موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں کفایت شعاری پالیسی کا اعلان ایک اہم اقدام ہے، جس کے تحت غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی تسلسل میں حکومتِ بلوچستان نے بھی اس پالیسی کو اپناتے ہوئے اقدامات شروع کیے ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اسی نوعیت کی صورتحال ماضی میں کورونا (COVID-19) کے دوران بھی دیکھنے میں آئی تھی، جب ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔ تاہم اُس وقت ایک احسن اقدام کے طور پر والدین کو ریلیف فراہم کیا گیا، جس کے تحت بعض نجی اسکولوں نے مکمل فیس معاف کی جبکہ کئی اداروں نے 25 فیصد تک رعایت دی۔
موجودہ حالات میں ایک بار پھر بلوچستان بھر میں تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب نجی اسکولز کی جانب سے مارچ کی مکمل فیس پہلے ہی وصول کی جا چکی ہے۔ مزید برآں رمضان المبارک کی آمد، گھریلو اخراجات میں اضافے اور عیدالفطر کی تیاریوں نے والدین پر مالی بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس سے عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
چائلڈ رائٹس موومنٹ بلوچستان حکومتِ بلوچستان، بالخصوص وزیر اعلیٰ جناب سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین کے لیے فوری ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔ جیسا کہ کورونا کے دوران فیسوں میں رعایت دی گئی تھی، اسی طرز پر اب بھی نجی تعلیمی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ فیسوں میں مناسب کمی یا رعایت فراہم کریں، تاکہ والدین اس مشکل وقت سے باعزت طریقے سے نکل سکیں۔