|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

اسلام آباد:عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف ) نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے کی قانونی ترمیم پر اعتراض کر دیا ہے اور اسے واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ کمیشن کسی صورت شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کریگا۔

لاء ڈویژن نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ابھی تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے، جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے نجی قانون سازی کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے لاء ڈویژن سے واضح موقف اختیار کرنے کو کہا ہے ۔ قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم  قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کے عوامی افشا کو محدود کرنے کے لیے صرف اس وقت منظور کی جب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ان ترامیم کے بارے میں استفسار کیا ہے ۔ بتایا گیا کہ یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بنیں کیونکہ سینیٹ نے بل پر ووٹ نہیں دیا ہے۔

بل قومی اسمبلی میں گزشتہ سال مئی میں ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے پیش کیا تھا، قومی اسمبلی نے دفعہ 138 میں ترمیم کی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری گزٹ میں ہونے والے انکشافات کی حد کا تعین سرکاری گزٹ میں کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے این اے او میں حالیہ ترامیم کے بارے میں بھی بریفنگ لی۔ صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے این اے او (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی تھی جس کے تحت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔

نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کی مدت ملازمت گزشتہ ہفتے ختم ہونے والی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ  2022 کی حکومت نے چیئرمین نیب کی  مدت میں توسیع سے متعلق اصل شق کو حذف کیا تھا تو آئی ایم ایف نے اس پر اعتراض کیا تھا اس وقت آئی ایم ایف کا خیال تھا کہ توسیع سے پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم اب آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین سمیت اہم تقرریوں کے لیے زیادہ شفاف طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *