نے انخلاء شروع کردیا اور پھر دوبارہ سے پرانی پابندیاں عائد کردی گئیں جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی کوئی خاص لچک کامظاہرہ افغانستان مسئلے پر نہیں دکھایاگیا البتہ فنڈز انسانی بنیادوں پر جاری کئے جارہے ہیں

مگراسے موجودہ افغان حکومت کے ہاتھوں نہ دینے کے فیصلے پر قائم ہیں اور یہی مؤقف اپنایا جارہا ہے کہ ہم افغانستان میں طرز حکمرانی اور طالبان کے رویوں کو دیکھتے ہوئے ایک لائحہ عمل اور جامع حکمت عملی بنائینگے ۔ بہرحال دوسری جانب سابق صدر افغانستان اشرف غنی نے چھپ کاروزہ توڑ دیا ہے۔ گزشتہ روز ان کا کہناتھا کہ طالبان کے خلاف میں اسٹینڈ لیتا تو یہ سب مارے جاتے۔غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ 15 اگست کی صبح تک گمان نہیں تھا کہ یہ میرا افغانستان میں آخری دن ہو گا اور افغانستان چھوڑنے سے پہلے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کابل چھوڑنے کا فیصلہ منٹوں میں کیا گیا تھا اور 15 اگست کو صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی ہار مان گئی تھی اور اگر میں اسٹینڈ لیتا تو یہ سب مارے جاتے۔اشرف غنی نے کہا کہ کابل کو بچانے کے لیے اپنے طور پر قربانی دینے کا سوچا تھا کیونکہ صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی میں میرے دفاع کی صلاحیت نہیں تھی اوربد قسمتی سے مجھے مکمل اندھیرے میں رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کا نہیں امریکہ کا مسئلہ تھا اور مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا اور میری ساری زندگی کی محنت برباد ہو گئی۔سابق افغان صدر نے کہا کہ افغانستان چھوڑنے پر افغان عوام کے غصے کو سمجھتا ہوں۔

اشرف غنی نے کوئی بڑا انکشاف نہیں کیا ہے کہ افغانستان میں مسئلہ امریکہ کا تھا اور انہیں قربانی کا بکرابنایا گیا تھا بلکہ یہ کہاجائے کہ جب تک افغانستان پر عالمی قوتوں کی گرفت تھی تو اشرف غنی اور اس کے اتحادی اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے اس کے باوجود کہ دوحا مذاکرات کے حوالے سے امریکہ نے اسے گھاس تک نہیں ڈالا بلکہ براہ راست خود طالبان کے ساتھ بات چیت کی ،نکات طے ہوئے اور اس کا باقاعدہ معاہدہ تحریری طور پر ہوا، یہ سب کچھ اشرف غنی کے سامنے ہورہا تھا مگر مجال ہے کہ اس وقت اشرف غنی کسی طرح کی مزاحمت کرتے یا پھر افغانستان کے اندرون خانہ اور مستقبل کے فیصلوں کے حوالے سے امریکی فیصلوں کو جھٹلاتے شاید وہ اس خواب میں مبتلا تھے کہ افغانستان میں طالبان کو تھوڑی بہت حیثیت دے کرخاموش کردیا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ پورا نظام طالبان کے ہاتھوں میں خود امریکہ نے غیر محسوس طریقے سے دیا ۔

بہرحال اب جو کچھ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کیا اب اس کاازالہ بھی کرتے ہوئے طالبان حکومت سے بات چیت کریں تاکہ افغانستان میں سیاسی استحکام آسکے ،اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام جیسی صورتحال پیدا ہوگی جس کا ذ مہ دار اشرف غنی اور اس کے اتحادی نہیں ہونگے بلکہ براہ راست اس کی ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ٹھہریںگے اس لیے تاریخ کو پھر ماضی کی طرف نہ لے جایا جائے بلکہ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے امن اور خوشحالی کی طرف جانے کا منصوبہ بنایاجائے۔