کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، صوبائی وزیر مواصلات وتعمیرات میر عارف جان محمد حسنی، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر سمیت دیگر محکموں کے سیکریٹری اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار اور سیکریٹری مواصلات نورالامین مینگل کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔
ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اب تک 20ارب سے زائد فنڈز کا اجراء کیا گیا ہے جبکہ محکمہ مواصلات کے 1273ارب روپے لاگت سے جاری 797ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی پروگریس 58فیصد ہے، اجلاس کو ژوب، مکران، نصیرآباد اور سبی ڈویژن میں اہم نوعیت کی سڑکوں کی تعمیر منصوبوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔
جن میں زیارت روڈ کو دورویہ بنانے، دکی چمالنگ روڈ، سبی تلی روڈ، دالبندین تا زیارت بالانوش، قمردین کاریز تا ملتانئی روڈ، تربت بلیدہ روڈ، تربت مندروڈ، ہوشاب آوران خضدار روڈسمیت دیگر منصوبے شامل ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے طول وعرض میں مواصلاتی رابطوں اور روڈ نیٹ ورک کی بہتری سے معاشی اقتصادی، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ہم بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھاکر سماجی ومعاشی ترقی کے اہداف حاصل کریں گے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تعمیراتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اجلاس کو چارسوملین روپے کی لاگت سے ہنہ میں ہل پوائنٹ کی تعمیر اور ہزارگنجی نیشل پارک میں تفریحی سہولیات کے منصوبوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبوں میں سیاحتی سہولتوں کو عالمی معیارکے مطابق بنایا جائے تاکہ یہ مقامات سیاحوں کی توجہ حاصل کرسکیں۔ وزیراعلیٰ نے عمارتوں کو موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور میٹریل کے استعمال اور ان میں بلوچستان کی تاریخ وثقافت کو اجاگر کرنے کی ہدایت بھی کی۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ٹاؤن ڈویلپمنٹ اینڈ ہاؤسنگ پالیسی کی تیاری کے عمل کی جلد ازجلد تکمیل کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایت انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کی جس میں کوئٹہ سمیت دیگر شہروں کی ماسٹر پلاننگ کے منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، سیکریٹری اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عبداللطیف کاکڑ نے اجلاس کو بریفنگ دی، پارلیمانی سیکریٹری برائے کیو ڈی اے بشریٰ رند، چیف سیکریٹری فضیل اصغر، اے سی ایس پی اینڈ ڈی عبدالرحمن بزدار، سیکریٹری اطلاعات عرفان غرشین، اسپیشل سیکریٹری خزانہ لعل جان جعفر، ڈی جی کیوڈی اے سمیت دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کوئٹہ کی ماسٹر پلاننگ کے منصوبے کی تخمینہ لاگت تین سو ملین روپے ہے۔
منصوبے کے لئے کنسلٹنٹ کی تعیناتی کے ٹینڈرنگ کاعمل حتمی مراحل میں ہے اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے تیس دیگر ٹاؤنز کی ماسٹر پلاننگ کے منصوبے پر بھی عملدرآمد کیا جارہا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماسٹر پلاننگ کا مقصد شہروں کی تعمیروترقی کو منظم خطوط پراستوار کرکے انہیں وسعت دینا ہے تاکہ بہتر شہری سہولتیں دستیاب ہوسکیں، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ماسٹر پلاننگ کی تکمیل کے بعد اس پر عملدرآمد کے لئے ایکٹ کے طور پر اسمبلی سے منظور کراکے نافذ کیا جائے گا تاکہ اسے قانونی تحفظ مل سکے اورکوئی بھی فرد واحد یا ادارہ ماسٹر پلاننگ کی خلاف ورزی نہ کرسکے۔