|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2019

کوہلو: سابق وزیراعلی بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنے تنظیمی دورے پر کوہلو پہنچ گئے۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری خیر جان بلوچ،صوبائی صدر عبدالخالق بلوچ،مرکزی سیکرٹری خواتین یاسمین لہڑی،مختیار چھلگری بھی ان کے ہمراہ تھے کوہلو پہنچنے پر مرکزی رہنما محراب بلوچ،ضلعی صدر محمد دین مری،ضلعی جنرل سیکرٹری وڈیرہ علی نواز مری سمیت ضلعی عہدیداروں اور کارکنوں نے سینکڑوں کی تعداد میں والہانہ استقبال کیا ہے۔

نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی،معاشی اور خارجی و داخلی عدام استحکام کا شکار ہے بے روزگاری اورمہنگائی سے عام آدمی کا پارلیمان سے اعتماداٹھتا جارہا ہے،عدلیہ اور میڈیا دباؤ کا شکار ہیں اس نظام کے اندر ملک میں نہ معاشی اور نہ ہی سیاسی استحکام قائم ہوگی اور نہ ہی لوگوں کے درمیان آپس میں مہر ومحبت کی فضا قائم ہوسکتی ہے،پچھلے الیکشن دھاندلی شدہ تھے اور موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ ان مسائل کا حل تلاش کریں صوبے میں رشوت کا بازار گرم ہے۔

لائن آڈر کی صورتحال گھمبیرہوچکی ہے ترقیاتی کام رک چکے ہیں ہماری جدوجہد وفاق اور صوبے کے درمیان روابط کاری،بلوچ قومی جدوجہد نگ و ناموس اور سائل وسائل کے تحفظ کیلئے ہے بلوچستان میں دریافت ہونے والے قدرتی معدنیات سیندک،ریکوڈک،سوئی گیس،اور گوادر پورٹ پر سب سے پہلا حق یہاں پر بسنے والے اقوام کا ہے اربوں روپے کے ذخائر بلوچستان سے نکلتے ہیں لیکن اس کے ثمرات سے یہاں کے محروم ہیں۔

حال ہی میں جو نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ بنائی گئی یہ ماورا آئین اقدام ہے کوسٹل کی پوری زمین صوبائی ہے جیوانی سے لے کر سونمیانی تک تمام ساحل بلوچستان کے عوام کی میراث ہے اس سے جو مالی فوائد حاصل کئے جائیں اس پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا بنتا ہے نیشنل پارٹی کا روز اول سے موقف رہا ہے کہ صوبوں کو خود مختیار کیا جائے،گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان کے عوام کو مسفید کیا جائے۔

موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور باپ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں وزارتوں کے حوالے سے مسائل چل رہے ہیں کوئی کلیش نہیں ہے اور ہم کسی غلطی فہمی میں نہ رہیں، کوہلو نیشنل پارٹی کا گڑھ ہے یہاں کے باشعور عوام نے نیشنل پارٹی پر جو اعتماد کیا ہے ان کے حقوق کی تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