|

وقتِ اشاعت :   October 4 – 2019

کوئٹہ : اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے کہا ہے کہ این اے 265پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے نے اپوزیشن جماعتوں کے تمام خدشات کو درست ثابت کیا ہے الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد ضمنی انتخابات کا اعلان کرے یہ بات مسلم لیگ (ن) کے صدروقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء فرحت اللہ بابر، فیصل کریم کنڈی، خواجہ آصف، عبدالقادر پٹیل، جمعیت علماء سلام کے رکن قومی اسمبلی و صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنماء عبدالرشید ناصر، ن لیگ کے صوبائی صدر جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ،جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ،پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماء سابق سینیٹر روزی خان کاکڑ، طاہر خان ہزارہ،مسلم لیگ ن کے صوبائی رہنماء نسیم الرحمان ملاخیل نے نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ٹیلی فونک گفتگو،خیر سگالی کے پیغامات اور سراوان ہاؤس میں ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے نوابزادہ لشکری رئیسانی کو این اے265پربلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل کے تاریخی فیصلے پر مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل میں رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جو این اے 265پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے درست ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت ایک شخص کو تحفظ دینے کی بجائے عدالتی فیصلے کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ انتخاب لڑے۔ اس موقع پر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں عدالتی فیصلہ سے اگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے کے لوگوں کو حق نمائندگی سے سازش کے تحت محروم رکھنے کیلئے کوشش کی گئی کہ جعلی طریقے سے غیرسیاسی لوگوں کو پارلیمنٹ میں لایاجائے۔

تاہم عدالتی فیصلے نے سازشی عناصر کے مقروہ عزائم کو خاک میں ملادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف امیدوار نے بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے ہم اپنے عوامی ووٹ اور مینڈیٹ کا دفاع کر نے کے لئے عدالت عظمیٰ کا دروازا بھی کھٹکھٹائیں گے اور امید ہے کہ عدالت عظمیٰ صوبے کے لوگوں کو انصاف فراہم کریگی۔