کوئٹہ: محکمہ ایجوکیشن میں اساتذہ کرام کے دفتری کاموں میں آسانیاں پیدا کی جائیں بلوچستان ایک وسیع ترین رقبے پر محیط صوبہ ہے دور دراز سے آنے والے اساتذہ کو ہر کام کے لئے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اساتذہ کرام کے ریٹائرمنٹ کیس ہوں یا جی پی ایف ایڈوانس کئی کئی ہفتے ان کے کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچائے جاتے جس سے ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان خیالات کا اظہار وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سیکریٹری جنرل مانک خان بنگلزئی نے ایک جاری بیان میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے اجتماعی مسائل و مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے جی پی ایف ایڈوانس و دیگر معمولی نوعیت کے کاموں کو ضلعی تعلیمی آفیسران کے حوالے کیا جائے اس سے بلوچستان بھر کے اساتذہ کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی بلوچستان میں کیچ،صحبت پور،خضدار،مکران،کوہلو سے لے کر گوادرجیسے دور دراز علاقوںکے لوگ بڑی تکلیف کے بعد جی پی ایف ایڈوانس اورریٹائرمنٹ کیس و دیگر معاملات کے لئے کوئٹہ میں آکر ہوٹلوں پر ریہائش اختیار کرتے ہیں اور سخت سردی میں ان کو شدید تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں ہمارے اساتذہ کرام ایک طرف پہلے ہی دفاتروں کے نت نئے رولز سے تنگ آ چکے ہیں۔
اس وقت اے جی آفس سے جی پی ایف ایڈوانس،کی کمپیوٹرائزڈ سلپ دی جا رہی ہے اس کے لئے ڈرائونگ اتھارٹی اس کا ڈی ڈی او ہے اس کے با وجود اساتذہ کوکیس ساتھ لے کرڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر،ڈویژنل ڈائریکٹر اور پھر ڈائریکٹر تک کا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیںاور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے پڑھے لکھے معاشرے میں استاد کا عظیم کردار ہے آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے ہمارے نوجوان اور آنے والے اساتذہ کرام آن لائن ٹرانسفر،آن لائن ،ریٹائرمنٹ اور دیگر معاملات کو تیز ترین مکمل ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیں مگر بد قسمتی سے موجودہ حالات میںیہ تو ممکن نہیںاگر ٓسانیاں پیدا کی جائیں یہ بھی غنیمت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کاموں کے حوالے سے اختیارات ضلعی سطح تک منتقل ہو جائیںتو بلوچستان بھر کے اساتذہ سکھ کا سانس لیں گے لیکن بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں پر اساتذہ کے لئے جان بوجھ کرمشکلات کھڑی کی جاتیں ہیں مسائل کا حل تو دور کی بات ان کے لئے مزید مسائل پیدا کئے جاتے ہیں وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان اساتذہ کے حقوق کے لئے مخلصانہ جدوجہد کرنے کا عزم رکھتی ہے ہم نے ہر وقت اساتذہ کرام کے حقوق کے لئے نا صرف آواز بلند کی بلکہ صحیح ترجمانی کی ہے اس وقت اساتذہ کرام سرکاری دفاتر کے حوالے سے شدید مسائل سے دوچار ہیں اور بر وقت کام نا ہونے ذیادہ وقت لینے سے ذہنی کوفت کا شکار ہیں ہم ناظم تعلیمات سکولز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اساتذہ کے جی پی ایف ایڈاوانس اور دیگر معمولی نوعیت کے کاموں کو ضلعی سطح پر منتقل کر کے بلوچستان بھر کے اساتذہ کی پریشانیوں کو ختم کیا جائے۔