|

وقتِ اشاعت :   April 3 – 2024

حالیہ طوفانی بارشوں سے جہاں ایک طرف پورا گوادر شہر متاثر ہوا, وہیں دوسری طرف گوادر کا شاہی بازار جو شہر کا ایک قدیم ورثہ , اور ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے بھی شدید نقصان کا شکار بنا ہے. ایک تنگ گلی میں واقع سلطنت آف عمان کے زمانے کا یہ بازار مکران سمیت بمبئی، دبئی، بصرہ اور سلطنت آف عمان کا بھی ایک تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا. ممبئ، کولمبو اور دبئی سے تجارتی سامان یہاں آیا کرتا اور یہاں سے خشک مچھلی ایکسپورٹ ہو کر دوسرے ملکوں میں جایا کرتا تھا. مکران سے تجارتی قافلے یہاں پر آتے تھے اور یہاں سے مچھلی اور دیگر سامان لیکر اپنے علاقوں میں لوٹ کر تجارت کیا کرتے تھے. اس بازار میں دن بھر گھما گھمی کا ماحول رہتا تھا. رات کے اوقات شاہی بازار کی حفاظت کیلئے لالٹین جلائی جاتی تھیں. پچاس سال سے شاہی بازار میں  ریڈیو میکنک عیدو (عیدمحمد) کے مطابق شاہی بازار میں ہندو تاجروں کی ایک کثیر تعداد موجود ہوا کرتی تھی، جو نہایت ہی ایماندار اور اچھے لوگ تھے اور اس کے علاوہ یہاں پر بڑی تعداد میں اسماعیلی کمیونٹی کے  بھی تاجر تھے. گوادر کی پاکستان میں شمولیت کے بعد ہندو کمیونٹی کے لوگ اپنی جائیدادیں اور دکانیں اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو دے کر یہاں سے چلے گئے اور جن کے اوپر اُن کا ادھار واجب الادا تھا اور جو اس ادھار کو ادا نہیں کرسکتے تھے تو اُن سب کا ادھار ان ہندوں نے معاف کردیا تھا. اب آج کا موجودہ شاہی بازار وہ شاہی بازار نہیں رہا جو پہلے تھا بلکہ اب یہ بازار ایک کھنڈرات بن چکا ہے.
   
 
2010 کی طوفانی بارشوں سے شاہی بازار کی بیشتر دکانیں منہدم ہو گئی تھیں اور ابھی تک اُس کا ازالہ نہیں ہو پایا تھا کہ حالیہ بارشوں نے 2010 کی بارشوں سے بھی زیادہ اس بازار کو نقصان پہنچایا اور تباہی کے نئے ریکارڑ قائم کر دیئے. 1850 کی دہائی میں تعمیر شدہ جماعت خانہ بھی شاہی بازار اسماعیلی محلہ میں واقع ہے. یہاں کے رہائشی علی منصور کے مطابق 1850 میں پوری دنیا میں آغاخان کے حکم پر اسی ڈیزائن کے تین جماعت خانے تعمیر کیئے گئے تھے. جن میں  سے ایک افریقہ، ایک انڈیا اور ایک گوادر میں بنایا گیا تھا. ان سب جماعت خانوں کا ڈیزائن ایک جیسا ہے. گوادر میں موجود یہ اسماعیلی جماعت خانہ بارشوں سے پہلے تزئین اور آرائش کے ساتھ ہر نگاہ کا مرکز ہوا کرتا تھا، اگرچہ حالیہ بارشوں سے جماعت خانے کو نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن شاہی بازار میں موجود کچے اور پتھروں سے تعمیر شدہ مکانات کو کافی زیادہ نقصان پہنچا ہے اور کئی گھر منہدم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے شاہی بازار میں چلنا دوبر ہوگیا ہے. جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے جس سے پورے بازار میں بدبو پھیلی ہوئی ہے اور مچھر اور مکھیوں کے جھنڈ جو ان پانیوں پر منڈلاتے ہیں اُن کی وجہ سے رہائشی اور راہ چلتے لوگوں کا یہاں پر رہنا اور چلنا مشکل ہوچکا ہے اور اِس منظر نے جماعت خانے کی خوبصورتی کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے. یہی جماعت خانہ کے ساتھ چند گز کے فاصلے پر ایک مندر اور ایک مسجد بھی ہے اور اس مندر کی تاریخ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ مندر کی تاریخ بہت ہی زیادہ پرانی ہے. اسی کے ساتھ جماعت خانہ سے منسلک  اومانی واچ ٹاور بھی اس پرانے شاہی بازار میں واقع  ہے جسے بارشوں نے جزوی نقصان پہنچایا ہے. بارشوں کی وجہ سے اُس پر دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ایک کونے میں کچھ پتھر بھی اکڑ چُکے ہیں.
 
