|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2026

اْستاد عبدالستّار بلوچ کا شمارجدید بلوچی موسیقی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نامور بلوچ میوزیشن اْستاد نظر محمدنسکندی سے ہندی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کر کے ایک ایسے دور میں بلوچی موسیقی اور گائیکی کو اپنایا جب بلوچ اپنی قومی موسیقی اور شاعری سے بیگانہ تھے۔

 

بلوچی موسیقی کا دائرہ انتہائی محدود تھا کراچی جیسے شہر کے بلوچ علاقوں جیسے لیاری، گولیمار، ملیر و دیگر بلوچ آبادیوں میں شادی بیاہ کی تقریبات اور تہواروں کے مواقع پر قوالی اور ہندی فلموں کے گیت اور گانوں کی روایت اور رجحان نے بلوچوں کو اپنی زبان، قومی موسیقی اور شاعری کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایسے حالات میں اْنہیں اپنی قومی موسیقی، زبان اور قومی شاعری کی طرف راغب کرنا ایک انتہائی مشکل اور کھٹن کام تھا لیکن اْستاد ستّار بلوچ نے اپنے جگری دوست اْستاد شفیع بلوچ کے ساتھ مل کر نہ صرف اس رجحان اور روایت کے خلاف علم بغاوت بلندکی بلکہ بلوچی موسیقی کے اندر ایک انقلاب برپا کر دیا۔

 

ان کا یہ انقلاب صرف انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھا نہ ان کے پاس کوئی بڑا ادارہ تھا، نہ انہیں کوئی مالی اور سرکاری حمایت و تعاون حاصل تھی اور نہ سیاسی حالات ان کے لیے موافق تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے بلوچی موسیقی میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔ البتہ ان کے پاس ایک قومی جذبہ اور کمٹمنٹ ضرورموجود تھی جو ہر لمحہ ان کی رہنمائی اور مدت کرتا رہا۔انہوں نے اس عمل کا آغاز سب سے پہلے مراد آوارانی کے مشہور بلوچی ڈرامہ ’’شہناز‘‘ سے کیا جس میں انہوں نے اپنے دوست شفیع بلوچ کے ساتھ مل کر احمد ظہیر کے بلوچی گیت:


سر کن اِت احوالاں زری نوداں
سارت ء ْ وشّ گامیں دلبری کوشاں


کی کمپوزیشن کردی، بعد ازاں اس ڈرامے کو 1958میں مستونگ کے بلوچ قومی کانفرنس کے موقع پر اسٹیج کیا گیا جس سے انہیں حوصلہ اورقومی پزیرائی ملی پھر انہوں نے پھیچے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی دوران جب بلوچستان میں ایوبی آمریت اور مارشل لا کے خلاف تحریک اْٹھی تو اْستاد ستّار بلوچ اوراستاد شفیع بلوچ نے بھی اس اْبھرتی ہوئی تحریک کا ساتھ دے کر اس میں موسیقی کے ذریعے قوم پرستی کے خوبصورت رنگ بھر دیئے۔

 

جب 1958میں کنکری گراؤنڈ کراچی میں نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ایک عالی شان جلسہ عام منعقد ہوا جس میں بلوچ رہنماؤں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، سردار خیربخش مری، میر گل خان نصیر اور دوسرے بلوچ رہنماؤں نے خطاب کیا تو اسی جلسے میں اْستاد ستّار بلوچ نے میر گل خان نصیر اور آزاد جمالدینی کے یہ مشہور انقلابی گیت با الترتیب پیش کر کے نہ صرف جلسے کے شرکاء سے داد وصول کی بلکہ انہیں اپنے قومی فکر اور روایت سے پیوست بھی کردیا:


قدم قدم روان بہ بِت
دلیر ء ْ پہلوان بہ بِت
٭
ما بلوچیں، ما بلوچیں ما بلوچ
ما بلوچستانء ِ ماہ ء ْ روچ


