|

وقتِ اشاعت :   November 8 – 2023

کوئٹہ: ملک بھر سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کا انخلا جاری ہے گزشتہ روز ضلع کچھی میں پہنچنے والی غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کی تیسری کانوائے بھی سخت سکیورٹی میں پاس کروا دی گئی

ڈپٹی کمشنر کچھی کیپٹن ریٹائرڈ جمعہ داد خان مندوخیل کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کے آفیسران نے غیر ملکی باشندوں کو بولان وئیر کے مقام پر انہیں کھانا پینے کا صاف پانی اور بچوں کے لیے دودھ دیا گیا ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل خود آنے والی کانوائے کا جائزہ لیا

تیسری کانوائے میں 141 مہاجرین تھے کانوائے میں ان کی سیکیورٹی پر 55 پولیس کے جوان مامور تھے بولان وئیر کے مقام پر مہاجرین کے لیے کھانے پینے بچوں کے لیے دودھ سمیت دیگر انتظامات بھی کئے گئے تھے بعد ازاں پولیس لیویز فورس کی سکیورٹی میں انہیں کوئٹہ چمن بارڈر روانہ کردیا گیا،علاوہ ازیں تارکین وطن کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے،

اب تک 1لاکھ 89 ہزار دو سو 65 نفوس افغانستان جاچکے ہیں، لنڈی کوتل ہولڈنگ سنٹر کے سامنے اور پاک افغان شاہراہ پر جگہ جگہ تیار خوراک،

سردی سے بچنے کیلئے کمبل سویٹرز اور خیمے دستیاب ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز منگل کے دن 829خاندان براستہ طورخم افغانستان داخل ہوئے جن میں کل 5085 نفوس تھے افغانستان چلے گئے ہیں اس میں لنڈی کوتل ہولڈنگ سنٹر میں 348 خاندانوں جس میں 1742افراد تھے کی رجسٹریشن ہوئی

اور انہیں ہولڈنگ سنٹر سے مقامی خیبر پولیس طورخم بارڈر تک فلائنگ کوچ کے ذریعے سیکورٹی میں پہنچا رہے ہیں اس کے علاوہ سپیشل اجازت نامہ پر طورخم بارڈر امیگریشن ٹرمینل میں 481خاندان جو 3177 افراد تھے رجسٹریشن ہوئی اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کر کے افغانستان جانے دیا گیا

اس کے علاوہ طورخم بارڈر پر 166افغان شہریوں کو ڈیپورٹ کر دئے گئے سرکاری ذرائع کے مطابق ابتک طورخم بارڈر کے راستے 1لاکھ 89ہزار 259افراد افغانستان جاچکے ہیں۔افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں لنڈی کوتل کے اقوام شینواری آفریدی بشمول سماجی فلاحی تنظیمیں باعزت واپسی اور احترام سے جگہ جگہ پر انسانی ہمدردی کے تحت تیار خوراک سمیت سردی سے بچنے کیلئے کمبل، ٹینٹ خیمے اور بنیان جرابیں جوتے دے رہی ہیں،

گزشتہ روز افغان خاندان کے لئے الخدمت فاونڈیشن نے 20 بکری ذبح کر کے افغانستان واپس جانیوالے افغانیوں کو تیار خوراکیں دی اور اسطرح گزشتہ ایک ہفتے میں ہر صبح سویرے چائے کا بندوبست کیا جاتا ہے خوراک کے علاوہ یہاں لنڈی کوتل ہولڈنگ سنٹر کے سامنے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز مریضوں کی معائنہ کرتے ہیں اور انہیں مفت ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ فری ادویات بھی دے رہے ہیں۔

 

پاکستان کے معتبر اداروں نے غیرقانونی طور پر مقیم دس لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی۔.

سرکاری اعدادوشمار کیمطابق ملک میں دس لاکھ افغان پناہ گزین کے پاس کوئی شناخت نہیں، سرکاری اعداد و شمار یہ پناہ گزین پچھلے پانچ سال میں پاکستان میں غیرقانونی طور پر داخل ہوئے اور ملک کے طول و عرض میں مقیم ہوگئے۔حکام نے بتایا کہ ملک میں چالیس لاکھ افغان شہری مقیم ہیں، تیرالاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہیں، دس لاکھ کے پاس کوئی شناخت نہیں

اور سترہ لاکھ افغان شہریوں کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کی جارہی ہے،یہ افغان شہری ملک کے 32 مختلف اضلاع کے دوردراز علاقوں میں غیرقانونی طور پر مقیم ہو چکے ہیں

اور وہاں پر زیادہ تر اپنا چھوٹا کاروبار کررہے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار سے انکشاف ہوتا ہے کہ تین لاکھ غیرقانونی افغان شہری بلوچستان کے سات اضلاع میں رہائش پذیر ہیں۔چار لاکھ افغان شہری خیبرپختونخواہ کے 17 اضلاع میں غیرقانونی بستیوں میں مقیم ہیں، حاصل سرکاری اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک لاکھ پچاس ہزار افغان شہری سندھ چار اضلاع میں غیرقانونی موجود میں ہیں۔اعدادوشمار سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایک لاکھ افغان شہریوں پنجاب کے مختلف شہروں میں غیرقانونی مقیم ہیں۔

وزارت داخلہ کے اعلی حکام کے مطابق تیس فیصد افغان شہری بغیرشناخت کے پچھلے دوسال میں پاکستان آئے ہیں۔ان میں زیادہ تر بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں مقیم ہوگئے ہیں، وزارت داخلہ نے تمام اعدادوشمار ملک بھر سے کئی اداروں کے تعاون سے حاصل کیے۔

ذرائع نے بتایا کہ101 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے متعلقہ حکام کو بتایا ہے کہ تمام غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلیے مزید ایک ماہ وقت لگے گا۔

سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے لورالائی کے علاقے کٹوی افغان پناہ گزین کیمپ میں 6000 غیرقانونی افغان شہری موجود ہیں، پولیس نے ان غیرقانونی غیرملکیوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔سرکاری رپورٹ سے مزید انکشاف ہوتا ہے کہ گازگائی کیمپ میں 4000 سے زائد غیرقانونی افغانی شہری رہائش پزیر ہیں۔

سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ زارکریز کیمپ میں 6000 غیرقانی افغانیوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں،

یہ لورالائی کے امن کیلیے بڑا خطرہ ہے۔رپورٹ کیمطابق 20 فیصد غیرقانونی افغان شہریوں کی پناہ گزین کیمپس میں بھی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان کے کئی شہروں، بالخصوص پشاور، ڈی ائی خان، ٹانک، بنوں، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، لورالائی، کوئٹہ، کراچی، ڈی جی خان، میانوالی اور راولپنڈی میں غیرقانوی طور پر افغانی زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان سے ائے کالعدم تنظیموں کے ہزاروں افراد بلوچستان کے ضلعوں لورالائی، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں بڑی تعداد میں جمع ہوچکے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں کے حامی اور رشتہ دار بھی اس علاقے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

لورالائی کی تحصیل ڈوکی میں 70 فیصد افغان شہری کوئلے کی کان میں کام کررہے ان میں سینکڑوں افغانیوں کے پاس کوئی شناخت موجود نہیں جو علاقے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 30 ہزار افغان مہاجرین کوئلے کی کان میں کام کررہے ہیں۔رپورٹ میں ڈوکی میں موجود جرائم پیشہ افراد اور کالعدم تنظیموں کی موجودگی قطر اور دوبئی سے ائے مہمانوں کی سیکورٹی کیلیے انتہائی خطرے کا بحث بن سکتی ہے۔