 گوادر کا شاہی بازار سلطنت آف عمان کے دور کا ایک یادگار اور تاریخی ورثہ ہے، سلطنت آف عمان کے سابق فرمانروا مرحوم سلطان قابوس نے 2004 میں گوادر میں ایک قلعے کی تزئین و مرمت اور میوزم قائم کرنے کیلئے بھاری رقم عطیہ کی تھی، جس میں قلعے کی مرمت کرکے اسے میوزیم میں تبدیل کیا گیا اور  اس  میوزیم کو حکومت بلوچستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کیا گیا۔ گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی شاہی بازار سمیت شہر میں موجود سلطنت آف عمان کے دور کی عمارتوں کی تحفظ اور شاہی بازار کی حفاظت کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔ سندھ کے سابق ڈائریکٹر اور آرکیالوجی کے ماہر آرکیالوجسٹ کلیم اللہ لاشاری کی نگرانی میں اس منصوبے پر کام جاری ہے۔ چیف انجینئیر سید محمد بلوچ کے مطابق شاہی بازار سمیت ٹیلی گراف آفس، چارپادگو اور اومانی ٹاؤر کی بحالی اور تحفظ کیلئے بھی کام جاری ہے. ان حالیہ بارشوں سے شہر کو جو نقصان پہنچا ہے اس نقصان کی وجہ سے شاہی بازار بھی کافی متاثر ہوا ہے. جی ڈی اے ابھی شاہی بازار کی بحالی کے منصوبے پر کام کر رہا ہے. اس منصوبے کا مقصد ایک طرف قدیم ورثہ کا تحفظ اور دوسری طرف سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
 
 گوادر کا یہ شاہی بازار جو ایک وقت میں گھماگھمی کا مرکز تھا آج تاریخ میں ہچکولے لے رہا ہے. ایک تنگ گلی میں واقع اس بازار میں ایک مشہور چائے کی شاپ کریموک ہوٹل اور خدابخش حلوائی کی دکان پان کی مشہور ابراہیم پان والا کی دکان(یاد رہے کہ یہ دکان گوادر کے پہلے چئیرمین مرحوم عبداللطیف بلوچ کا شاپ رہا ہے اور اب اسکے اسکے فرزند ابراہیم جسکی عمر  تقریباََ 75 سال کے  قریب ہے چلا رہا ہے)
 
سمیت صرف چند دکانیں باقی رہ گئی ہیں۔حالیہ بارشوں کے دوران منہدم ہونے والی دکانوں کے باقیات نے اس تنگ گلی کو ناقابل آمدورفت بنا دیا ہے۔اس بازار میں بیشتر دکانیں پتھر اور مٹی کے گاڑھے سے بنی ہیں. 2010 کی سمندری طوفانی بارشوں کے سبب ہونیوالی تباہ کاریوں کے بعد حالیہ طوفانی بارشوں سے شاہی بازار کو جو نقصان پہنچا ہے اسکی بحالی کے امکانات بہت ہی کم نظر آتے ہیں. بارشوں کی وجہ سے عمارتوں میں نصب زمانہ قدیم کی کھڑکیاں، دروازے اور دیگر اشیاء کے اکھڑنے کے بعد ان اشیاء کی چوری بھی شروع ہو گئی. کل کا مشہور شاہی بازار آج اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے اور اس بازار کی حالت دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں یہ تاریخی ورثہ معدومیت کا شکار ہوکر اپنے ہی وجود کے پتھروں اور مٹی تلے دب کر ہمیشہ کیلئے مٹ جائیگا اور دونوں ملکوں کا یہ مشترکہ ورثہ تاریخ کے دریچوں میں صرف ایک اور کہانی بن کر رہ جائے گا.