جب ساٹھ کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آر گنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تو وہ ابتدائی دنوں سے ہی اس بلوچ طلباء تحریک کے ساتھ منسلک ہو گئے بعد میں یہ رشتہ گہری دوستی میں بدل گئی جب بی ایس او نے کراچی یونیورسٹی میں سالانہ ادبی اور ثقافتی تقاریب کا آغاز کر دیا تو ستّار بلوچ اور شفیع بلوچ نے رضا کارانہ طور پر اپنے خدمات پیش کر دیئے۔

 

جب بھی بی ایس او نے کراچی یونیورسٹی ، این ای ڈی انجنیئرنگ یونیورسٹی، ڈاؤ میڈیکل کالج، اْردو کالج، عبداللہ ہارون کالج اور کراچی کے دیگر تعلیمی اداروں میں اپنے ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے۔ تو محفل موسیقی کے پروگراموں کو رونق بخشنے میں استاد ستّار اور شفیع بلوچ اگلی صف میں کھڑے تھے۔

 

بلکہ بی ایس او کی پوری تاریخ اور تحریک میں استاد ستّار بلوچ اورشفیع بلوچ کی موسیقی ، گائیکی اور انقلابی وقومی اشعار نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ یوں استاد ستّار بلوچ نے پہلی دفعہ 1975میں بی ایس او کے چوتھے کونسل سیشن کے موقع پر ڈاؤمیڈیکل کالج کراچی میں ماسٹر عبدالمجید گوادری کی لکھی ہوئی قومی ترانہ ’’ما چْکیں بلوچانی‘‘ کو انہتائی خوبصورت دھن کے ساتھ پیش کر کے اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ بعد میں اسے بلوچوں کی قومی ترانے کی حیثیت بھی حاصل ہو گئی اس لیے نہ صرف بی ایس او کے ہر پروگرام اور تقریب کا آغاز اِسی ترانے سے ہوا بلکہ بلوچوں کی ہر قومی تقریب سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبات تک کا آغاز اسی قومی ترانے سے ہونے لگا۔ یوں جب بلوچ تحریک چل پڑی تو استاد ستّار بلوچ اور شفیع بلوچ نے خود سمیت بلوچی موسیقی کو بھی اس تحریک اور جد وجہد کے ساتھ جوڑ دیا۔

 


بی ایس او کے ساتھ ان کا فکری اور نظریاتی رشتہ اور گہری دوستی آخری وقت تک قائم رہا۔ اس لیے وہ بی ایس او کے قومی کونسل سیشن ، تقریب حلف برداری، ادبی و ثقافتی پروگراموں میں دو جان (ستّار، شفیع) ایک قالب کی صورت میں شریک محفل ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے فنِ موسیقی، قومی گیت اور انقلابی اشعار کے ذریعے بلوچستان کی قومی تحریک اور سیاست کو گھر گھر قریہ قریہ تک پہنچانے میں بی ایس او اور بلوچ طلباء تحریک کا ساتھ دے کر ایک تاریخ ساز اور انقلابی کردار ادا کیا۔
بی ایس او کے ایک سابق مرکزی رہنما بیزن بزنجو لکھتے ہیں کہ استاد ستّار بلوچ کا ’’بلوچ میوزیکل کلب ‘‘ صرف موسیقی کی تربیت گاہ اورساز بجانے کا مرکز نہیں تھا بلکہ اسے ایک قومی اور سیاسی مرکز کی حیثیت بھی حاصل تھی جہاں بلوچی دْھن اور کمپوزیشن کی تخلیق و ترتیب کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فکری نشستیں بھی ہوا کرتی تھیں۔

 

