|

وقتِ اشاعت :   January 27 – 2020

اسلام آباد : چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ اور سپیکر کے درمیان مسئلہ حل کردیا ہے،جام صاحب ہماری پارٹی کے سربراہ ہیں،وہی ہمارے وزیراعلی رہیں گے،ہم جام کمال خان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

اتوار کو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وزیر دفاع پرویز خٹک اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ اور سپیکر کے درمیان جو مسئلہ چل رہا تھا اسے حل کردیا ہے،اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے آج سے مسئلے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جام صاحب ہماری پارٹی کی سربراہ ہیں،وہی ہمارے وزیراعلی رہیں گے،ہم جام کمال خان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ مشکور ہوں کہ مجھے بلایا اور میرا موقف سنا گیا۔انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں بلوچستان کے مسائل حل ہوں،چیئرمین سینیٹ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور پرویز خٹک کا شکر گزار ہوں کہ میرا موقف سنا گیا۔انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں مضبوط پاکستان کے لیے بلوچستان کو مضبوط بنائیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ پہلے سے معاملات کو بہتر کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، اب بلوچستان اسمبلی اور حکومت کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جام کمال کی کارکردگی سے مطمئن ہیں،جام کمال ہی وزیر اعلیٰ ہونگے۔قدوس بزنجونے کہا کہ ہم چاہتے ہیں صوبے کے مسائل وہیں حل ہوں،سب نے میری بات سنی اور معاملات کے حل کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی پاکستان کو مضبوط کرنا چاہتی ہے،پنجاب اور بلوچستان کے مسائل حل کر لیے گئے ہیں،ہم چاہتے ہیں مضبوط پاکستان کے لیے کام کریں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ڈسپلن قائم کیا ہے جو ناگزیر ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کو اتنے مسائل نہیں ہیں جتنے میڈیا بیان کر رہا ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ وزیر اعظم نے اتحادیوں کے مسائل کے حل کے لیے کمٹی بنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد لائے تو ہم اس کو فیس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اتحادیوں سے رابطے کے لیے کمیٹی بنائی ہے،کے پی کا مسئلہ بھی حل ہوگیا، جس نے ہوا بنایا تھا اس کاْ خان صاحب نے فیصلہ کردیا،پنجاب اور بلوچستان کا مسئلہ بھی حل ہوچکا،جو رہنما پبلک میں جائے گا اسے سزا دی جائے گی۔

چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سپیکر بلوچستان اسمبلی کے درمیان معاملہ حل ہوگیا ہے، مسائل کو مل کر حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ میں عدم اعتماد اپوزیشن کی طرف سے تھا،بلوچستان میں پارٹی کے اندر معاملات تھے،سب نے میری ایشو کو حل کرنے کے لیے خلوص نیت سے کام کیا۔