|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2026

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو پندرہ نکاتی امن منصوبہ بھیج دیا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس منصوبے میں واشنگٹن کی جانب سے یہ بنیادی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کے مواد کی افزودگی کا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔ +
مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا نے ایران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیطنز، اصفہان اور فردو میں قائم اپنے جوہری پلانٹس کو مکمل طور پر ختم کردے۔
مزید برآں پندرہ نکاتی ایجنڈے میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ تہران خطے میں اپنے ہمنوا گروہوں کی مالی معاونت بند کرے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حمل کے لیے محفوظ زون قائم کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا خطے میں کم از کم ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا خواہش مند ہے، تاکہ اس دوران ایران کے ساتھ ان پندرہ نکات پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ بندی کیلئے پاکستان کی ثالثی کے حوالے سے رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان اس میں مرکزی کردار ادا کررہاہے یہ ایک مثبت عمل ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان جاری بحران کے خاتمے کے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، امریکا اور ایران کی رضامندی کی صورت میں مذاکرات کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ خطے اور دنیا بھرمیں امن واستحکام کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور تنازع کے جامع تصفیے اور بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کا بیان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرشیئرکردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے صدر عباس عراقچی اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کو ٹیگ کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کا تعمیری کردار جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیاتھا۔
گزشتہ روز مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ ہوا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں ایران کے ہونے والے مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔ بہرحال اس وقت سب کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں کہ مذاکرات کب شروع ہونگے اور کتنے بامقصد ثابت ہونگے جبکہپاکستان اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا ہے کہ امریکہ اسرائیل ایران کے درمیان بامقصد مذاکرات ہوں اور جنگ بندی ممکن ہو مگر امریکہ اور اسرائیل پر ایران کو اعتبار نہیں کہ وہ مذاکرات کیلئے سنجیدہ کوشش کرینگے کیونکہ عمان میں جب مذاکرات ہورہے تھے تو اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے حملے شروع کئے اور ایرانی قیادت سمیت تنصیبات اورعوامی مقامات کو نشانہ بنایا جس کے ردعمل میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
بہرحال غیر یقینی کی صورتحال اب بھی برقرار ہے، آبنائے ہرمز بند ہے، توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کے بحران نے عالمی معیشت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے پاکستان سمیت عالمی ممالک اور عالمی اداروں کی یہی کوشش ہے کہ جنگ بندی ہو، خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں کمی آئے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کتنے بامقصد ہونگے جو فریقین خاص کر ایران کیلئے قابل قبول ہو ں،اس بارے میںکچھ کہنا قبل ازوقت ہے مگر امید ہے کہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کیلئے پیشرفت ہوگی تاکہ عالمی امن اور معیشت کا پہیہ چل پڑے۔