اس بات کی مزید تصدیق کرتے ہوئے کامریڈ واحد لکھتے ہیں کہ استاد ستّار کا کلب بلوچ دانشوروں اور نوجوان قوم پرست رہنماؤں کی سیاسی اور فکری بحث و مباحث کا ایک مرکز ہوا کرتا تھا جہاں لا لالعل بخش رند، یوسف نسکندی ، اکبر بارکزئی، شہیدفدا احمد بلوچ، ایوب جتک،ڈاکٹر مالک، منظور احمد گچکی، بیزن بزنجو، ڈاکٹر بدل خان ، چیئرمین غلام محمد شہید، سید شیر جان بلوچ، ڈاکٹر یٰسین ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی سمیت سید ہاشمی، مراد ساحر، جی آر مْلّا ، مبارک قاضی، شہید صبادشتیاری، بیگ محمد بیگل و دیگرادباء اور شعراء بھی تشریف لایا کرتے تھے۔ موسیقی اور بلوچی شاعری سمیت بلوچ تحریک اور قومی سیاست کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کیا کرتے تھے۔


استاد ستّار بلوچ کئی خصوصیات اور اوصاف کی مالک تھیں، وہ ایک انسان دوست، قوم پرست اور پیار و محبت کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنے فن کو کبھی بھی اپنا ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے بلوچ قوم کی قومی آگہی اور سماجی شعور کا حصّہ بنا کر بلوچ تحریک کے ساتھ جوڑ دیا۔ انہوں نے بی ایس او سے پیسوں کا تقاضا کیا اور نہ کبھی شادی بیاہ کی تقریبات میں کسی سے پیسوں کی طلب کی بلکہ بعض اوقات اپنے جیب سے شاگردوں کی مالی معاونت بھی کیا کرتے تھے۔ چونکہ اسے اپنے فن ،زبان اور زمین سے بے پناہ پیار اور محبت تھا اس لیے انہوں نے اپنی فنی زندگی کے تقریبا َپچاس سال بلوچی موسیقی کی خدمت میں گزارے، خود کسمپرسی اور تنگدستی کی زندگی بسر کی لیکن بلوچی موسیقی کو ہر طوفان اور ہر مصیبت سے محفوظ رکھ کر اسے ایک جدید شناخت اور پہچان عطا کی کردی، اسے ہر طرف پھیلا کر اس کا دائرہ انتہائی وسیع کر دیا۔ یہ اس کی فکری اور نظریاتی کمٹمنٹ کا ایک ایسادرخشان باب ہے جو ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ انہوں نے اپنے فن اور موسیقی کو Institutionalizedکر کے سینکڑوں شاگرد پیدا کردیئے جن میں امام بخش مستانہ، شیر محمد، عارف بلوچ، حفیظ بلوچ ،مسلم حمل ، شوکت مراد، خلیل سہرابی ، شاہ میر سبزل، خورشید بلوچ،اسلم اسد، لطیف مندی، نبیل بلوچ، امام بخش مجنون، شاہ جہان داؤدی، خلیل رونق و دیگر شامل ہیں۔ وہ بلوچ فنکاروں کی ایک پوری نسل کے استاد ، اتالیق اور منٹور ہیں۔ اس لیے جدید بلوچی میوزک انڈسٹری کے قیام میں استاد ستّار بلوچ اور ان کے دستِ راست شفیع بلوچ کا کردار ہر اوّل دستے کا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ خود کبھی بھی اس انڈسٹری کے بینفیشری نہیں رہے۔ ان کا ایک اور فنی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ماڈرن بلوچ موسیقی کے اندر کلاسیکل موسیقی کے رنگ بھی بھر دیئے، اس میں جدّت اور توانائی پیدا کردی۔ نئے دھن تخلیق کر کے بلوچی مزاج کے مطابق ان کی کمپوزیشن کردی اور بلوچی موسیقی میں تخلیقیت کا عنصر شامل کر دیا۔ اس لیے اسے نہ صرف ماڈرن بلوچی موسیقی کا معمار اور بانی بلکہ استاداور استادوں کا استاد کہا جاتا ہے۔

 


