کوئٹہ: بولان میڈیکل کالج کے سیکنڈائر کے طلبہ گزشتہ دو روز سے امتحانات کے غیر منصفانہ شیڈول، ماڈیولر نظام کی ناقص عملداری اور انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ نے بغیر کسی باقاعدہ سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے ماڈیولر نظام نافذ کیا اور اچانک عیدالفطر سے قبل تحریری جبکہ عید کے فوراً بعد زبانی امتحانات کا اعلان کر دیا، جس سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں۔
طلبہ کے مطابق انہوں نے متعدد بار پرنسپل اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ امتحانات عیدالفطر کے بعد منعقد کیے جائیں تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ تیاری کر سکیں اور عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منا سکیں۔ تاہم، آج پرنسپل سے ملاقات کے دوران طلبہ کو نہایت افسوسناک، دھمکی آمیز اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایف آئی آر درج کرنے، مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے، داخلے منسوخ کرنے، امتحانات میں ناکام قرار دینے اور سالانہ نظام میں منتقل کرنے جیسی سنگین دھمکیاں دی گئیں۔
طلبہ نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبہ کے ساتھ ایسا دھمکی آمیز اور ہراساں کن رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اپنے آئینی، جمہوری اور تعلیمی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو ایف آئی آر، انتظامی کارروائی اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ تعلیمی اقدار اور ادارہ جاتی وقار کے بھی منافی ہے۔ طلبہ کا مزید کہنا ہے کہ انتظامیہ مختلف حربوں کے ذریعے نہ صرف انہیں ہراساں کر رہی ہے بلکہ اپنی انتظامی نااہلی، بدعنوانی اور دیگر سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ Pakistan Medical and Dental Council کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وائس چانسلر اور نگرانِ امتحانات نے ان کے جائز تحفظات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ کا طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی روایات بلکہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور ایک عظیم درسگاہ کے وقار کے بھی سراسر منافی ہے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا واضح اور واحد مطالبہ ہے کہ بولان میڈیکل کالج کے دوسرے سال کے تمام امتحانات عیدالفطر کے بعد منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ ذہنی سکون، بہتر تیاری اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے امتحانات دے سکیں۔ طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری کالج انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
Leave a Reply