|

وقتِ اشاعت :   September 5 – 2022

کراچی:سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلوچوں کو لاپتہ کرنے کا عمل تھم نہ سکا۔ لاپتہ کرنے کے سلسلے میں مزید تیز آگئی۔ کراچی کے ساحلی علاقے عبدالرحمان گوٹھ ہاکس بے سے ایک اور بلوچ کو لاپتہ کیا گیا۔ جس کا بنیادی تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے بتایا جاتا ہے۔ لاپتہ ہونے والے کی شناخت علی بخش ولد امید علی کے نام سے ہوئی۔

پیر کے روز لاپتہ ہونے والے علی بخش کی فیملی نے میڈیا کو بتایا کہ سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں عبدالرحمان گوٹھ ہاکس بے سے اٹھایا۔ جو تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ ہونے والے فرد کے خاندان کے مطابق وہ گزشتہ چند سالوں سے ضلع آواران سے کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ لاپتہ ہونے والا ایک بے قصور انسان ہے۔ وہ عبدالرحمان گوٹھ میں کریانہ شاپ چلاتے ہیں۔ جس سے وہ اپنی فیملی کا گزر بسر کرتے تھے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے کراچی میں مسلسل بے گناہ بلوچوں کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سندھ حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے تو دوسری جانب جبری گمشدگی میں تیزی آرہی ہے۔

سندھ حکومت نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ حکومت کو خلوصِ نیت سے مذاکرات کرنا چاہتے۔ آمنہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک لاپتہ فرد کو چھوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب تین بے گناہ کو لاپتہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی سے لاپتہ ہونے والے تمام افراد کو بازیاب کیا جائے۔