پیپلز پارٹی نے انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی شان میں قصیدہ خوانی کے لیے بھاری معاوضوں کی پیشکش کردی لیکن انہوں نے ان سب پیشکشوں کو ٹکرا دیا۔ بلکہ ستر کی دہائی میں انہوں نے اپنے آپ کو گراموفون کمپنی اور ریڈیو پاکستان سے اس لیے الگ کردیا کہ بقول ان کے وہ بلوچی موسیقی ،زبان اور شناخت کو نقصان پہنچا رہے تھے لہٰذا وہ بحیثیت ایک بلوچ فنکار کے ان بلوچ دشمن عمل کا حصّہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ لیکن فی زمانہ کمٹمنٹ کی وہ روایت باقی نہیں رہی بلکہ اب تو سیاسی کارکنان اور اپنے وقت کے بڑے بڑے کامریڈ برائے فروخت سیاسی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ کبھی مسلم لیگ میں تو کبھی پیپلز پارٹی میں، صبح ایک سرکاری جماعت میں اور شام کو دوسری سرکاری پارٹی میں ان کی شمولیت ہوتی ہے۔ ایک سیاسی تماشا لگا ہوا ہے۔ فن سے لے کر سیاست تک ہر جگہ نظریہ اور کمٹمنٹ ناپید ہے۔ آج اگر کراچی جیسے میٹروپولٹین شہر کے بلوچ آبادیوں میں اپنی مادری زبان کے گیت اور گانوں کو اشتیاق سے سننے اور گانے کا زبردست رجحان پایا جاتا ہے تو اس کا سارا سہراستاد ستّار بلوچ اور اس کے دوست شفیع بلوچ کے سر جاتا ہے، کہ انہوں نے کراچی کے بلوچوں کو نہ صرف یہ احساس دلایا بلکہ انہیں قومی شعور دی،اْ نہیں جگایا اْنہیں اپنی قومی موسیقی کے ساتھ پیوست کر دیا ہے۔

 

علاوہ ازیں وہ انتہائی درجے کے خود دار بلوچ تھے۔ جب اسے کینسر کا موذی مرض لاحق ہوا تو ایم کیو ایم سمیت بلوچستان کے اس وقت کے وزیراعلٰی جام یوسف نے بھی مفت علاج معالجے کی پیشکش کر دی لیکن انہوں نے باعزّت موت کو ترجیح دے کر اپنے کردار اور خود داری پر آنچ آنے نہیں دیا چونکہ وہ اعلٰی انسانی اور بلوچی اقدار کے حامل انسان تھے تو انہوں نیاپنے ان اصولوں پہ سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی پوری زندگی انہی زرّین اصولوں کے تحت بسر کردی۔ حالانکہ کئی سیاسی رہنماؤں اور کامریڈوں نے بلوچ تحریک اور جد و جہد سے انحراف کر کے تاریخ کی مخالف سمت میں جا کر کھڑے ہو گئے لیکن استاد ستار آخری دم تک اپنے اصولی موقف پہ قائم رہے، نہ لالچ نہ پیسہ اور نہ بیماری اسے کمزور کر سکا اور نہ حکومتی مراعات دہشت و وحشت اس کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش لا سکے، یوں وہ بلوچی موسیقی کی پوری تاریخ میں ایک انتہائی منفرد اور اکلوتے کردار کے حامل فنکار تھے، چونکہ اس کا بنیادی تعلق بلوچ قومی موومنٹ سے تھا اس لیے انہوں نے اپنی فنی زندگی کے پچاس برس اپنی جوانی اور پوری زندگی اسی کی بے لوث خدمت میں گزارے، جب سن دو ہزار کے بعد جدید بلوچ نشاۃ الثانیہ کا آغاز ہوا تو وہ اس اْبھرتی ہوئی تحریک کو دیکھ کر بہت سرور اور شادان دیکھائی دیئے۔ لیکن بہت جلد آزاد فضاؤں کی خواہش اور حسرت دل میں لے کر 14اپریل 2006کو اْس جہان چلے گئے جہاں پہلیسے اس کے کئی فکری، نظریاتی اور فنی دوست آسودہ خاک تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے پیچھے فن، کمٹمنٹ اور نظریاتی وابستگی کی جو لگیسی چھوڑی ہے وہ بڑا شاندار ، لا جواب ، قابلِ رشک اورناقابلِ فراموش ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *