|

وقتِ اشاعت :   July 22 – 2025

ضلع دیامر میں بابوسر روڈ پر جل سے دیونگ کے درمیان بادل پھٹنے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے باعث اب تک 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

قدرتی آفت کے باعث سڑک پر 15 بڑے مقامات پر رکاوٹیں پیدا ہونے سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی، تقریباً 7 سے 8 کلومیٹر کا علاقہ شدید متاثر ہوا۔

ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے جن میں 4 سیاح اور ایک مقامی شہری شامل ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چلاس کے علاقے میں واقعے کے بعد 3 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ ایک زخمی کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے درجنوں سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، تاہم بہت سے سیاح اب بھی لاپتا ہیں۔

ڈپٹی کمشنر دیامر اور ایس پی دیامر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

حکام کے مطابق وہ متاثرہ مقام کے وسط تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، تاہم پتھروں کے بڑے ڈھیر اور سخت زمینی حالات کے باعث آگے کا علاقہ پیدل بھی ناقابلِ رسائی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے چلاس میں سیاحوں کے لیے عارضی رہائش کا بندوبست کیا، جہاں گرلز ڈگری کالج اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو مقامی ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا۔

ڈویلپمنٹ اتھارٹی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ

موسمی صورتحال کے پیش نظر پہاڑی علاقوں کے ڈویلپمنٹ اتھارٹی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ گلیات، کاغان، کمراٹ، کالاش اور اپر سوات کو ایڈوائزری جاری کر دی گئی۔

ڈی جی ٹورازم اتھارٹی ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اسٹاف کی منظور شدہ اور زیر التوا چھٹیوں کی درخواستوں کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے، ⁠ٹورازم پولیس کی تعیناتی اور سیاحوں کی سہولت کے لیے ایک ہیلپ لائن کو بھی یقینی بنایا جائے۔

این ڈی ایم اے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق بابوسر ٹاپ روڈ مکمل طور پر بند ہے جبکہ قراقرم ہائی وے کے لال پارہی اور تتھا پانی کے مقامات پر 10 سے 15 گاڑیاں نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔

امدادی ٹیمیں مسلسل کام میں مصروف ہیں تاکہ راستوں کی بحالی اور سیاحوں کے انخلاء کو یقینی بنایا جا سکے۔

چترال، گرم چشمہ، یوجوع، بشقیر، ایژ و دیگر علاقوں میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہوئی۔ سڑکوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا، شہری محفوظ مقامات منتقل ہوگئے۔

پاک فوج کا ریسکیو و بحالی آپریشن

شاہراہِ بابوسر اور قراقرم میں حالیہ سیلاب کے باعث پھنسے سیاحوں اور مسافروں کے لیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو اور بحالی آپریشن جاری ہے۔

سیاحوں اور مسافروں کو پاک فوج نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، اب تک ہیلی کاپٹر کی 15 سورٹیز کے ذریعے سیاحوں اور مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

تھلیچی سے چلاس تک کئی مقامات کلیئر کر دیے گئے جبکہ تتہ پانی اور جلی پور میں روڈ کلیرئنس کا کام جاری ہے۔ گندالو نالہ پر تین مقامات بند ہیں، امدادی سرگرمیوں کے لیے بهاری مشینری روانہ کر دی گئی۔