|

وقتِ اشاعت :   September 22 – 2022

معتبر ذرائع کے مطابق جام کمال خان جلد یا بدیر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اگر وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو سیاست کے مایہ ناز بادشاہ آصف علی زرداری آنے والے وقت میں کسی بھی طرح جام کمال خان کو دوبارہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر فائز کرنے کی جی توڑ کوشش کریں گے۔ ن لیگ کا خیال ہے کہ اگر بلوچستان کے حالات سدھارنے ہیں تو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو دوبارہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی کرسی پر براجمان کرنا پڑے گا۔ معلوم نہیں کہ بلوچستان کے حالات کو لے کر ن لیگ کی نیت کتنی شفاف ہے لیکن شنید میں آیا ہے کہ بڑے میاں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو بلوچستان پر خاص توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو بڑی ہوشیاری سے جام کمال خان کی سیاسی ساکھ کو ختم کئے جارہا ہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ حب چوکی کو الگ ضلع بنانے میں عبدالقدوس بزنجو کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ کام انہوں نے ذاتی دلچسپی سے کی ہے چونکہ حب چوکی کو الگ ضلع بنانے سے جام کمال خان اکثریت سے محروم ہوجائیں گے۔ جام کمال خان کی سیاست کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا یہ ایک واحد حل تھا۔ اگر بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ الگ ضلع کی منظوری کے حق میں آیا تو اس اقدام سے تمام تر فائدہ بھوتانی برادرز کو ہوگا۔
بلوچستان کو اس وقت سیاسی و معاشی بحران کا سامنا ہے مگر حکومت اور اپوزیشن قومی اتفاق کا ڈھونگ رچا کر اپنے مفادات کی خاطر رخ تبدیل کررہے ہیں۔ جے یو آئی باقاعدہ وزارتیں لینے پر آمادہ ہوا ہے۔ پارٹی نے جو شرط رکھی تھی وہ معمولی تھی جنہیں محض اپنے سیاسی قد کو اونچا کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کو حکومت سے الگ کرنے کا شرط حکومت کے لئے مشکل نہ تھا۔ صوبائی کابینہ میں پی ٹی آئی کے صرف ایک رکن بابر موسیٰ خیل شامل ہیں جو ڈپٹی اسپیکر ہیں۔ حکومت اس کو بلا کسی جھجک کے فارغ کردے گی۔
بلوچستان کی سیاست میں افراتفری کا ماحول ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا عوام کنفیوژن کا شکار ہیں۔ عبدالقدوس بزنجو کسی بھی پارٹی کو ہِٹ کرنے سے گریز کررہے ہیں کیونکہ مستقل قریب میں ممکن ہے کہ موسم کے مطابق کسی اور پارٹی کا انتخاب کریں۔ میرعبدالقدوس بزنجو سیاست کے ماہر نہیں اس لئے ہر دلعزیز سیاست کے بادشاہ آصف علی زرداری انکی رہنمائی کررہے ہیں۔
شروع میں عبدالقدوس بزنجو سے ناراض مقتدرہ حلقے بلوچستان حکومت کی ہر کام میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے۔ ریکوڈک معاہدہ پر عبدالقدوس بزنجو کو بزورِ طاقت دبانے کی کوشش کو بالائی سطح سے مخالفت کا سامنا رہا۔ اور راتوں رات خصوصی طیارے سے مقتدرہ کی ایک ٹیم کوئٹہ پہنچی جن میں صادق سنجرانی، اسد قیصر بھی شامل تھے یہ ایک خفیہ میٹنگ تھی جس کے متعلق میڈیا کو بھی خبر ہونے نہیں دی گئی۔ اس میٹنگ میں میرعبدالقدوس بزنجو کی ذہن سازی کرکے انہیں ریکوڈک سمیت آئندہ ہونے والے ان تمام کاموں کے متعلق نا صرف آگاہ کیا گیا بلکہ تنبیہ کی گئی کہ وہ ابھی ان پر اپنی رضامندی کی مہرثبت کریں۔ آصف علی زرداری نے اس وقت عبدالقدوس بزنجو کو ٹیلی فونک رابطہ کرکے مقتدرہ کی سب باتیں ماننے پر زور دیا جس پر وہ مان بھی گئے۔ اس کے بعد سے بلوچستان حکومت کو ڈھیل مل گئی۔
اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کے صوبائی اسمبلی کے اراکین حکومت سے اپنے ذاتی کام نکلوارہے ہیں۔ اگر تمام سیاسی و نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دیکھا جائے تو عبدالقدوس بزنجو بذاتِ خود ایک نیک دل انسان ہیں۔ اگر وہ سیاست پر تھوڑی سمجھ بوجھ رکھتے تو انکی شخصیت کا اثر شاید انکی سیاست میں نظر آتا۔ ان سیاسی بھول بھلیوں میں بی این پی کا کردار اہم اور واضح ہے۔ اس تمام سیاسی افراتفری میں بی این پی کھلاڑی بن کر خود کو پچ سے باہر کئے ہوئے ہے اور اب امید یہ کی جارہی ہے کہ کوئی آوٹ ہو اور اسکی باری آجائے۔ بلوچستان کی سیاسی مستقبل تاریک نظر آرہی ہے مقتدرہ بہت سوں کو اقتدار پر بٹھانے کی زبان دے چکی ہے اور ہاں مقتدرہ کی اکثریت ممکن ہے اس بار نیوٹرل رہے خود کو بری الزمہ قراردیکر محض بیٹھ کر تماشہ دیکھے۔ “نیوٹرلز” نیوٹرل رہے تو بلوچستان کی سیاسی تبدیلی کا سارا انحصار اختر مینگل اور آصف زرداری پر ہے۔ ن لیگ کی خواہش ہے کہ آنے والے الیکشن میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو جیت حاصل ہو وہ اس معاملے پر آصف علی زرداری کے ساتھ ایک نشست بھی کرچکے ہیں اور فرما چکے ہیں کہ اگر ہمیں بلوچستان کے لوگوں کو ایک کرکے حالات کو بہتر کرنا ہے تو کسی بھی طرح اگلے انتخابات میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حمایت کرنی ہوگی۔ اگر آصف علی زرداری بڑے میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی بات مان لیتے ہیں تو وہ عبدالقدوس بزنجو کی غلط رہنمائی کریں گے تاکہ آنے والے انتخابات سے قبل انکی سیاسی ساکھ متاثر ہو۔ دوسری طرف جام کمال خان بھی آصف علی زرداری کی منت سماجت کر رہے ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح اگلے الیکشن میں اقتدار دلائی جائے وہ اس پر بھی ضرور سوچیں گے۔ آصف زرداری اگر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو لاتے ہیں تو انہیں ترقیاتی کاموں سمیت دیگر کاموں پر مزاحمت کرنی پڑے گی جبکہ جام کمال خان اور عبدالقدوس بزنجو بخوشی احکامات کی پیروی کرتے رہیں گے۔ مشکل فیصلے کی گھڑی ہے لیکن آصف علی زرداری نادانی کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ ایک سیاسی ماہرہیں وہ جذبات سے کام نہیں لیتے۔ بہرحال عوام تیار رہیں سیاسی ماحول میں ہوش ربا تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ الیکشن قریب ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