کوئٹہ: سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کوئٹہ بار ایسوسیشن کے انتخابات وکلاء لائرز گروپ کی شاندار و بھرپور کامیابی پر بلوچستان بھر کے وکلاء و پروفیشنل لائرز گروپ کے کارکنوں و رہنماؤں کی اجتماعی و شعور ی اتحاد و اتفاق لائق تحسین و قابل ستائش قرار دیا ہے جس پر تمام ساتھی و دوست منتخب صدر و جنرل سیکریٹری،اقبال کاسی، علی حسن بْگٹی و تمام مردو خاتون منتخب نمائندوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
پروفیشنل لائرز گروپ پاکستان بھر میں وکلاء کا واحد نمائندہ پلیٹ فارم ہے جس میں رنگ،نسل،زبان،علاقہ سیاسی،مذہبی وابستگی سے بالاتر اپنے قائد حامد خان کی سربراہی میں آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی،عدلیہ و بار کی آزادی، وکلاء کی وقار،فلاح کے تحفظ سمیت عدلیہ میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ تبدیلیوں کے لئے کوشاں ہے جبکہ اس کا مقابلہ ایسے مفاد و موقع پرستی،کاسہ لیسی سے سرشار گروہ سے ہے۔
جس کے خلاف خاک وطن کے فرزند وں کے اندر حقوق کے حصول کا شعور و آگاہی و جدوجہد کے ذریعے بار کے پلیٹ فارم کو ایک موثر ادارجاتی و اجتماعی تصور و متحرک و مستعد قیادت کے زرئیعے پروان چڑھانا اس کی مقصود ہے اگرچہ باقاعدہ اس گروپ کی ضرورت پندرہ سال قبل صوباء بارکونسل کے 2005 کے انتخابات کے بعد محسوس کی گء اور اس کی تشکیل کا آغاز 2010 سے جناب باز محمد کاکڑ شہید کی رہنماء و سرپرستی میں ہوا تاہم 2013 میں اس کی عملی باقاعدہ داغ بیل ڈالی گئی۔
جس میں باز محمد کاکڑ شہید کی سوچ و فکر،منیراحمد خان کاکڑ کی قربانی سے سرشار جذبہ و عسکر اچکزئی شہید کا جوان خون و محنت میں ہم سب دوستوں،ساتھیوں کے لبیک کہنے اور اتفاق رائے و مشاورت کے بعد باز کاکڑ شہید نے سلیم خان لاشاری کو رابطہ کار مقرر کرکے اس کی تنظیم سازی کے کاوشوں کا آغاز کیاگیا اب یہ پودا ایک سائیہ دار درخت بن چکا ہے جس نے صوبے کے شہری و بنیادی حقوق و عدلیہ کی آزادی کے تحفظ،وکلاء کے وقار پر سودے بازی کئے۔
بغیر اس کے حقوق کی بازیابی،مسائل کا حل و مشکلات سے نجات،بار کے اداروں میں جمہوری اصولوں پر کاربند رہ کر اس کے بروقت انتخابات کو شفاف طریقے سے انعقاد اس کا طرہ امتیاز ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمیں ایک ایسے گروہ کا سامنا ہے جو اداروں کی بجائے افراد پر تکیہ کرکے ان کے شخصی و گروہی مفادات کے طابع بن کر ادارجاتی و اجتماعی مقاصدوسوچ کو نقصان پہنچا کر اپنے ذاتی مفادات کے لئے عدلیہ و انتظامیہ سے سوداگری میں مصروف ہیں۔
اسی سوچ کے حامل گروہ نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسیشن جوہمارے گروپ نے جیتا تھا بروقت جاری کئے گئے انتخابی شیڈول کو نام نہاد و ناجائز اختیارات کے استعمال کے ذریعے دسمبر میں انتخابی و جمہوری عمل کو روک کر اندرون خانہ ذاتی مفادات کی تکمیل کی خاطر بار کے ادارے کو بے توقیر کیا جارہا ہے مگر چور دروازے سے آنے والے ہر فرد کی مزاحمت کی جائے گی اب وقت آگیا ہے۔
ان منفی قوتوں کے خلاف 27 نومبر 2020 کو بار کونسل کے انتخاب میں آخری فیصلہ کن وار کیا جائے صوبے بھر میں پروفیشنل لائرز گروپ کے امیدواروں کو کامیاب کیا جائے تاکہ یہ قوتیں آئیندہ ھمارے بار کے معاملات کے اندر ادارے کو اپنی ذاتی مفادات کا ذینہ نہ بنا سکیں۔