کچھی: بلوچستان کے ضلع کچھی کی یونین کونسل مٹھڑی کے گاؤں بھیری میں لڑکیوں کا واحد پرائمری گرلز اسکول گزشتہ تین سالوں سے بند ہے۔ اسکول میں تعینات استانیاں گھر بیٹھ کر تنخوائیں لے رہی ہیں،کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اہلیان بھیری نے متعدد بار حکام بالا تک داد رسائی کی، تاہم حسب معمول ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
محکمہ تعلیم بلوچستان کے ایمرجنسی کے بیانات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بھیری کی معصوم طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ ان خیالات کااظہار گوٹھ بھیری کے باشندوں نے یہاں جاری ہونے والے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرکے زیر سایہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بھیری گزشتہ تین سالوں سے بند ہے اوراسکول کی ٹیچرز گھربیٹھے تنخواہیں لے رہی ہیں۔محکمہ تعلیم بلوچستان کے ایمرجنسی پر تعلیم کے بیانات صرف بیانات ہی رہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ گرلزپرائمری اسکول کی بھیری معصوم بچیاں تعلیم کا خواب لئے روزانہ صبح اپنے گھروں سے ا سکول جاتی ہیں۔ تاہم بند اسکول کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی کی دنیامیں انقلاب برپا ہو گیا،وہاں ابھی تک گوٹھ بھیری کی معصوم طالبات بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اور اسکول بند ہونے سے ان کا مستقبل داؤ لگا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکول کی بچیوں کے سالانہ امتحانات بھی مسلسل ضائع ہورہے ہیں۔گاؤں کے باشندوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، گورنر بلوچستان سید ظہور آغا، وزیر تعلیم،سیکرٹری تعلیم،کمانڈنٹ سبی سکاؤٹس،ڈپٹی کمشنر کچھی اور دیگر حکام بالاسے اپیل کی ہے کہ خدارا گورنمنٹ پرائمری گرلز”بھوت“ ا سکول بھیری کو جلد سے جلد کھولا جائے اور ڈی ای او تعلیم کچھی اور اساتذہ کے خلاف ٹھوس کارروائی کر کے گرلز اسکول میں تعینات استانیوں کو پابند کیا جائے یا پھر ان کی غیر حاضر استانیوں کی جگہ ایماندار اوراپنے منصبی فرائض سرانجام دینے والی استانیوں کو تعینات کیا جائے۔